dushwari

آئی بی وتفتیشی ایجنسیاں جمہوریت کو یرغمال بنارہی ہیں

ملکی سلامتی کے نام پر سنگھی منصوبے کو لاگو کرنے کی منظم کوشش 
اعظم شہاب

اگر یہ کہا جائے کہ ملک میں موجود فرقہ پرستی ومذہبی سخت گیری ہی ملک کی جمہوریت و سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے توملک کے مستقبل پر منڈلانے والے خطرے کو کمتر آنکنے جیسا ہوگا۔ کیونکہ ملک کا موجودہ منظرنامہ اس سے بھی بڑے خطرے کا اشارہ کررہا ہے جو دن بہ دن شدید سے شدید تر ہوتاجارہا ہے ۔

یہ سنگین مسئلہ ہے آئی بی وتفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے سنگھی پلان کو لاگو کرنے کی کوشش ، جس سے ملک کی جمہوریت یرغمال ہوکر رہ گئی ہے۔ عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ معاملے میں آئی بی وسی بی آئی کے مابین ٹکراؤ سے ان دونوں ایجنسیوں کے درمیان آپسی تال میل کے ’فقدان‘ کا جو ناٹک سامنے آیا ہے ، اس نے اگر ایک جانب آئی بی کی دیدہ دلیری واضح کردیا ہے تووہیں اس کے طریقہ کار کو بھی عوام کے درمیان لا دیا ہے ۔ گجرات میں آئی بی کے ذریعے دی گئی انفارمیشن کی بنیاد پر عشرت جہاں و اس کے دیگر ساتھیوں کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا جسے سی بی آئی نے جانچ کے بعدجعلی قرار دیا۔ اس سلسلے میں گجرات حکومت کے وزیرداخلہ امیت شاہ سمیت درجنوں اعلی پولیس اہلکار سلاخوں کے پیچھے بھی گئے۔عشرت جہاں انکاؤنٹر معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے اس معاملے میں آئی بی کے ایک سینئر آفسر راجندر کمار کو موردِ الزام ٹھہرایا اور آئی بی کے سربراہ نے اس سلسلے میں گزشتہ دنوں وزیراعظم سے ملاقات کرکے مذکورہ آفیسر کا دفاع کیا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں آئی بی بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے جتنی گجرات کی مودی حکومت اور ان کی پولیس۔سی بی آئی کے ذریعے گزشتہ ڈیڑھ سال سے آئی بی کے افسر راجندر کمار سے تفتیش کرنے کی مانگ کررہی ہے مگر ہنوز کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہو رہا ہے جب سی بی آئی آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو کے ایک بڑے افسر پر ہاتھ ڈالنے کی پوری تیاری کر چکی ہے۔ چونکہ عشرت جہاں کے علاوہ بھی گجرات میں جتنے انکاؤنٹر ہوئے ہیں وہ تمام کے تمام آئی بی کے ذریعے دی گئی اطلاع کی بنیاد پر ہوئے ہیں، اس لئے اگر گجرات کے مودی سرکار میں ہوئے تمام انکاؤنٹر کی جانچ کی جائے تو اس میں سے بیشتر فرضی ثابت ہونگے اور مودی سرکار کے ساتھ ساتھ آئی بی پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔
بات صرف عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ معاملے تک محدود نہیں ہے۔ دہشت گردی کے نام پر بے قصوروں کی گرفتاری کے معاملے میں بھی آئی بی اتنی ہی ذمہ دار ہے جتنی ریاستوں کا متعصب پولیس محکمہ وتفتیشی ایجنسیاں۔ ملک کے سرکردہ لیڈران اور وی آئی پی اشخاص نیز اہم تنصیبات پر ممکنہ حملے کی خبر دے کر آئی بی بے قصوروں کو گرفتار اور ان کے انکاؤنٹر نیز ان پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کا کھناؤنا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیراہتمام مسلم لڑکیوں کی جاری جی آئی او کے متعلق بھی اسی طرح کا الرٹ جاری کیا گیا تھا کہ یہ تنظیم ملک میں جہادی فکر کو فروغ دے رہی ہے۔ آئی بی کی جانب سے جاری کردہ اس الرٹ کو دیگر تفتیشی ایجنسیاں اپنے اپنے مقصد کے مطابق استعمال کرتی ہیں اور پھر شروع ہوجاتا ہے بے قصوروں کی گرفتاری اور ان کا انکاؤنٹراور تھرڈ ڈگری ٹارچر۔ ملک کے داخلی سلامتی اور سیکوریٹی ضروریات کے مطابق آئی بی کی جانب سے جاری کردہ ان الرٹس پر کبھی کوئی تنقید یا ری چیک کی مانگ نہیں کی جاتی، کیونکہ آئی بی کو حکومت کا آنکھ کان سمجھا جاتا ہے اور اس کے الرٹ کو حرفِ آخر۔ مرکز وریاستوں میں اقتدار میں آنے والی حکومتیں آئی بی کے شکنجے میں اس طرح کسی ہوتی ہیں کہ وہ داخلی سلامتی کے حوالے سے اس کے شوشوں کو خدائی حکم کی طرح قبول کرلیتی ہیں ۔ آئی بی اپنے مقصد کے حصول کے لئے دیگر تفتیشی ایجنسیوں سے اس طرح کام لیتی ہے گویا ان کے جاری کردہ الرٹ کو وزیراعظم کے دفتر سے براہِ راست منظوری حاصل ہے۔ آئی بی کی اس دیدہ دلیری اور تفتیشی ایجنسیوں کی اپنے اپنے مفاد کے مطابق آئی بی کے فرمودات پر عمل کرنا ملک کے سامنے ایک سنگین مسئلہ بنا دیا ہے ، جس کا صاف اثر بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان کے انکاؤنٹر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
