dushwari

عورتوں کے احترام کا نعرہ لگانے والا، سماج ہی، ان پر مظالم کررہا ہے

عارف عزیز

* ہمارے معاشرہ میں عورتوں کی حالت کیا ہے اور انہیں کس بے دردی کے ساتھ ہوس کا شکار بنایاجارہا ہے، کبھی جہیز کے نام پر تو کبھی مردوں کے حقوق کی ادائیگی کا حوالہ دیکر ماراپیٹا اور زندہ جلایا جارہا ہے، اس کا ایک ثبوت وزارت داخلہ کی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں خواتین پر ظلم وزیادتی کے واقعات دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں

اور نوبت یہ آگئی ہے اوسطاً ہر چھ منٹ میں کوئی نہ کوئی عورت کسی نہ کسی جرم کی لپیٹ میں آجاتی ہے، ہر ۴۷ ویں منٹ پر ایک عورت کی عصمت دری کی جاتی ہے یعنی اس تحریر کے لکھنے سے لیکر اخبار میں شائع ہوکر قارئین تک پہونچنے کے ۱۲ گھنٹوں میں اپنی قسمت پر آنسو بہانے والی خواتین کی تعداد میں ۱۵ کا اضافہ ہوجائے گا۔
نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ تو بتاتی ہے کہ ملک کی ہر پانچ خواتین میں سے ایک خاتون کو جنسی یا جسمانی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر تیسری عورت کو اپنے خاوند یا کسی رشتہ کی سختی کا شکار بننا پڑتا ہے یہی نہیں بلکہ جہیز کے نام پر ۱۷ خواتین کو روزانہ موت کے منہ میں ڈھکیل دیاجاتا ہے اور یوں صرف ایک سال میں ۹۰ ہزار کے قریب عورتیں مردوں کے ہاتھوں کسی نہ کسی جرم کا کاشکار بنائی گئیں اور ان مردوں میں پڑوسی، رشتہ دار، یہاں تک کہ مذہبی رہنما اور بھائی باپ بھی شامل ہوتے ہیں۔
یہ تو ہوا پورے ملک کا حال، اس کے بعد اپنے شہر یعنی مدھیہ پردیش کی راجدھانی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ نئی عمر کی لڑکیوں سے لے کر عمر رسیدہ خواتین تک کسی کی عزت وعصمت محفوظ نہیں، سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران یہاں اغواء وعصمت دری کے واقعات کافی بڑھ گئے ہیں اور صرف ایک سال کے دوران ان کی تعداد علی الترتیب ایک سو اور سواسو درج ہوئی ہیں جن میں ہر عمر کی لڑکیاں اور عورتیں شامل ہیں۔
اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ جب کوئی نوبیاہتا لڑکی جلادی جاتی ہے یا اسے خود کشی پر مجبور کردیا جاتا ہے تو قانون حرکت میں آتا ہے مگر جنسی یا جسمانی استحصال کی شکار عورت کو قانون کچھ بھی فراہم کرنے سے معذور رہتا ہے اور اکثر اسے عدالتوں کے چکر لگانا، گواہوں کی فوج کا سامنا کرنا، رشوت دینا اور فحش جرح وبحث سے گزرنا پڑتا ہے پھر بھی کئی مرتبہ اسے انصاف نہیں ملتا۔
مرکز میں اور ریاستوں میں قائم سبھی حکومتیں زبانی طور پر خواتین کی فلاح وبہبود کا نعرہ لگاتی ہیں، قانون ساز اداروں میں ان کا ریزرویشن کرنے پر زور دے رہی ہیں لیکن جماعتوں کا عملی رویہ کیا ہے اس کی ایک جھلک مذکورہ اعداد وشمار کے آئینہ میں دیکھی جاسکتی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت آزاد ہو تو مرد کا شکار بنتی ہے، خوبصورت ہو تو اس کی آبرو لوٹی جاتی ہے، کہنا نہ مانے اور حقوق کا مطالبہ کرے تو اس پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، رقم کے حصول کے لئے اس کو فروخت کیاجاتا ہے، اس کے خاندان سے بدلہ لینے کے لئے اس کی عزت وعصمت کو داغدار کیا جاتا ہے اور اکثر تو یہ بھی تجربہ میں آیا کہ عور ت کچھ نہ کرے تب بھی اسے ننگا کرکے گھمایا جاسکتا ہے۔
عورتوں پر مظالم کے مذکورہ اعداد وشمار وہ ہیں جو ریکارڈ میں موجود ہیں ان کے علاوہ جن کی کہیں شکایت درج نہیں کرائی گئی یا جو عورت نے خاموشی سے برداشت کرلئے ان کا دائرہ تو اور بھی وسیع ہے، شاید ہمارے پورے سماج کی طرح ، گھروں میں، دفتروں میں، کالجوں میں ، کلبوں، سڑکوں اور محلوں میں یہاں تک کہ دور دراز کے گاؤں میں بھی صبح سے شام تک کی زندگی میں ان جرائم کو دیکھاجاسکتا ہے اور یہ ہمارے اس سماج کا چہرہ ہے جو عورتوں کی عزت و احترام کے نعرے ضرور لگاتا ہے ، خواتین کو عقیدت کا مظہر قرار دیتا ہے مگر عمل کے نام پر اس کی عزت وعصمت دھجیاں اڑانے میں بھی اسے ذراسی شرم نہیں، پھر بھی اس سماج کو ایک ترقی یافتہ سماج کہاجاتا ہے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES