Print this page

امریکی مسلمانوں کی ڈونلڈ کو اسلام کو سمجھنے کی دعوت(مزید اہم ترین خبریں )

صدارتی انتخابی دنگل میں اب تک سب سے زیادہ متنازع اور میڈیا میں زیربحث رہنے والے امیدوارڈونلڈ ٹرمپ

دی موین [آئیووا] ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)ریاست ہائے متحدہ امریکا میں رواں سال کے صدارتی انتخابی دنگل میں اب تک سب سے زیادہ متنازع اور میڈیا میں زیربحث رہنے والے ری پبلیکن پارٹی کے امیدوارڈونلڈ ٹرمپ کو مقامی مسلمانوں کی جانب سے اسلامی تعلیمات سے شناسائی حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مسٹر ٹرمپ کو یہ دعوت ریاست "آئیووا کے دی موین شہر کے مسلمانوں کی جانب سے دی گئی ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنے منفی خیالات تبدیل کریں اور اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

العربیہ  کے مطابق دی موین شہر کی سب سے پرانی جامع مسجد کے امام وخطیب علامہ طہ الطویل نے ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو تاریخی جامع مسجد کے دورے کی دعوت پیش کی ہے تاہم ابھی تک انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ اس شہر میں دو ہزار کے قریب مسلمان آباد ہیں۔ ان کی بھی خواہش ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جامع مسجد آئیں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان سے تبادلہ خیال کریں تاکہ ان کے ذہن میں اسلام کے حوالے سے پیدا ہونے والے اشکالات کا اطمینان بخش جواب دیا جا سکے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اسلام کو سمجھنے کی دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب وہ امریکا سمیت دنیا بھر میں مسلمان مخالف جذبات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کا آغاز سیڈر رابٹڈز شہر میں قائم مرکز اسلامی کے سامنے سے کریں گے۔ اگر وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی منفی سوچ تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے انتخابی عمل میں مسلمان ووٹر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سرکردہ مسلمان عالم دین طہ الطویل نے کہا کہ ذاتی طور پر ٹرمپ ایک اچھے انسان ہیں، مگر ان کے خیالات منفی ہیں۔ وہ آگے دیکھنے کے بجائے مڑمڑ کر پیچھے دیکھنے کے قائل ہیں۔
چونکہ امریکی دستور میں مذاہب کی مکمل آزادی ہے۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کا متمنی ہو کے لیے کسی ایک مذہب کو نشانہ بنانے کے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ امریکا میں لاکھوں مسلمان موجود ہیں۔ تمام مسلمانوں کو  داعش  اور  القاعدہ  سے نتھی کرتے ہوئے انہیں انتہا پسند کہنا امریکی معاشرے میں مذہبی آزادیوں کی روح کے خلاف ہے۔
دی موین شہر میں واقع مسلمانوں کی یہ مسجد 1930ء کے عشرے میں قائم کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امریکا میں  ام المساجد کا درجہ حاصل ہے۔ ماضی میں یہ مسجد مسلمان تارکین وطن اور مقامی مسلمانوں کی دینی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے مگراب ایک قدم آگے بڑھ کراب مسلمانوں کے اعتدال پسندانہ نظریات کے دفاع اور دعوتی میدان میں بھی سرگرم ہے۔
مسلمانوں کے اس مقامی اسلامی مرکز کی بنیاد ایک شامی نژاد الحاج عباس ھبھاب نے رکھی جس کا مقصد مسلمانوں کی دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا تھا۔ جب سے امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی کا سلسلہ شروع کیا ہے دیگر اسلامی مرکز کی طرح طہ الطویل کی مسجد بھی مسلمانوں کے نظریاتی دفاع میں پیش پیش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو دورے کی دوعوت اور اسلام کو سمجھنے کی دعوت بھی اسی کا حصہ ہے۔
سیڈر رابٹڈز شہر کی اس مسجد کے امام خود بھی ری پبلیکنز کے حامی ہیں۔ پبلیکن سینٹر ماکر روبیو اپنی انتخابی مہم الشیخ طہ الطویل سے ملاقات کر چکے ہیں۔ تاہم ری پبلیکنز پارٹی کے بہت سے دوسرے رہ نماؤں اور ڈونلڈ ٹرمپ میں کوئی خاص قدر مشترک نہیں۔ بالخصوص مسلمان دشمنی پر مبنی جذبات میں ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلیکن پارٹی کے موقف کے بھی برعکس ہیں۔


ہزار مہاجر بچے یورپ میں لاپتہ ہو گئے ہیں ، یوروپول کا دعویٰ 

برسلز/لندن۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) یورپی یونین کی پولیس ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران یورپ میں 10 ہزار سے زائد مہاجر بچے لاپتا ہوچکے ہیں جو اپنے خاندان کے بغیر تنہا یورپ پہنچے تھے۔برطانوی اخبار 'آبزرور' کے مطابق 'یوروپول' کے چیف آف اسٹاف برائن ڈونالڈ نے اخبار کو بتایا ہے کہ بچوں کی گمشدگی میں جرائم پیشہ گروہوں اور انسانی اسمگلروں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ آبزرور سے گفتگو کرتے ہوئے برائن ڈونالڈ نے کہا کہ ان کی ایجنسی اور دیگر یورپی اداروں کو نہیں معلوم کہ اس وقت یہ بچے کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کس کے ساتھ ہیں؟۔یورپی حکام کے مطابق گزشتہ سال مہاجرین کی یورپ آمد میں ہونے والے کئی گنا اضافے سے قبل ہی کئی یورپی اداروں نے رپورٹ دی تھی کہ تنہا یورپ پہنچنے اور مختلف حکومتوں کے پاس اپنا اندراج کرانے والے نصف سے زائد ایسے بچے غائب ہوگئے ہیں جو تنہا یا اپنے خاندان کے کسی بڑے کے بغیر یورپ پہنچے تھے۔عالمی ادارہ مہاجرین اور بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یونیسیف' کے مطابق 2014 میں یورپی حکومتوں کو موصول ہونے والی پناہ کی درخواستوں میں سے 23000 سے زائد تنہا یورپ پہنچنے والے یا اپنے اہلِ خانہ سے بچھڑ جانے والے بچوں نے دائر کی تھیں۔لیکن 2015 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران صرف ایک ملک سوئیڈن کو تنہا یورپ پہنچنے والے یا اپنے خاندان سے جدا ہوجانے والے بچوں کی 23 ہزار سے زائد پناہ کی درخواستیں ملی تھیں جس سے حالات کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم یورپی تنظیم 'مسنگ چلڈرن یورپ' کے مطابق عین ممکن ہے کہ لاپتا ہونے والوں میں سے بعض بچے حکومتی مراکز اور پناہ گاہوں سے اپنی مرضی سے فرار ہوکر ان علاقوں کی طرف چلے گئے ہوں جہاں وہ مختلف وجوہات کی بنا پر جانا چاہتے تھے۔لیکن تنظیم کے عہدیدران کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ لاپتا ہونے والے بیشتر بچے جرائم پیشہ گروہوں اور انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جو انہیں جنسی غلامی اور بدن فروشی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔


اقوام متحدہ کی عراق کیلئے 80کروڑ ڈالر امداد کی اپیل 

بغداد ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) اقوام متحدہ نے شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے عراق میں کیے گئے نقصانات کو پورا کرنے کے لئے بین لااقومی برادری سے 80کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی لیسی گرینڈ نے بغداد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے بعد عراق کیلئے ممکن نہیں کہ وہ ملکی تعمیر نوکے 50کروڑ ڈالر کے منصوبوں کو مکمل کر سکے۔ دوسری جانب عراق کے وزیر جاس محمد کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ملکی ضروریات کو وفاقی بجٹ میں پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان سے یہ کمی پوری ہو سکے گی۔ واضح رہے کہ عراق اور داعش کے درمیان ہونے والی جنگ کی وجہ سے ملک کو بڑا حصہ تباہ ہوا ہے۔


آسٹریلیا، جنگلات میں آگ سے 72ہزار ہیکٹر رقبہ خاکستر

سڈنی ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے 72ہزار ہیکٹر رقبہ خاکستر کر دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آسٹریلیا کے علاقے تسمانیہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا اور یہ دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ نے 72ہزار ہیکٹر رقبہ خاکتسر کر دیا ہے، اس کی وجہ سے ایک ہزار سال قبل قومی ورثہ قرار دیئے جانے والے درخت بھی جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ فائر فائٹرز کی بڑی تعداد آگ پرقابوپانے میں مصروف ہے۔


فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی دولت میں چند منٹ کے دوران 4 ارب، 850 ملین ڈالرکا اضافہ

نیویارک ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) سوشل میڈیا کی دنیا میں راج کرنے والے ’’فیس بک‘‘ کے بانی زکر برگ کی دولت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ جمعرات کو بین الاقوامی سٹاک مارکیٹ میں زکر برگ کی دولت میں صرف چند منٹ میں چار ارب850 ملین ڈالر کا اضافہ ہو جس کے بعد وہ امریکا کے چوتھے اور پوری دنیا کے چھٹے صاحب ثروت شخص بن گئے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسکراتے چہرے کے ساتھ 32 سالہ زکر برگ اب بھی طالب علم ہی لگتے ہیں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا توکسی اور کو کیا خود انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے وہ اسے انتہائی تیزی کے ساتھ دولت اور شہرت کی اس معراج پر پہنچا دے گا۔ سینڈ وچ برگر، فرائی فنگر چپس اور کوکا کولا جینز کی پینٹ پہننے والے زکربرگ کی پسندیدہ خوراک تھی۔ پچھلے چھ برسوں سے بلا تعطل اس کی دولت میں فی منٹ چودہ ہزار ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔مشاہیر دولت مند شخصیات کی باقاعدگی سے فہرست شائع کرنے والے جریدہ ’’فوربز‘‘ نے اپنی مارچ کی اشاعت میں زکربرگ کا نام اس بار ایک نئے نمبر کے ساتھ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں اپنی بیٹی میکس کی پیدائش کے وقت 99 فی صد دولت خیرات کرنے کا اعلان کرنے والے زکربرگ اب امریکا کے چوتھے اور پوری دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہوں گے۔


ہالینڈ کا شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہونے کا اعلان

ایمسٹرڈم ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع)ہالینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کی سربراہی میں داعش کے خلاف سرگرم اتحاد کا مزید فعال حصہ بنتے ہوئے شام میں بھی فضائی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کردے گی۔ڈچ حکومت کئی ماہ سے شام کے ہمسایہ ملک عراق میں چار ایف 16 طیاروں کی مدد سے فضائی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے مگر انہوں نے شام میں کارروائیاں کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ مگر امریکا اور فرانس کی جانب سے متعدد درخواستوں کے بعد حکومت نے فیصلہ کیاہے وہ مشرقی شام میں جاری آْپریشن میں حصہ لے گی۔ڈچ وزیر اعظم مارک رٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے ایف 16 طیارے شام میں تنازعہ زدہ علاقے میں تعینات ہو کر زیادہ مستعدی سے داعش کے ٹھکانوں، ٹریننگ سنٹرز اور دیگر املاک پر بمباری کرسکیں گے۔وزیر دفاع جنین ہینس پلاسچرٹ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے داعش مخالف اتحاد مزید پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوگا۔


روس نے سرمائے کی یورپی اور شمالی امریکی منڈیوں تک عدم رسائی کا حل اسلامی بینکنگ کی صورت میں ڈھونڈ لیا

ماسکو ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) روس نے سرمائے کی یورپی اور شمالی امریکی منڈیوں تک عدم رسائی کا حل اسلامی بینکنگ کی صورت میں ڈھونڈ لیا۔ اس سلسلہ میں روسی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سٹیٹ ڈوما کی کمیٹی نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس کے تحت وفاقی حکومت مذہبی بنیادوں پر متوازی مالیاتی ادارے قائم کر سکے گی۔ اس سلسلہ میں روس کے مرکزی بینک میں ایک ورکنگ گروپ اور سٹیٹ ڈوما میں ماہرین کی ایک کونسل پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے ۔ اس کونسل میں دانشور روس عیسائی عالم ، مفتیوں کی کونسل اور بدھ مت کے نمائندے شامل ہیں۔ روس خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں اسلامی بینکاری کا حجم 20کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ۔ گزشتہ ایک سو سال کے دوران اسلامی بینکاری کے شعبہ کی ترقی کے عمل میں سرمایہ کاری کے بہت سے طریقے وضح کئے جا چکے ہیں ۔ روس میں اسلامی بینکاری کے مواقع زیادہ ہیں۔ روس میں کچھ عرصہ قبل کرائے گئے ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق شہریوں کی دو تہائی تعداد جن میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی نے اسلامی بینکوں سے لین دین کو ترجیح دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ روس اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی بینکنگ کو فروغ دیکر نہ صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمانوں کو بھی اپنا سرمایہ ان بینکوں میں رکھنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر خود مختاراسلامی بینک قائم کرنے کی بجائے موجودہ بینکوں میں اسلامی بینکنگ کے شعبے قیام کرنا زیادہ موزوں رہے گا۔ روسی ماہرین کے مطابق تاتارستان اور دیگر کئی علاقوں میں کام کرنے والے بینکوں میں ایسا انفراسٹرکچر موجود ہے جس کو فوری طور پر اسلامی بینکنگ کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔


سعودی شہزادے کی ایما پر نجی فرم سے نکالی گئی امریکی خواتین ڈرائیورز نے مقدمہ جیت لیا

واشنگٹن۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) سعودی شہزادے کی ایما پر نجی فرم سے نکالی گئی امریکی خواتین ڈرائیورز نے مقدمہ جیت لیا،امریکہ میں ان تین خواتین ٹیکسی ڈرائیوروں کو فی کس ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ہرجانہ دیا گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ میں ان تین خواتین ٹیکسی ڈرائیوروں کو فی کس ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ہرجانہ دیا گیا ہے جنھیں نوکری سے صرف اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ کاروں کی فرم کے گاہک ایک سعودی شہزادے کو صرف مرد ڈرائیور ہی چاہیے تھے۔یہ خواتین ان تیس ڈرائیوروں میں شامل تھیں جنھیں سعودی شہزادے کے خاندان اور دوستوں کو لانے لے جانے کے لیے اس وقت نوکری پر رکھا گیا تھا جب شہزادہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔انھیں ان کی نوکری کے دوسرے ہی دن ان کی صنف کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔امریکی ڈسٹرکٹ جج جوان ایرکسن نے گریچن کوپر، باربرا ہیرلڈ اور لیزا بوتلے کے لیے فی کس ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر معاوضے کا اعلان کیا۔جج ایرکسن نے نومبر میں ان تینوں خواتین کے حق میں فیصلہ دیا تھا جنھوں نے 2012 میں صنفی امتیاز کا مقدمہ دائر کیا تھا۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں عورتوں کے کار چلانے پر پابندی ہے۔



گیارہ منٹ میں لندن سے نیو یارک پہنچنے والا طیارہ

لندن۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) آج کے تیز رفتار دور میں لندن اور نیویارک کے درمیان سات گھنٹوں پر مشتمل پرواز طویل نظر آتی ہے، لیکن اب ایک نئے طیارے اینٹی پوڈ سے یہ سفر محض 11 منٹ میں طے ہو سکے گا۔ 12427 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے والا 10 نشستوں پر مشتمل یہ شاہانہ بزنس جیٹ آپ کو صرف آدھے گھنٹے میں نیو یارک سے سڈنی پہنچا سکے گا۔ اینٹی پوڈ کو ماخ 24 کے درجے میں رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ جیٹ آواز کی رفتار سے 24 گنا تیز رفتار سے پرواز کر سکے گا۔ اینٹی پوڈ اپنے پروں سے جڑے راکٹ بوسٹرز کی قوت سے ٹیک آف کرے گا اور چالیس ہزار فیٹ پر ماخ 5 کی رفتار تک پہنچنے کے بعد بوسٹرز طیارے سے الگ ہو جائیں گے۔اس کے بعد طیارے کا کمپیوٹر سپر سونک رام جیٹ انجن کو آن کر دے گا جس سے جیٹ کی رفتار ماخ 24 تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، رام جیٹ انجن کی طیاری کے علاوہ اس ٹیکنالوجی کی راہ میں کچھ مسائل تاحال موجود ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ طیارے کی لاگت 150 ملین ڈالرز ہو گی۔ طیارے کا خیال پیش کرنے والے کینیڈین موجد چارلس بومبارڈین کہتے ہیں کہ عالمی بحرانوں کی صورت میں یہ طیارہ اعلیٰ سطحی حکام کو محض کچھ گھنٹوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچا سکیں گے۔یاد رہے کہ 2003 میں کانکارڈ طیارے پر پابندی کے بعد تیز رفتار طیارے بنانے کی دوڑ شروع ہو گئی تھی۔ حال ہی میں ائیر بس نے ایک گھنٹے میں لندن سے نیو یارک کا سفر طے کر پانے والے ایک سپر سانک جیٹ کا پیٹنٹ فائل کیا ہے۔گزشتہ سال امریکی خلائی ادارے ناسا نے سپر سانک پروازوں کی تحقیق کیلئے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے تھے۔


امریکہ کی دو لبنانی شہریوں پر پابندیاں عائد

واشنگٹن ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) امریکہ نے دو لبنانی شہریوں پر حزب اللہ کی مدد کے الزام میں پابندیاں عائد کر دیں ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد نورالدین اور حامدی ظاہر الدین نے حزب اللہ کی معاونت کے لئے ایشیاء ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کا نیٹ ورک استعمال کیا اور حزب اللہ کے لئے فنڈز فراہم کئے۔ بیان کے مطابق دونوں افراد کو بلیک لسٹ کر کے ان پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔


سوکھے پتے سے بیٹری بنانی کا کامیاب تجربہ

میری لینڈ ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) امریکی سائنسدانوں نے سوکھے پتے سے بیٹری بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ نے میپل کا ایک پتہ اٹھایا گیا اور اس سے بیٹری بنانے کا تجربہ کیا، اس پتے کو 1000 درجے سینٹی گریڈ پر پکا کر اسے خشک کیا اور اس میں سوڈیم کی بڑی مقدار شامل کر کے اس سے بیٹری کا منفی ٹرمنل یا اینوڈ بنایا گیا۔ تجربہ کرنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ بیٹریوں میں لیتھیئم استعمال ہوتا ہے لیکن سوڈیم کا استعمال ان میں زیادہ چارج بھر کر بیٹری کی افادیت بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیلے کے چھلکوں، تربوز اور دیگر چھلکوں کو بھی ان کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن درخت کا سادہ پتا اس کے لیے بہت موزوں ہے۔ ماہرین کے مطابق پتے کو گرم کرکے اس کے اندر موجود کاربن ختم کیا جاتا ہے لیکن اس کے نیچے موجود مسام کھلے رہتے ہیں جس میں سوڈیم داخل کی گئی اور اسے الیکٹروڈ میں ڈھالا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پتے کی ساخت اور شکل اسے بیٹری کی ضروریات کے عین مطابق بناتی ہے کیونکہ یہ چوڑا ہے اور اپنے اندر سوڈیم کو رکھ سکتا ہے اس طرح پتوں سے ماحول دوست بیٹریاں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عمل کے ذریعے فوری طور پر بیٹریاں بنانا ممکن نہیں کیونکہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


تائیوان، پہلی بار چین مخالف جماعت سے تعلق رکھنے والا رکن سپیکر منتخب

تائپے ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) تائیوان کی پارلیمنٹ نے پہلی بار چین مخالف جماعت ’’ ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی ‘‘کا سپیکر منتخب کرلیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز اپنے انتخاب کے فوری بعد سپیکر سوچیاچوان نے اپنا پارٹی عہدہ چھوڑ تے ہوئے اسے پارلیمانی اصلاحات کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اختیارات کی منتقلی کا یہ پہلا موقع ہے اور عوام کو بھی نئی پارلیمنٹ سے توقعات ہونگی، اگر ہم نے انھیں نظر انداز کیا تو یہ انھیں دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔یاد رہے کہ 16 جنوری کے پارلیمانی و صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی۔اس کی خاتون چیئرپرسن تسائی انگ وین 20 مئی کو ملک کی پہلی خاتون صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔پارٹی نے پارلیمانی انتخاب میں بھی شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 113 کے ایوان میں 68 نشستیں حاصل کرلیں جبکہ چین نواز جماعت (کے ایم ٹی) صرف 35 نشستیں حاصل کرسکی۔