ہندوستان میں ایک جمہوری نظام ہونے کے باوجود خفیہ ایجنسیاں کسی طرح کی جوابدہی سے پوری طرح آزاد ہیں اور حکومت ایجنسیوں کے جبر کے ذریعے مذہبی اقلیتوں اور قبائلی آبادی کے لئے خوف کا ایک ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ خوف کے اس ماحول کو پیدا کرنے میں یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے عوام کے درمیان کس قدر بے چینی پیدا ہوگی یا حکومتوں کے استحکام پر اس کا کیا اثر پڑے گایا پھر اس سے شہریوں کے انسانی حقوق کس حد تک پامال ہونگے۔حقوق انسانی کی پامالی کرنے والے مرتکبین کو یقین رہتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے واقعات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری میں ایک منظم طریقہ کار نظر آتا ہے اور اس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو پسماندگی سے نکلنے دینے سے روکنا ہے پہلے کمزور ، مزدوروں، مدارس اور علماء کو نشانہ بنایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ بنیاد پرست متشدد ہیں اب تعلیم یافتہ اور یونیورسٹی ایجوکیٹڈ نوجوانوں کو پکڑا جارہا ہے۔ اس کا مقصد صاف نظر آتا ہے کہ اگر ان کی ہمت ٹوٹے گی تو پوری مسلمانوں پر اس کا منفی اثر پڑے گا اور وہ خوف کی نفسیات کا حصہ بنے رہیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی بی ودیگر تفتیشی ایجنسیوں کو اپنی من مانی کرنے کی اسی طرح چھوٹ حاصل رہے گی؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ آئی بی ودیگر تفتیشی ایجنسیاں اپنے مقصد کے حصول کی خاطر ملک کی جمہوریت کو نگل رہی ہیں اور داخلی سلامتی وانسداد دہشت گردی کے نام پر یہ پوری حکومت کو یرغمال بنارہی ہیں۔ اور یہ اس لئے ہورہا ہے کہ آئی بی کا ایک خفیہ پلان ہے جس کا مقصد ملک میں آر ایس ایس کے منصوبے کو ملک میں لاگو کرانا اورمسلمانوں کو اس ملک میں دوسرے درجے کا شہری بنانا نیز ان کی پوزیشن کو مشکوک بنانا۔ اپنے اس خفیہ پلان کو لاگو کرنے میں آئی بی کو جہاں برہمن نواز میڈیا کی مکمل حمایت حاصل ہے ، وہیں تفتیشی ایجنسیاں بھی اس کی مدد کرتی ہیں ، جس کا خمیازہ مسلمانوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ 
یہ مسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ اس سے جمہوریت ، آئین اور انصاف کی بقاء کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ ملکی سلامتی پر غائر نظر رکھنے والے دعویدار بھلے ہی اسے ایک حکومتی ادارے کے من مانے طور طریقے کے روپ میں دیکھیں ، مگر اس سے اس کا خطرہ کم نہیں ہوجاتا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ملک کی انٹلی جنس وتفتیشی ایجنسیاں جسے چاہیں گرفتار کرلیں اور جس کا جب چاہیں انکاؤنٹر کردیں اور تھرڈ ڈگری ٹارچرکے ذریعہ جس سے جو چاہیں اقبالِ جرم کروالیں ، کوئی روکنے والا نہیں ہیں۔ کیا یہی ہے ہندوستانی آئین کہ جس کے جی میں جو آئے کرے ، جس طرح چاہے لوگوں کے انسانی حقوق سے کھلواڑ کرے کوئی روکنے والا نہ ہو؟ اگر یہی آئین ہے تو معاف کیجئے کہ یہ ہندوستانی آئین ہرگز نہیں ہے بلکہ آئی بی تفتیشی ایجنسیوں کا آئین ہے جس کی ہندوستانی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ عشرت جہاں ،سہراب الدین وصادق جمال وغیرہ کے فرضی انکاؤنٹر کی تفتیش نے ملک کے سامنے جو سوالات کھڑے کئے ہیں ، وہ ایک زبردست خطرے کا اشاریہ ہیں، جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ کوئی ایک گجرات یا راجستھان یا مہاراشٹر کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے کہ تفتیشی ایجنسیاں کسی جمہوریت ، کسی آئین و کسی انصاف کو تسلیم نہیں کررہی ہیں۔ طرفہ تماشاتو یہ ہے کہ اب عدلیہ پربھی کسی نہ کسی حد تک یہ رنگ چڑھتا جارہا ہے ۔جمہوریت کی بقاء اور سالمیت کے لئے کوشاں رہنے والوں کو اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کرنا ہوگا، ورنہ داخلہ سیکوریٹی کے نام پر آئی بی وتفتیشی ایجنسیاں جس کو چاہیں گی گرفتار کریں گی، انکاؤنٹر کریں گی ، تھرڈ ڈگری ٹارچر سے اقبالِ جرم کرائیں گی ، کوئی کچھ نہیں کرسکے گا، یہاں تک کہ سرکاریں بھی نہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES