dushwari

مصر: پانچ انقلابی کارکنان کی سزائے قید کی توثیق(مزید اہم ترین خبریں)

قاہرہ ۔ 28جنوری (فکروخبر/ذرائع)مصر کی ایک عدالت نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پانچ سیکولر کارکنان کو سنائی گئی دو،دو سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ایک عدالتی اہلکار اور وکیل صفائی کے مطابق ان پانچوں پر نومبر 2015ء میں چار سال قبل پیش آئے تشدد کے واقعات کی یاد میں ایک جلوس میں حصہ لینے کا الزام تھا۔دسمبر میں ان کے خلاف غیر مجاز اجتماع میں حصہ لینے ،سڑکوں کو بند کرنے اور غیر قانونی طور پر مظاہرہ کرنے کی پاداش میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔وہ اب بھی مصر کی اعلیٰ عدالت میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

قاہرہ کی ایک اپیل عدالت نے ایک سرجن اور بائیں بازو کی ایک چھوٹی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن سمیت پانچ کارکنان کے خلاف ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔اس عدالت نے انھیں غیر قانونی طور پر احتجاجی ریلیاں نکالنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان کارکنان پر الزام تھا کہ انھوں نے 19 نومبر 2011ء کو قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں فوجی جنتا کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی یاد میں مظاہرہ کیا تھا۔چار سال قبل دس روز تک جاری رہنے والی ان احتجاجی ریلیوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔وکیل صفائی انس سیّد نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان پانچوں کو نومبر میں ایک کریک ڈاؤن کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور جس علاقے سے انھیں پکڑا گیا تھا،وہاں کوئی احتجاج نہیں ہورہا تھا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالت کے فیصلے کو مصر کے فوجداری نظام انصاف کی غیر منصفانہ اور منتقمانہ نوعیت کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں سزا پانے والے دو افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ دوران تفتیش انھِیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے بدسلوکی کی گئی تھی۔


اقوام متحدہ کی تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرنے کے قانون پر تنقید

ڈنمارک میں 15 ہزار تارکین وطن نے 2015 میں پناہ حاصل کی

نیویارک ۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع)اقوام متحدہ نے ڈنمارک میں تارکین وطن کی قیمتی اشیا کو بحق سرکار ضبط کرنے کے انتہائی متنازع قانون پر تنقید کی ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں ملک میں پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ان کی قیمتی اشیا کو بحق سرکار ضبط کرنے کے ایک انتہائی متنازع قانون کی منظوری دے دی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے ترجمان سٹیفن ڈوجرک نے کہا ہے کہ پناہ گزین جنگ سے بھاگ کر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچ رہے ہیں اور ان سے رحم دلی سے پیش آنا چاہیے۔ترجمان کے مطابق پناہ گزینوں کے بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون ملک کے اس قانون سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت سرکار سے مالی مدد اور دیگر مراعات وصول کرنے والے شہریوں کو ایک طے شدہ سطح سے زیادہ اپنے اثاثوں کو فروخت کرنا ہوتا ہے۔ارکان پارلیمان نے اس تجویر کی بھی حمایت کی جس کے تحت تارکین وطن کو اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے طویل عرصہ انتظار کرنا پڑے گا۔نئے قانون کے تحت ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو ایک ہزار پونڈ تک کی مالیت کی قیمتی اشیاء اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔ایسی قیمتی اشیا جن سے ان کی جذباتی وابستگی بھی ہو گئی مثلاً شادی کی انگھوٹی وغیر ان کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔نئی تجاویر کے تحت تارکین وطن کو اپنے عزیزوں کو بلانے کے لیے ایک سال کے بجائے تین سال انتظار کرنا پڑے گا۔عارضی رہائشی کے پرمٹوں کی مدت کو کم کیا جا رہا ہے اور مستقل رہائشی پرمٹ یا اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے شرائط کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔اس ماہ کے اوائل میں جب یہ متنازع تجویز سامنے آئی تھی تو اس کو ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان قوانین کا مقصد تارکین وطن کو ڈنمارک میں پناہ لینے سے روکنا یا ان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ڈنمارک کو توقع ہے کہ 2016 میں 20 ہزار تارکین وطن ڈنمارک میں پناہ کے لیے آ سکتے ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت نے بتایا کہ گذشتہ سال 15 ہزار تارکین وطن نے ملک میں پناہ حاصل کی۔


ایرانی حکومت اہل سنت مسلک کے لوگوں کوعقیدے اور سیاسی نقطہ نظر کی پاداش میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتیہے:امریکی نژاد پادری

واشنگٹن ۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع)ایران اور امریکا کے درمیان حال ہی میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت رہا ہونے والے امریکی نژاد پادری نے ایام اسیری کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ان کے عقیدے اور سیاسی نقطہ نظر کی پاداش میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتی اور انہیں پھانسی کی اجتماعی سزائیں دینے کی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے۔امریکی ٹیلی ویژن ’’فاکس نیوز‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رہا ہونے والے پادری سعید عابدینی نے بتایا کہ انہیں ایران میں ایک مذہبی رہنما کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔ اسیری کے پورے عرصے کے دوران اسے انواع واقسام کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں ڈالے گئے دوسرے مذاہب اور مسالک کے لوگوں کے ساتھ یکساں بدسلوکی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں عابدینی نے بتایا کہ اس کے سامنے کئی بار اہل سنت مسلک کے قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ بیشتر قیدیوں کو یا تو ان کے اہل سنت مسلک کے عقیدے یا ان کے سیاسی افکار کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا جاتا رہا ہے۔ایام اسیری کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ برتے جانے والے وحشیانہ سلوک کا بھی تفصیلی احوال بیان کیا۔ سعید عابدینی نے بتایا کہ جیل میں ایرانی تفتیش کار اسے اکثر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے۔ ایک بار کمرہ عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی اسے اس وقت سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب نے ایرانی تفتیش کاروں کی جانب سے تحریر کردہ نام نہاد الزامات کے ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا اور میں نے انکار کر دیا۔ اس پرمجھے بھرے مجمع میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھ پر ایسا تشدد کیا گیا کہ میرا معدہ بھی پھٹ گیا اور مجھے خون کی قے شروع ہو گئی تھی۔خیال رہے کہ سعید عابدینی نامی عیسائی پادری تین سال تک ایران میں پابند سلاسل رہے مگر انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں آٹھ سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے دوران انہیں بھی رہا کر دیا گیا۔عابدینی کو 2012ء میں اس وقت جیل میں ڈالا گیا جب وہ امریکا کے سفر سے واپس تہران پہنچے تھے۔ امریکا میں اپنے والدین سے ملاقات کے بعد تہران واپس لوٹتے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت انہیں تین دوسرے امریکیوں کے ساتھ رہا کیا گیا تھا۔ان میں امیر حکمتی، جیسن رضایان اور نصراللہ خسرافی رودساری شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں امریکا نے ایران کے ساتھ قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ انہیں ایران کے لیے جاسوسی اور عالمی پابندیوں کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔


ایران میں 160 نابالغ موت کے منتظر، ایمنسٹی کی رپورٹ میں انکشاف

لندن ۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع)انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کی جیلوں میں 160 کم عمر بچے سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے باور کرایا گیا ہے کہ درجنوں نوعمر انسانوں کے خلاف سزائے موت کے فیصلے سے ایران کی منافقت ظاہر ہوتی ہے۔تنظیم کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری ہونے والی جامع رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ درجنوں نوجوان اپنی سزائے موت پر عمل درآمد کے انتظار میں جیل میں سڑ رہے ہیں۔ ان جرائم کا ارتکاب نوعمری کے زمانے میں ہوا جب ان کی عمریں 18 برس سے کم تھیں۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی بین الاقوامی تنظیم نے سزائے موت جاری رکھنے پر ایران پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انسانی حقوق کی کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کئی مرتبہ مذمتی اور انتباہی بیانات جاری کیے جا چکے ہیں۔رپورٹ میں ایرانی حکام کی جانب بچوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو چھپانے کی کوششوں کو سامنے لایا گیا ہے۔ ایران اس سلسلے میں اپنے بھیانک ریکارڈ پر کی جانے والی تنقیدوں سے بھی صرف نظر کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے دنیا کے ان چند ممالک میں قرار دیا جاتا ہے جہاں نوعمر مجرموں کے خلاف بھی سزائے موت پر عمل درامد کیا جاتا ہے۔ایک جانب ایران کی جانب سے نوعمر خطاکاروں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ دوسری جانب وہ ملک میں فوج داری قوانین میں کی گئی بقدر کفایت اصلاحات پر پھولے نہیں سماتا ہے۔ ایران ان اصلاحات کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیتا ہے تاہم درحقیقت وہ نوعمر قصور واروں کے خلاف سزائے موت ختم کرنے میں ناکام ہو گیا۔ ایران ان چند ممالک میں سے ہے جہاں نوعمر مجرموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ یہ اس بین الاقوامی مطلق پابندی کی کھلی خلاف ورزی ہے جو ایسے افراد کے خلاف سزائے موت کے استعمال پر عائد ہے جن کی عمر جرم کے ارتکاب کے وقت 18 برس سے کم تھی۔ ایران ابھی تک بچوں کے حقوق کے میدان میں باقی دنیا سے بہت پیچھے ہے، اس نے ان قوانین کو ابھی تک باقی رکھا ہے جو نو برس کی بچیوں اور پندہ برس کے بچوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے کی اجازت دیتے ہیں۔دس برسوں کے دوران 73 کم عمروں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2005 سے 2015 کے دوران 73 نوعمر(نابالغ) مجرموں کی سزائے موت پر عمل درامد ہوا۔ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 160 نوعمر قصور وار اپنے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ غالب گمان ہے کہ حقیقی تعداد مذکورہ تعداد سے کہیں زیادہ ہو گی، اس لیے کہ ایران میں سزائے موت پر عمل درامد کو اکثر و بیشتر خفیہ رکھا جاتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 49 ایسے نوعمر مجرموں کے نام اور مقامات پیش کیے ہیں جن کے گلوں میں کسی بھی وقت پھانسی کا پھندا ڈالا جا سکتا ہے۔ ان میں بہت سوں نے پھانسی کے انتظار میں تقریبا سات برس گزار دیے ہیں۔یہ رپورٹ نوعمر قصور واروں کی بہت غمگین تصویر پیش کرتی ہے جو سزائے موت کے انتظار میں جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ چیز انہیں اپنی زندگی کی قیمتی سالوں سے محروم کر رہی ہے اور اکثر تو غیرمنصفانہ عدالتی کارروائی کی سزا بھگت رہے ہیں، جن میں تشدد اور بدترین سلوک کے ذریعے جبری اعترافات اہم عوامل ہیں۔ایمنسٹی کے مطابق بہت سے کیسوں میں حکام نے سزائے موت پر عمل درامد کا وقت مقرر کر دیا اور پھر آخری لمحے اس کو ملتوی کر دیا، یہ چیز نوعمر مجرموں کی مشقت اور ان کو محسوس ہونے والی تکلیف کی شدت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ اس طرح کے معاملے کے بارے میں کم از کم یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنگدلانہ، غیر انسانی اور ہتک آمیز ہے۔بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران میں نوعمروں کو سزائے موت دینے سے متعلق نئے فوج داری قوانین کا بھی ذکر کیا ہے جو 2013 میں اختیار کیے گئے تھے۔ 


برطانوی پارلیمنٹ کا فلسطینی پناہ گزینوں میں تیزی سے بڑھتی غربت پر اظہار تشویش

لندن ۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع) برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے ادارے ’مر کزبرائے حق واپسی‘ کی مرتب کردہ رپورٹ کے اعدادو شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں میں بڑھتی غربت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ لندن میں قائم ’مرکز برائے حق واپسی‘ کی جانب سے جاری رپورٹ میں لبنان میں پہلے سے موجود فلسطینی پناہ گزینوں اور شام سے نقل مکانی کرنیوالے مہاجرین کی غربت کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنان میں جہاں شام سے آنیوالے فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد نے پہلے سے موجود مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ کیا وہیں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی نے بھی پناہ گزینوں کی بہبود کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ہیں۔ گزشتہ روز برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور وزیرثقافت و سابق وزیر صحت بن براڈشو نے بھی مرکز حق واپسی کی مرتب کردہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ لبنان میں فلسطینی پناہ گزین نہایت مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ براڈ شو نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی غربت کم کرنے کے لیے نہ صرف مالی امداد مہیا کرے بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کے مراکز میں غربت اور بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پناہ گزینوں کو اپنی مرضی کا کاوربار کرنے یا ملازمت کا حاصل نہ ہونے کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ’’اونروا‘‘ کی جانب سے فراہم کردہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ 


روس میں فلو کی وبا کے پیش نظر 800 سے زیادہ سکول بند کردیئے گئے 

توقع ہے وبا دو تین ہفتوں میں کم ہونے لگے گی ٗحکام 

ماسکو۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع)روس میں فلو کی وبا کے پیش نظر 800 سے زیادہ سکول بند کردیئے گئے روس کی نظام حفظان صحت کی سربراہ آنا پوپووا نے میڈیا کو بتایا کہ بتایا کہ فلو کی وبا کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لئے828 اسکول، 602 کنڈرگارٹن اور15 بورڈنگ اسکول کو عارضی طور پر بند کئے گئے۔ توقع ہے وبا دو تین ہفتوں میں کم ہونے لگے گی ٗآنا پوپووا نے کہا کہ زیادہ تر مریض ایچ ون این ون یعنی سوائن فلو میں مبتلا ہیں۔


برطانیہ ٗ پولیس کی گاڑی سے ٹکر مار کر بھاگنے والے ڈرائیور کی تلاش کیلئے عوام سے مدد کی اپیل 

لندن۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع)برطانوی پولیس نے ساحلی شہر برائٹن میں 52 سالہ شخص کو گاڑی سے ٹکر مار کر بھاگنے والے ڈرائیور کی تلاش کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل کر دی ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس نے 14جنوری کو ساحلی شہر برائٹن میں پیش آنے والے حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی ہے ۔ فوٹیج کے مطابق 53سالہ شخص کو ایک تیز رفتار کار نے اس وقت ٹکر ماری جب وہ سڑک پار کر رہا تھا ۔ حادثے میں اس شخص کے سر میں شدید چوٹیں آئی تھیں ۔ ہسپتال میں علاج کے بعد اب اسے گھر منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ صحت یاب ہو رہا ہے ۔پولیس نے کار برآمد کر لی ہے تاہم ڈرائیور تاحال فرار ہے جس کی تلاش شروع کر دی گئی پولیس نے لوگوں سے واقعے کی تفتیش اور ڈرائیور کو پکڑنے میں مدد دینے کی اپیل کی ہے 


پاپائے روم پوپ فرانسس کی ایرانی صدر سے ملاقات ٗ مختلف امورپرت بادلہ خیال 

ویٹی کن سٹی۔28جنوری (فکروخبر/ذرائع) پاپائے روم پوپ فرانسس نے ایرانی صدر سے ملاقات میں خطے میں امن کیلئے ایران پر تمام مشرق وسطیٰ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے ۔ویٹی کن سٹی میں ایرانی صدر حسن روحانی اور پاپائے روم پوپ فرانسس کے درمیان ملاقات ہوئی ٗملاقات میں پوپ فرانسس نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اہم کردار کو واضح کرتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکنے اور قیام امن کے لیے مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے اور مسائل کا سیاسی حل نکالے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES