dushwari

گھربار،وطن چھن گیا،اب عزت وناموس بھی خطرےمیں!(مزید اہم ترین خبریں )

یورپ میں پناہ کی متلاشی خواتین کو منظم جنسی حملوں کا سامنا

پیرس ۔۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں شام و عراق سمیت دوسرے ملکوں کی پناہ گزین خواتین کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ یورپ میں داخل ہونے والی خواتین کو دیگر مصائب کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد جیسے حربوں کا بھی سامنا ہے۔العربیہ کے مطابق انسانی حقوق گروپ نے یورپی ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہونے والی 40 خواتین کے بیانات حاصل کیے ہیں جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہونے کے دورانی یا اس کے بعد انہیں جنسی ہراسانی جیسے حملوں کا سامنا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں داخل ہونے والی خواتین کو منظم جنسی حملوں، جنسی استحصال اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ یورپ پہنچنے والی خواتین کو یہ خطرہ ہرقدم پر درپیش ہے کیونکہ جن خواتین کے بیانات حاصل کیے گئے ہیں وہ یورپ میں داخل ہونے اور اس کے بعد مختلف مراحل پر پہنچ چکی تھیں۔ غریب الوطن ہونے والی خواتین گھر بار لٹ جانے کے بعد اپنی عزت کو بھی غیرمحفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے ناورے اور جرمنی پہنچنے والی جن چالیس خواتین کے بیانات قلم بند کیے ہیں وہ ترکی کے راستے یونان اور وہاں سے یورپی ملکوں میں داخل ہوئی تھیں۔ دوران سفر بعض خواتین کو اپنے ساتھ سفر کرنے والے پناہ گزین مردوں، کہیں سیکیورٹی اہلکاروں یا دوسرے حکومتی اہلکاروں کےدباؤ اور جنسی ہراسانی کا سامنا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیانات قلم بند کرانے والی خواتین نے سفر کے دوران تمام پناہ گزین خواتین کی عزت وناموس کودرپیش خطرات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انسانی حقوق گروپ سے بات کرنے والی ایک عراقی خاتون نے بتایا کہ جرمنی پہنچنے پرایک سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک سیکیورٹی اہلکارنے اسے کہا کہ تم کچھ وقت تنہائی میں میرے ساتھ گذارو تو میں تمہیں اس کے بدلے میں کپڑے مہیا کرسکتا ہوں۔خواتین کا کہنا ہے جو عورتیں اپنے کم عمر بچوں یا بچیوں کے ہمراہ سفر کرتی ہیں۔ ان کے ہمراہ گھر کا کوئی بڑا مرد نہیں ہوتا ان کی عزت و ناموس زیادہ خطرے میں ہے۔ خاص طورپر ایسی عورتیں یونان، کروشیا اور آسٹریا جیسے ملکوں میں جنسی تشدد کے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کراسز سی کی ایک خاتون عہدیدار تیرانا حسن نے بتایا کہ عراق اور شام چھوڑنے والی خواتین نے اپنے بچوں کی خاطر سب کچھ قربان کردیا ہے، لیکن انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ اس سفر میں ان کی عزتیں بھی اسی طرح خطرے میں رہیں گی۔ وہ شام اور عراق میں تشدد کے ایک حربے سے بچ گئیں مگرانہیں یورپی ملکوں میں جنسی تشدد جیسے ایک نئے حربے کا سامنا ہے۔ اگران خواتین کو غیرمعمولی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا تو ان کی عزت وناموس کے ساتھ ان کی زندگیاں بھی خطرے میں رہیں گی۔


دولتِ اسلامیہ نے جہادی جان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

لندن ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اپنے رسالے میں تصدیق کی ہے کہ برطانوی شدت پسند جہادی جان نومبر میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔دابق نامی آن لائن رسالے میں دولت اسلامیہ نے جہادی جان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ اس کا اصل نام محمد اموازی تھا۔نومبر میں امریکی فوج نے کہاکہ انھیں یقین ہے کہ شام میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں جہادی جان کے نام سے مشہور دولتِ اسلامیہ کا برطانوی شدت پسند محمد اموازی ہلاک ہو گیا ہے۔آن لائن رسالے میں کویت میں پیدا ہونے والے اموازی کو ابومغرب المہاجر کے نام سے پکارا گیا ہے۔دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ جہادی جان کو 12 نومبر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے کہا تھا کہ جہادی جان کی گاڑی کو شام کے علاقے رقّہ میں نشانہ بنایا گیا تھاامریکہ نے اس وقت کہا تھا کہ اندازہ ہے کہ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس میں جہادی جان کے علاوہ ایک اور شخص بھی موجود تھامحمد اموازی ان ویڈیوز میں موجود تھے جن میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف اور جیمز فولی، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمن کیسگ اور بہت سے دیگر مغویوں کو ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔


بحال کردہ ایرانی اثاثوں کی منتقلی کا سلسلہ شروع

تہران۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )ایران کے سینٹرل بینک کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری ڈیل کے موثر ہونے پر ختم کی جانے والی پابندیوں سے ایران کے جو منجمد اثاثے بحال ہوئے ہیں ان کی منتقلی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف کے مطابق کچھ اثاثوں کو کامیابی سے منتقل کرنے کے کام کب تکمیل ہو گئی ہے۔ ایرانی ٹیلی ویڑن کو ولی سیف نے بتایا کہ جاپان اور جنوبی کوریا کے بینکوں سے ایرانی سرمائے کو جرمنی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ولی اللہ سیف نے منتقل کیے جانے والے ایرانی اثاثے کی تفصیل نہیں بیان کی ہے۔ ایران کے مختلف بینکوں میں منجمد کیے گئے سرمائے کا حجم 32بلین ڈالر بتایا جاتا ہے۔


دل کی غیر مستقل دھڑکن مردوں کے مقابلے عورتوں کی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہے ٗنئی تحقیق 

لندن۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع ) نئی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ دل کی غیر مستقل دھڑکن مردوں کے مقابلے عورتوں کی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔ تجزیے میں 30 مطالعے شامل ہیں اور ان مطالعوں میں 40 لاکھ سے زیادہ مریضوں کے کوائف کو سامنے رکھا گیا ہے۔تجزیے کے مطابق جن خواتین کو ایٹریئل فائبرلیشن (اے ایف) یعنی بغیر ظاہری علامت کے دل کے عضلوں یا پٹھوں میں غیر ہم آہنگی کی بیماری ہو انھیں دل کی مہلک بیماری یا دل کا دورہ پڑنے کا دگنا خطرہ ہے۔ایسی خواتین پر اے ایف دوائیں کم اثر کرتی ہیں یا پھر ان کی تشخیص مردوں کے مقابلے دیر سے ہوتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے کونر ایمڈن اور ان کے ساتھیوں نے طبی جریدے بی ایم جے کو بتایا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بے ترتیب دھڑکن والی خواتین کا مردوں کے مقابلے کم علاج ہوتا ہے۔دریں اثنا ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو ان تشخیص سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ جن اموات کو بچایا سکتا ہے ان کے لیے زیادہ کیا جا سکے۔برطانیہ میں تقریبا دس لاکھ افراد کو اے ایف ہے اور آپ اسے خود سے اپنی نبض پر 30 سیکنڈ تک انگلی رکھ کر جانچ سکتے ہیں۔دھڑکن کے تسلسل میں کبھی کبھی تسلسل کا نہ ہونا جیسے کئی بار دھڑکن کا نہ آنا یا پھر ایک ساتھ دو دھڑکن کا آجانا عام ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں تاہم اگر آپ کی دھڑکن میں یہ بات متواتر طور پر غیر مسلسل ہے تو پھر آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ دھڑکن بہت تیز بھی ہو سکتی ہے ٗ آرام کی حالت میں بھی ایک منٹ میں 100 سے زیادہ ہو سکتی ہے جس سے سرچکرانا یا پھر سانس کا مختصر ہونا ہو سکتا ہے۔دواؤں سے اے ایف کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے جو اے ایف کے مرض سے دو چار ہیں ان کے دل کے بالائی چیمبر جنھیں ایٹریا کہا جاتا ہے وہ اچانک سکڑجاتے ہیں، بعض اوقات اتنا جلدی کہ دل کے عضلوں کو دو بار سکڑنے کے درمیان ٹھیک سے پرسکون ہونے کا موقع نہیں ملتا۔برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کی جون ڈیویسن کے مطابق خواتین اور مرد دنوں میں اے ایف کی جانچ جتنی ہونی چاہیے نہیں ہوپاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید مطالعوں کی ضرورت ہے۔


آسٹریلیا میں پولیس سارجنٹ کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص مارا گیا 

مذکورہ شخص کی شناخت اور پولیس اسٹیشن میں آنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ٗپولیس حکام 

سڈنی ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )آسٹریلیا میں پولیس سارجنٹ کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص مارا گیا سڈنی کے مغربی علاقے میں ایک شخص نے پولیس اسٹیشن میں گھس کر اہلکاروں کے ساتھ الجھنا شروع کر دیا جس پر ایک سارجنٹ نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجہ میں مزکورہ شخص موقع پر ہلاک ہو گیا پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کی شناخت اور پولیس اسٹیشن میں آنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔


مالی میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 3پولیس اہلکار مارے گئے 

بماکو ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )مالی میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 3پولیس اہلکار مارے گئے ۔مقامی پولیس حکام کے مطابق مالی کے مشہور سیاحتی مقام مو پتی میں ڈیوٹی پر مامور 3 پولیس اہلکاروں پرعسکریت پسندوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تینوں اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے ۔اس سے قبل جمعہ کو بھی عسکریت پسندوں کے حملے میں تین سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے ٗحملے سے قبل مالی کے 55ویں قومی دن کی تقریب سے خطاب کے دوران صدر ابراہیم بوبکر کیاتا نے ملکی افواج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن امان برقرار رکھنے کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والے سپاہیوں کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائیگا۔



برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مسخرہ قراردیدیا

ڈونلڈ ٹرمپ زہریلا شخص ہے اسے برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے، اراکین پارلیمنٹ
لندن۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف زہریلی زبان اور اشتعال انگیز خیالات پر یوں تو ہر طرف سے سخت تنقید کی گئی لیکن برطانوی پارلیمنٹ نیبھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر برطانیہ میں داخلے پر پابندی کی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ارکان پارلیمنٹ نے ٹرمپ کو زہریلا، احمق اور مسخرہ شخص قرار دے دیا۔برطانیہ میں ساڑھے 5 لاکھ سے زائد شہریوں نے امریکی ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک درخواست پر دستخط کیے اور مطالبہ کیا کہ ان پر برطانیہ میں آنے پر پابندی عائد کردی جائے جس پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہوگیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحث کے آغاز میں ہی ارکان پارلیمنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی اورکچھ ارکان نے تو انہیں احمق، زہریلا اور مسخرہ شخص قرار دیتے ہوئے برطانیہ میں ان کے داخلے پر فوری پابندی کے مطالبے کی حمایت کی۔ سب سے دلچسپ تنقید لیبر پارٹی کے شیڈو منسٹر جیک ڈرومے نے کی جس میں ان کا کہنا تھاکہ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو برطانیہ کے ساحل سے 1000 میل دور رکھا جائے۔ڈیموکریٹک پارٹی کے گیون روبنسن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اگرچہ ایک کامیاب بزنس مین ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ایک مسخرہ شخص ہے اور وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے انتہائی خطرناک انداز میں انتہائی حساس معاملات کو چھیڑ رہے ہیں۔ حکمران جماعت کی رکن وکٹوریہ ایٹکنز کا کہنا تھا کہ مسلمانوں پر ٹرمپ کا تبصرہ غلط ہے اور وہ صدر بن گئے تو ایک پاگل صدر ہوں گے اور اگر وہ ان کے حلقے میں آجائیں تو لوگ انہیں مسخرہ کہیں گے جبکہ ان کے ایک اور رکن پارلیمنٹ تولیپ صدیق کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک زہریلا شخص ہے اور وہ اپنے الفاظ سے کمزور کیمونیٹیز کے درمیان تناؤ کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔مسلمانوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لاکھوں لوگوں کی اپیل پر پارلیمنٹ میں بحث کے اختتام پر ووٹنگ نہیں کی جاتی اور ارکان پارلیمنٹ کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ مطلوبہ شخصیت پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کریں اس لیے ان کے الفاظ پر کسی قسم کے ہتک عزت کا دعوی دائر نہیں کیا جا سکتا۔برطانوی پارلیمنٹ کی اس شدید تنقید کاجواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے انٹرنیشنل گلف لنکس کے ایگزیکٹو نائب صدر کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ کی تنقید مضحکہ خیز اور فضول ہے اور اس سے برطانوی پارلیمنٹ ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہوئے دنیا کوخوفناک پیغام دے رہی ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES