dushwari

تازہ ترین خبر:

کشیدگی کے باوجود اسرائیل ایران جنگ نہیں چاہتے ، عسکری ماہرین

اسرائیل نہیں چاہتا کہ ایران اگلا جنگی دروازہ کھولے اور خود ایران بھی جہاں ہے ادھر ہی محدود رہنا چاہتا ہے

بیت المقدس:13؍فروری2018(فکروخبر/ذرائع)عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ ہفتے شامی فورسز کے ہاتھوں اسرائیلی جنگی طیارے کی تباہی کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران میں کشدیدگی خطرناک حد تک طول پکڑے گی لیکن دونوں ممالک جنگ کے خواہاں نہیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ اسرائیل نے دعوی کیا تھا کہ شام کی حدود کے اندر سے پرواز بھرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے بعدازاں اسرائیل نے شام کے اندر ایرانی بیس پر حملے کی غرض سے متعدد جنگی طیارے بھیجے لیکن شامی دفاعی فورسزکی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ایک اسرائیلی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اس بات کا اعلان کیا گیا کہ انہوں نے شام میں موجود ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عرب ممالک میں ایرانی فورسز کی موجودگی کے خطرے کو روکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی ڈرون کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اسرائیلی طیارے کو مار گرانے پر کہا کہ شام کی فضائی حدود صیہونی طاقت کے لیے محفوظ نہیں رہی۔عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ ایران اگلا جنگی دروازہ کھولے اور خود ایران بھی جہاں ہے ادھر ہی محدود رہنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو ایران، روس اور لبنان کی اہل تشیع گروپ حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے۔دوسری جانب شام محسوس کرتا ہے کہ ایران کی موجودگی سے خانہ جنگی میں برتری حاصل ہوئی ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کی فضائی کارروائیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ایران سے سیاسی تجزیہ کار مجتبی موساوی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی طیارے کی تباہی شام اور اس کے اتحادیوں کے لیے نئی حکمت عملی کا باعث بنے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران شام کی مدد سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے اکیلا چھوڑے گا کیونکہ شام کی جغرافیائی حیثیت ایران کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا، ایران کی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کا خواہاں ہیں۔۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES