dushwari

دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد کی دولت اب دنیا کے باقی 99 فیصد افراد کی دولت کے برابر ہے ٗآکسفیم (مزید اہم ترین خبریں)

دنیا کے امیر ترین 62 افراد کے پاس عالمی سطح پر موجود 50 فیصد غریبوں کے جتنی دولت ہے ٗ رپورٹ 

لندن ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )فلاحی ادارے آکسفیم نے کہا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد کی دولت اب دنیا کے باقی 99 فیصد افراد کی دولت کے برابر ہے۔اس نے اپنی رپورٹ کے لیے کریڈٹ سوئس کے اکتوبر کے اعدادوشمار کو بنیاد بنایا اور آئندہ ہفتے ڈیووس میں ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں سے اس عدم مساوات کے خلاف اقدامات کرنے کی اپیل کی ۔آکسفیم نے بتایا کہ دنیا کے امیر ترین 62 افراد کے پاس عالمی سطح پر موجود 50 فیصد غریبوں کے جتنی دولت ہے۔اس نے اپنی رپورٹ میں لابی بنانے والوں اور ٹیکس میں بچائے جانے والے پیسے کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔

خیال رہے کہ آکسفیم نے گذشتہ سال یہ پیشنگوئی کی تھی کہ دنیا کی ایک فیصد آبادی دولت کے معاملے میں باقی ماندہ 99 فیصد آبادی کو پیچھے چھوڑ دے گیا۔ادارے کے مطابق جس کے پاس 68800 امریکی ڈالر نقدی یا اتنی مالیت کے اثاثے ہیں وہ دنیا کے دس فیصد امیر لوگوں میں شامل ہے۔دنیا کے سر فہرست ایک فیصد امیر افراد کی صف میں شامل ہونے کے لیے سات لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر کے اثاثے یا نقدی درکار ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لندن میں آپ کے پاس ایک متوسط قسم کا گھر بغیر رہن کے ہے تو آپ دنیا کے ایک فیصد امیر لوگوں میں شامل ہیں۔بہرحال ان اعدادوشمار میں بہت سے شگاف ہیں مثال کے طور پر انتہائی امیر لوگوں کی دولت کا اندازہ لگاپانا مشکل ہے اور کریڈٹ سوئس کے مطابق دس فیصد امیر ترین افراد کی دولت کی بنیاد پر ایک فیصد امیر ترین لوگوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں غلطی کے امکان ہیں۔عالمی رپورٹ کی حیثیت سے اس میں ان ممالک کے بھی اعدادوشمار ہیں جہاں سے درست اعدادوشمار حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔آکسفیم کے مطابق دنیا کے 50 فیصد غریب لوگوں کی مجموعی دولت کے برابر دولت صرف 62 افراد کے ہاتھوں میں ہے اور یہ دولت کے ایک جگہ مرتکز ہونے کی مثال ہے۔خیال رہے کہ 2010 میں 50 فی صد غریبوں کے جتنی دولت 388 افراد کی مجموعی دولت کے برابر تھی۔آکسفیم نے کہا کہ تمام لوگوں کی خوشحالی، آنے والی نسلوں اور کرہ ارض کیلئے معیشت بنانے کے بجائے ہم نے ایک ایسی معیشت بنائی ہے جو صرف ایک فی صد کیلئے کام کرتی ہے۔آکسفیم نے حکومتوں سے اس رجحان کے برخلاف اقدام پر زور دیا اورکہا کہ مزدوروں کی اجرت اور ایگزیکٹیو افسران کے انعامات کے درمیان کی خلیج کو کم کیا جائے۔



ایران اب ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکے گا ٗامریکی صدر اوباما

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی بجائے سفارت کاری کے ذریعے تاریخی پیش رفت ہوئی ہے ٗ میڈیا سے گفتگو 

واشنگٹن ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )امریکی صدر براک اوباما نے کہاہے کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران ایٹمی ہتھیار کبھی نہیں بنا سکے گامیڈیا سے گفتگو میں صدر اوباما نے کہاکہ ایران سے نئے تعلقات خوش آئند ہیں ٗ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے تاریخی پیش رفت ہوئی ٗامریکی صدر نے پانچ ایرانی نژاد امریکی شہریوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا۔ امریکی صدر نے کہاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی بجائے سفارت کاری کے ذریعے تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔


امریکہ نے بیلسٹک میزائل تجربات میں ملوث ایرانی شخصیات اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں لگا دیں 

واشنگٹن۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )امریکہ نے بیلسٹک میزائل تجربات میں ملوث ایرانی شخصیات اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ نے نئی پابندیوں کے تحت میزائل تجربات میں ملوث ایران کی گیارہ کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد پر بین الاقوامی مالیاتی نظام کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے ۔ ایک دن پہلے ہی چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پرعمل درآمد کی تصدیق کے بعد ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی گئی تھیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران نے دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ۔


امریکہ اور ایران کا 35برس پرانا مقدمہ باہمی رضامندی سے ختم 

انقلاب ایران سے قبل تہران نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کی رقم امریکہ کو فراہم کی تھی 

واشنگٹن ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )امریکہ اور ایران نے 35 برس پرانے مقدمے کو باہمی رضامندی سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اب امریکہ ایران کو ایک ارب 70کروڑ ڈالر کی واجب الادا رقم فراہم کریگا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کو رقم کی ادائیگی کا اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کیا انقلاب ایران سے قبل تہران نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کی رقم امریکہ کو فراہم کی تھی جس کے بدلے میں اسلحہ خریدا جانا تھا تاہم انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات ختم ہوگئے تھے ۔1981 ء میں اس رقم کا تنازع حل کرنے کے لیے ایک ٹریبونل قائم کیا گیا تھا جہاں یہ مقدمہ گزشتہ35 برس سے چل رہا تھا تاہم اب دونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے معاملے کو حل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے ٗرضامندی کے نتیجے میں امریکہ ایران کو اصل رقم اور سود ملا کر کل 1 ارب70کروڑ ڈالر ادا کرے گا۔ادھر صدر اوباما نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جو رقم فراہم کررہا ہے وہ اس رقم سے کہیں کم ہے جو ایران کو مقدمہ کے صورت میں حاصل ہوتی۔ 


ایران کو امریکہ کی یاری بھی بھاری پڑ گئی، بیلسٹک میزائل پروگرام کی پاداش میں نئی پابندیوں کا اعلان 

واشنگٹن۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع) امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی پاداش میں نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا،نئی پابندیوں کا اطلاق میزائل تجربات میں ملوث ایران کی 11 کمپنیاں اور ان سے وابستہ افراد پر ہو گا جوبین الاقوامی مالیاتی نظام استعمال نہیں کر سکیں گے،نئی پابندیاں پانچ ایرانی شہریوں اور متحدہ عرب امارات اور چین میں رجسٹرڈ چھ کمپنیوں پر بھی عائد کی گئی ہیں ۔امریکی میڈیا کے مطابق باراک اوبامہ انتظامیہ نے ایرانپر ایٹمی پروگرام سے متعلق لگائی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب ایران پر بلسیٹک میزائل پروگرام کی پاداش میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا کیا ہے ۔اوباما انتظامیہ نے گزشتہ ماہ میزائل تجربے کے جواب میں ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔اب ان پابندیوں کا اطلاق کر دیا ہے۔نئی پابندیاں پانچ ایرانی شہریوں اور متحدہ عرب امارات اور چین میں رجسٹرڈ چھ کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں جو امریکی حکام کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔اوباما انتظامیہ نے گزشتہ ماہ میزائل تجربے کے جواب میں ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکی حکام کے مطابق ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات کے باعث ان پابندیوں کا اعلان موخر کردیا گیا تھا۔امریکی حکام نے خبر رساں اداروں کو بتایا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق ان پابندیوں کا اعلان 30 دسمبر کو ہونا تھا لیکن ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اعلان سے ایک روز قبل خود اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کو متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے ان پابندیوں کا اعلان کیا تو دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کا مجوزہ تبادلہ خطرے میں پڑسکتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ایرانی حکومت نے اپنی قید میں موجود پانچ امریکی شہریوں کو رہا کردیا ہے جن میں سے تین ایران سے امریکہ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔قیدیوں کے تہران سے روانہ ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک 11 شخصیات اور کمپنیوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جس پر عالمی پابندیاں جاری رہیں گی۔امریکہ کے وزیرِ خزانہ ایڈم سزوبن نے کہا ہے کہ ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیاں امریکی حکومت کے اس عزم کا اظہار ہیں کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے سے روگردانی کی تو اسے اس کی سزا ملے گی۔یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب ایک دن قبل ہی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی گئیں تھیں۔امریکہ اور یورپی یونین کیجانب سے ایران پر پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران نے دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کی تھی اور کہا تھا ایران کے عوام کے لیے آج خوشی کا دن ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر گذشتہ برس جولائی میں معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ویانا میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کر دیے ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔


ایران سے پابندیاں اٹھانے پر اسرائیل ناراض

واشنگٹن/تل ابیب۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل نے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے عوض امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے باوجود ایران نے ایٹم بم بنانے کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کے نتیجے میں اسے مشرقِ وسطی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے مزید وسائل میسر آجائیں گے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کی کڑی نگرانی کرے اور جوہری معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب سخت پابندیاں عائد کرکے دے۔نیتن یاہو نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو ایران سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔


شمالی کوریا کی جوہری تجربے بند کرنے کی مشروط پیشکش

پیانگ یانگ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع) شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے اور واشنگٹن اور سیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے جوہری تجربات کرنا بند کر دے گا۔یہ بات شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر جاری ایک بیان میں کہی گئی جب کہ ماضی میں پیانگ یانگ کی طرف سے کی گئی ایسی ہی پیشکشوں کو امریکہ اور جنوبی کوریا مسترد کر چکے ہیں۔پیانگ یانگ کے سرکاری ٹی وی "کے آر ٹی" نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ "اب بھی جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام تجاویز قابل عمل ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ سے امن معاہدے اور مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے ہم اپنے جوہری تجربات کو بند کر دیں گے۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ پیشکش نہیں سنی۔"لیکن دیکھیے، جمہوریہ کوریا کے ساتھ ہماری بہت اہم اتحادی عزم موجود ہے جسے ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اتحاد جنوبی کوریا کے عوام کے لیے ہر صورت تیار رہے ان کے تحفظ اور جزیرہ نما کوریا میں سلامتی کے لیے۔شمالی کوریا نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا جس کے خلاف عالمی برادری کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔یہ جوہری تجربہ ہفتہ کو امریکی نائب وزیر خارجہ ٹونی بلنکن کی جنوبی کوریا کے نائب وزیرخارجہ لم سنگ نام سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو کا محور رہا۔بلنکن کا کہنا تھا کہ "ہمیں بہت اہم چیلنج کا سامنا ہے لیکن ہم مل کر اس کا سامنا کر رہے ہیں اور ہم امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین اس شراکت داری پر شکرگزار ہیں۔


کیلی فور نیا،خلائی ر اکٹ لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ

لاس اینجلس۔ 18 جنوری (فکروخبر/ذرائع) امریکی ریاست کیلی فور نیا میں خلائی ر اکٹ لینڈنگ کے دوران مقررہ مقام سے دور گر کر تباہ ہو گیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق خلائی مشن سے واپسی پر راکٹ نے کیلی فورنیا میں موجود وینڈین برگ ائر فورس بیس پر لینڈ کرنا تھا تا ہم خلائی راکٹ اپنی مقررہ جگہ سے دور سمندر میں موجود کسی دوسرے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا۔کیلی فورنیا بیسڈ کمپنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تباہ شدہ خلائی راکٹ کے ٹکڑے نسبتا بڑے ہیں جنہیں اکھٹا کر کے ان کے کچھ اجزا کو دوبارہ قا بل استعمال بنایا جائے گا۔کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لینڈنگ کے دوران اس قسم کے حادثات اکثر ہائی سپیڈ کے باعث پیش آتے ہیں تا ہم اس راکٹ کی ٹانگ کو لاک نہیں کیا گیا جسکی وجہ راکٹ زمین پر گرتے ہی تباہ ہو گیا۔ 



نیوزی لینڈ ، ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، مسافروں کو بچالیا گیا

ویلنگٹن ۔ 18 جنوری (فکروخبر/ذرائع) نیوزی لینڈ کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی سے درجنوں مسافروں کو بچالیا گیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی سے 57 لوگوں کو زندہ بچا لیا گیا ۔جن میں سے دو افراد کوزخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔نیوزی لینڈ سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر شمال کی طرف موجود سمندر میں سیاحوں کی مسافر کشتی پیر کی صبح حادثہ کا شکار ہوگئی ‘ مقامی پولیس حکام کے مطابق دو افراد نے جان بچانے کی خاطر کشتی سے سمندر میں چھلانگ لگا دی جس کے باعث وہ زخمی ہوگئے ۔ تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں زندہ بچا لیا گیا مزید افراد کی تلاش کے لئے ریسکیو کارروائیوں میں ایک ہیلی کاپٹر اور متعدد تعداد میں ریسکیو کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق کشتی میں سوار مسافروں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES