dushwari

امّ المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما

فکروخبر اداراتی تحقیقی مضمون

حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہما کی والدہ حضرت زینب بنت مظعون تھیں، جو بڑی جلیل القدر صحابیہ تھیں۔ عظیم المرتبت صحابی حضرت عثمان بن مظعون انکے ماموں اور فقیہ اسلام حضرت عبداللہ بن عمرؓ انکے حقیقی بھائی تھے۔حضرت حفصہؓ بعثت نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئیں۔ پہلا نکاح حضرت خنیس بن حذافہ سے ہوا جو بنو سہم سے تھے۔ وہ دعوت حق کی ابتدا میں شرف اسلام سے بہرہ ورہوگئے اور حضرت حفصہ بھی انکے ساتھ ہی سعادت اندوز اسلام ہوگئیں۔ (حضرت خنیسؓ ۳ ؁ھ میں غزوۂ احد میں شدید زخمی ہوگئے اور علاج کے باوجود جاں بر نہ ہوسکے اور حضرت حفصہ بیوہ ہوگئیں)۔اسکے بعد حضورﷺ نے حضرت حفصہ سے نکاح کرلیا۔ (تذکار صحابیات/طالب الہاشمی /ص:۵۱

شمائل وفضائل: مزاج کی فطری تیزی کے باوجود حضرت حفصہؓ نہایت خداترس تھیں اور اپنا بیشتر وقت عبادت الٰہی میں گزارتی تھیں۔ حافظ ابن عبدالبرؒ نے الاستیعاب میں یہ حدیث انکی شان میں بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ جبرئیل امینؑ نے حضرت حفصہؓ کے بارے میں یہ الفاظ حضورﷺ کے سامنے کہے: ’’وہ بہت عبادت کرنے والی ، بہت روزے رکھنے والی ہیں(ائے محمدؐ )وہ جنت میں بھی آپکی زوجہ ہیں‘‘۔رسول کریمؐ نے حضرت حفصہؓ کی تعلیم کا خاص اہتمام فرمایا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضورﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت شفاء بنت عبداللہ عدویہ نے انکو لکھنا سکھایا۔ بعض اہل سیر نے لکھا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے قرآن حکیم کے تمام کتابت شدہ اجزاء کو یکجا کرکے حضرت حفصہؓ کے پاس رکھ دیا۔ یہ اجزاء حضورﷺ کی وفات کے بعد تا زندگی انکے پاس رہے۔ یہ ایک عظیم الشان شرف تھا جو حضرت حفصہ کو حاصل ہوا۔ حضرت حفصہ دجال کے شر سے بہت ڈرتی تھیں۔حضرت حفصہ علم و فضل کے لحاظ سے بھی بڑے بلند مرتبہ پر فائز تھیں۔ ان سے سات حدیثیں مروی ہیں۔ حضرت حفصہؓ نے ۵۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔حضورﷺ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
(تذکار صحابیات/طالب الہاشمی /ص::۵۴)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES