dushwari

حضرت سمیہؓ کی شہادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی

اسامہ عاقل

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا خواتین اسلام میں پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کی پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً پانچ سال پہلے یاسر عبسی نامی ایک شخص جو یمن کا رہنے والا تھا اپنے بھائی کو تلاش کرتا ہوا مکہ تک آپہونچا، مکہ میں قیامکے دوران اس کی ملاقات مکہ کے ایک رئیس ابوحذیفہ بن المغیرہ مخرومی سے ہوئی ابوحذیفہ نے یاسر عبسی کے اخلاق وکردار سے متاثر ہوکر دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور بہت جلد دونوں میں گہری دوستی ہوگئی۔ یاسر عبسی مستقل طو رپر مکہ میں رہنے لگے۔

ابوحذیفہ مخرومی کی ایک کنیز سمیہ تھی ابوحذیفہ مخرومی اپنی اس پاک باز کنیز کی شادی یاسر عبسی سے کردی۔ اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں عمار اور عبداللہ سے نوازا۔ عمار کی پیدائش پر ابوحذیفہ نے انہیں آزاد کردیاتھا۔ جب نبی اکرم ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو آپ کا بچپن ، لڑکپن اور جوانی ان کی آنکھوں کے سامنے گذرا۔ دونوں نبی اکرم ﷺ کے اخلاق وکردار سے خوب واقف تھے جب پیغمبر اسلام نے اہل مکہ کو دعوت حق دی تو سمیہ بنت جناط نے اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں سمیت فوراً اسلام قبول کرلیا۔ 
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا قبول اسلام سے قبل ابوحذیفہ مخرومی کا انتقال ہوچکا تھا۔ جس وقت آپ نے اسلام قبول کیا وہ مسلمانوں کے لئے انتہائی صبر آزما امتحان کا دور تھا جو شخص بھی مسلمان ہوتا مشرکین مکہ کے ایسے ایسے مظالم کا نشانہ بنتا جس کے تصور سے ہی انسان کانپ اٹھے۔ اسلام دشمنی میں اصل مکہ کے تعلق اور رشتے کا بھی لحاظ نہ کرتے۔ حضرت سمیہؓ کااسلام قبول کرنا اہل مکہ کو بہت ہی ناگوار گزرا۔ کفار مکہ نے آپ کو اسلام چھوڑدینے کے لئے مجبور کیا۔ اس سلسلے میں لالچ بھی دیا اور ڈرایا دھمکا یا بھی، لیکن آپ کو حق کے راستے سے ہٹانے میں ناکام رہے۔
بنی مخزوم کے ظالم لوگ آپ کی ضعیف العمری کا بھی خیال نہ کرتے، ٹھوکروں، گھونسوں اور لکڑیوں سے اتنا مارتے کہ آپ تکلیف کی شدت سے بیہوش ہوجاتیں، جب ہوش آتا تو آپؓ سے اسلام چھوڑدینے کا کہاجاتا ۔ آپؓ جواب میں یہی کہتیں! ’’ نبی ﷺ پر ہماری ہزار جانیں قربان‘‘ آپ کے یہ الفاظ کفار مکہ کا غصہ اور بڑھا دیتے کفار مکہ آپؓ کے والوں کو لوہے کی زرہیں پہنا کر جلتی ہوئی ریت پر لٹاتے، پشت کو دھکتے ہوئے انگاروں سے جلاتے اور کبھی پانی میں غوطے دیتے، لیکن توحید ورسالت سے آپ کے عشق کا یہ عالم تھا کہ زبان سے کلمہ حق کے سوا کچھ نہیں کہتیں۔ راہ حق سے ذرہ برابر بھی ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔
ایک دن نبی اکرم ﷺ بنومخزوم کے محلے سے گزر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے دیکھا کفار مکہ نے حضرت سمیہؓ کو لوہے کی زرہ پہناکر دھوپ میں تپتی ریت پر لٹارکھا ہے اور پاس کھڑے ہوکر قہقہے لگارہے ہیں ، حضرت سمیہؓ ضعیف العمری کے باوجود تمام تکالیف برداشت کرتے ہوئے صبر وشکر کررہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی آنکھیں حضرت سمیہؓ کی بے بسی دیکھ کر آنسوؤں سے بھر گئیں۔ آپ نے حضرت سمیہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’صبر کرو، تمہارا ٹھکانہ جنت ہے‘‘۔
ایک دن حضرت سمیہؓ دن بھر کی سختیاں برداشت کرنے کے بعد گھر واپس پہونچیں تو ابوجہل نہایت غصے میں تھا۔ اس نے حضرت سمیہؓ سے اسلام چھوڑدینے کا مطالبہ پھر دہرایا ، حضرت سمیہؓ نے انکار کیا تو ابو جہل غصہ سے پاگل ہونے لگا۔ اس نے آپؓ کو سخت اذیتیں دیں، لیکن سمیہ نے یہی جواب دیا’’جان تو قربان کی جاسکتی ہے لیکن اسلام نہیں چھوڑا جاسکتا‘‘۔
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے ابوجہل کا غصہ انتہا کو پہونچ گیا، لہذا اس نے حضرت سمیہؓ کو گالیاں دینی شروع کردیں اور آپؓ پر نیزہ تان کر ڈرایا کہ اگر آج تو نے اسلام نہ چھوڑا تو میں تجھے نیزہ مارکر قتل کردوں گا۔
حضرت سمیہؓ نے ابوجہل کی دھمکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ ابوجہل آگ بگولہ ہوکر حضرت سمیہؓ کو کلمہ پڑھنے سے روکنے لگا، لیکن حضرت سمیہؓ زور زور سے کلمہ پڑھتی رہیں۔ ابوجہل جب ہرکوشش میں ناکام ہوگیا اور اسے احساس ہوا کہ وہ حضرت سمیہؓ کو اسلام چھوڑنے پر مجبو رنہیں کرسکتا تو اس نے پوری طاقت سے حضرت سمیہؓ کو نیزہ مارا جو آپؓ کو ناف کے نیچے لگا۔ آپؓ خون میں لت پت ہوکر گرپڑیں اور تکلیف کی شدت سے تڑپنے لگیں۔ آخر اسی حالت میں شہادت کے عظیم مرثیے پر خاتمہ ہوئیں۔ حضرت سمیہؓ کی شہادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی۔ یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے اللہ کی زمین رنگیں ہوئی۔ ابوجہل نے حضرت سمیہؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ کو بھی تیر مار کر شہید کردیا۔ آپؓ کے شوہر حضرت یاسرؓ عبسی بھی لرزہ خیز اذیتیں اور ظلم سہتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔
نبی کریم ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ ’’اے اللہ آل یاسر کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھ‘‘ حضرت سمیہؓ خواتین اسلام میں پہلی خاتون تھیں جنہوں اسلام کے خاطر نہایت ضعیف العمری میں کفار مکہ کے مظالم صبروشکر سے برداشت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کی پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت سمیہؓ کی شیادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES