dushwari

امّ المؤمنین حضرت میمونہؓ بنت حارث

فکروخبرتحقیقی مضمون 

اصل نام برّہ تھا۔ سرور عالمﷺ کے نکاح میں آنے کے بعد میمونہ نام رکھا گیا۔ قبیلہ قیس بن عیلان سے تھیں۔ پہلا نکاح مسعود بن عمرو ثقفی سے ہوا، پھر ان سے طلاق کے بعد ابو رُہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں آئیں۔جو ۷ ؁ھ میں وفات پاگئے۔ اور حضرت میمونہؓ بیوہ ہوگئیں۔ اسی سال رسول اکرمﷺ عمرہ کے لئے مدینہ سے مکہ روانہ ہوئے تو آپؐ کے عم محترم حضرت عباس بن عبدالمطلب نے میمونہ سے نکاح کر لینے کی تحریک کی۔ حضورؐ رضامند ہوگئے۔چنانچہ احرام کی حالت میں ہی شوال ۷ ؁ھ میں ۵۰۰ درہم حق مہر پر حضرت میمونہ سے نکاح ہوا۔

عمرہ سے فارغ ہوکر مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر بمقام سرف حضورﷺ نے قیام فرمایا۔ حضورﷺ کے غلام حضرت ابو رافع حضرت میمونہ کو ساتھ لیکر اسی جگہ آگئے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی۔ حضرت میمونہؓ رسول کریمﷺ کی آخری بیوی تھیں۔ یعنی ان سے نکاح کے بعد حضورﷺ نے اپنی وفات تک کوئی اور نکاح نہیں کیا۔
حضرت میمونہؓ نہایت خداترس اور متقی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے انکے بارے میں فرمایاہے: میمونہ ہم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور صلۂ رحم کا خیال رکھنے والی تھیں۔ (تذکار صحابیات/ص:۸۷؍۸۸)
حضرت میمونہؓ نے ۵۱ ؁ھ میں سرف کے مقام پر (جہاں انکی رسم عروسی ادا ہوئی تھی) وفات پائی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES