dushwari

ان مسلم خواتین کو انصاف کب ملے گا؟

کیا ریپ کا بھی مذہب ہے؟

غوث سیوانی، نئی دہلی

مظفر نگر فسادات کو سال پورے ہونے والے ہیں۔ یہاں کی زندگی اب معمول کی جانب لوٹ رہی ہے اور پرانے زخم مندمل ہونے لگے ہیں مگر کچھ ایسی خواتین بھی یہاں ہین جن کے زخم کبھی نہیں بھرسکتے ہیں۔انھیں انصاف کا انتظار ہے مگر انصاف ان سے کوسون دور ہے۔ آج بھی ان کی آہیں لمبے لمبے گھونگھٹ کی اوٹ میں گھٹ رہی ہیں۔ انھیں جو زخم لگے ہیں ان کا کوئی علاج نہیں مگر وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتی ہیں۔ یہ وہ مظلوم عورتیں ہیں جن کے ساتھ زنابالجبر کیا گیااور بیشتر مجرم اب تک پولس کی گرفت سے باہر ہیں۔

کچھ زانی پکڑے بھی گئے ہیں مگر ریپ کی شکار مظلوم عورتوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ مقدمات واپس لے لیں۔ ان عورتوں پر ایک ظلم تو یہ ہوا کہ ان کی عصمتیں لوٹی گئیں اور دوسرا ظلم یہ ہوا کہ یہ انصاف کو ترس رہی ہیں۔ مظفر نگر اور شاملی میں فسادات کے دوران ریپ کی شکار ہونے والی صرف سات خواتین سامنے آئی ہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ۱۰۰ مسلمان عورتیں اس ظلم کا شکار ہوئی ہیں مگر وہ سماجی بدنامی کے سبب پردے سے باہر نہیں آئی ہیں۔ واضح ہوکہ گزشتہ سال اس علاقے میں ہوئے فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۷۲ افراد کی جانیں گئی تھیں مگر غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حال ہی میں انگریزی کے میگزین ’’آؤٹ لک‘‘نے عصمت دری کی شکار عورتوں پر ایک اسٹوری شائع کی ہے ۔ میگزین کی نمائندہ نیہا دکشت نے ان عورتوں کے درد کو جاننے کی کوشش کی جن کی عصمت تباہ کی گئی اور آج بھی ان کی سسکیاں بلند ہوکر انصاف کو آواز دے رہی ہیں۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ جب ایک لڑکے نے کسی لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اس کی اِس حرکت کو پوری قوم کی حرکت کیوں مان لیا گیا اور اس کے جواب میں ان بے گناہ عورتوں کی عصمت دری کیوں کی گئی؟ نربھیا کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اسے تو زانیوں کی برادری اور مذہب کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا گیا تھا،پھر مظفر نگر اور شاملی میں ایسا کیوں کیا گیا؟ یہاں فرقہ وارانہ فساد کا سبب یہ بتایا گیا کہ کوال میں کسی مسلمان لڑکے نے کسی ہندو لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی اور اسے پوری مسلم قوم کی حرکت مان لیا گیا۔ ہندووں کی مہاپنچائت ہوئی ،جس میں بی جے پی کے کئی لیڈر شریک ہوئے اور مہاپنچائت سے واپسی کے وقت مسلمانوں پر حملے شروع کردیئے گئے۔ انھوں نے ’’بیٹی بچاؤ اور بہو بناؤ‘‘کا نعرہ دیا تھا جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہندووں کی بیٹی کو مسلمان لڑکے سے شادی سے روکو اور مسلمان کی بیٹی کو اپنی بہو بناؤ۔ ظاہر ہے یہ ایک اشتعال انگیز بات تھی اور اسے بہانہ بناکر بہت سے معصوم لوگوں کی جانیں لی گئیں اور خواتین کی عزت سے کھلواڑ کیا گیا۔زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جب دلی میں نربھیا کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس پر پورا ملک چیخ پڑا مگر مظفر نگر اور شاملی میں جن عورتوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ان کی حمایت میں کوئی سامنے آنے کو تیار نہیں۔ وہ آج بھی تنہا لڑائی لڑ رہی ہیں۔ سوال یہ ے کہ کیا عصمت کا بھی مذہب ہے؟
وہ عادی زانی تھے
فغانہ (ضلع مظفرنگر) کی چالیس سالہ ثمینہ(بدلا ہوا نام) اب پہلے سے زیادہ مضبوط حوصلوں کی مالک ہوگئی ہے اور اسے امید ہے کہ وہ انصاف کی لڑائی جیت جائیگی۔ اس کا شوہر راجستھان میں سیلس مین کا کام کرتا ہے اور ابھی اسے واپس گئے صرف پندرہ دن بیتے تھے کہ ثمینہ پر قیامت گذر گئی۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کرتی تھی۔۷ستمبر۲۰۱۳ء کو اس کے ساتھ ریپ ہوا اور پھر پاراملیٹری فورسیز کے جوانوں نے اسے پناہ گزیں کیمپ میں لاکر پہنچادیا۔ اس کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ایک بیٹی ہے۔ اس کا کہناہے مجھ پر جو قیامت ٹوٹی ہے میں اس کا ذکر کبھی اپنے بچوں کے سامنے نہیں کرپاؤنگی۔ میرے ساتھ زیادتی کرنے والے وہی لوگ تھے جن کے کھیتوں میں کام کیا کرتی تھی۔ وہ مجھے کام کرنے کے بعد پیسے نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تو موٹی ہے اور کام نہیں کرپاتی ہے پھر تجھے پیسے کیسے دیں۔ ثمینہ کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والی چمار عورتوں کو پیسے دینے سے پہلے وہ لوگ ریپ کیا کرتے تھے اور یہ ان کا معمول تھا مگر میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا لہٰذا فساد کے دوران میرے ساتھ یہ سب کیا گیا۔ اسے کیس واپس لینے کے لئے دھمکیاں بھی ملیں مگر وہ لڑتی رہی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اب چارمجرموں کے خلاف فرد جرم داخل ہوچکی ہے۔ 
وہ اب بھی خوفزدہ ہے
۴۸سالہ خالدہ بھی فغانہ گاؤں کی رہنے والی ہے۔ اس نے ریلیف کیمپ میں ہی اپنی ایک بیٹی کی شادی کی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ میں خود کو اس لائق نہیں سمجھتی تھی کہ اپنی بیٹی کی عزت و عصمت کی حفاظت کرسکون گی لہٰذا اس کی شادی کردینا ہی مناسب سمجھا۔ خالدہ بھی خود گینگ ریپ کی شکار ہوچکی ہے اور اس کے بعد وہ پناہ گزیں کیمپ تک پہنچی تھی۔اس کے ساتھ ریپ کی واردات انجام دینے والوں کے نام ہیں دیویندرجوکہ ایک دکان چلاتا تھا، سنیل جو کہ درزی ہے،اور رام کمار و دھرمیندر۔ خالدہ نے اپنا کیس اس وقت اٹھالیا تھا جب اس کے اکلوتے بیٹے پر ایک جاٹ نے اپنی بندوق تان دی تھی۔ اسے کوف تھا کہ اس کا بیٹا مارا جائے گا مگر جب اس نے دیکھا کہ دوسری متاثرین سامنے آرہی ہیں اور انصاف کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں تو اس نے دوبارہ اپنا کیس کھلوایا۔ اب تک مجرموں کے خلاف چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے مگر اسے سرکار کی طرف سے معاوضہ نہیں ملا ہے۔ خالدہ کے مطابق اس کے شوہر کے پاس اب بھی جاٹ آکر دھمکیاں دیتے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد ایک جاٹ نے اس کے شوہر سے آکر کہا،اب تو اپنی سرکار آگئی۔
وہ مجرموں کو سزا دلانا چاہتی ہے
شازیہ کی عمر تیس سال ہے۔ وہ شاملی کے لانکھ گاؤن کی رہنے والی ہے۔ گزشتہ سال ۸ ستمبر کو اس کے ساتھ بھی گینگ ریپ کیا گیا۔ وہ خود ایک درزی ہے اور اس کا شوہر بھی یہی کام کرتا ہے۔ وہ لوگ اپنی دکان کے پیچھے کے مکان میں رہتے تھے۔ ان کے دوبچے ہیں جن میں سے ایک بیمار تھا جسے لے کر اس کا شوہر ہسپتال میں تھا اور دوسرا بچہ اس کے ساتھ گھر میں تھا۔ اسی دوران فساد شروع ہوا اور جب ہنگامہ بڑھا تو وہ کسی طرح جان بچاکر پیچھے کے دروازے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نے رات کے وقت ایک گنے کے کھیت میں پناہ لیا اور پھر کسی طرح وہاں سے نکلی مگر شاملی ۔مظفر نگر روڈ پر برائٹ زون اسکول کے پیچھے اسے کچھ لوگوں نے پکڑ لیا اور اس کی عصمت دری کی۔ بعد میں وہ کسی طرح لونی پناہ گزیں کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ سکندر، مہیندر اور کلدیپ کے خلاف عصمت دری کا کیس درج ہے جنھیں سزا دلانے کے لئے وہ جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔
فاطمہ کی عمر باون سال ہے مگر وہ بھی جنسی بھیڑیوں سے محفوظ نہیں رہ پائی۔ فغانہ (مظفرنگر) کی رہنے والی فاطمہ کا کہنا ہے کہ اس کی عصمت دری کرنے والے اس کے بچوں کی عمر کے لوگ تھے۔ وہ دہائیاں دیتی رہی کہ اسے مارڈالیں مگر عصمت دری نہ کریں مگر ظالم کہاں سننے والے تھے۔ پانچ نوجوان لڑکوں اجیت سنگھ، سینی، وید پال ، یوگیش اور سچن نے کمرے میں اسے قید کردیا اور پھر اس کی عصمت ریزی کی۔ وہ دہائیاں دیتی رہی کہ اس کے اپنے بچے ان کی عمر کے ہیں مگر ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ حالانکہ بعد میں انھوں نے اس کے سامنے چار لوگوں کا قتل بھی کیا جس کی وہ چشم دید گواہ ہے۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس کے کیس کی تفتیش کے لئے سرکار کی طرف سے مالایادو نامی ایک خاتون پولس انسپکٹر کو مقرر کیا گیا ہے جو بیان درج کرنے کے لئے پناہ گزیں کیمپ میں آئی تو اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کوئی اس کیس کا گواہ ہے؟ کیا کسی نے اس کی چیخ سنی تھی یا اس واردات کو ہوتے دیکھا تھا؟ فاطمہ کو مالا یادو کی حرکت بہت ناگوار گذری۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کوئی کیسے اسے دیکھ سکتا ہے یا چیخ سن سکتاہے؟اور میں تو ایک عورت ہوں اپنی عصمت کے تعلق سے کوئی جھوٹی کیسے بول سکتی ہوں؟فاطمہ کے کیس میں پانچ لوگ ملزم ہیں جن کے خلاف فرد جرم داخل ہوچکی ہے۔ 
ننھی بیٹیوں کے سامنے ریپ کیا گیا
فغانہ کی طاہرہ اس وقت آٹھ مہینے کی حاملہ تھی جب اس کی عصمت ریزی کی گئی۔ اس کی عمر بیس سال ہے اور چار افراد نے اس کی عصمت کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا۔ وہ تفتیش کرنے والے افسران سے خفا ہے جنھوں نے اس کی مظلومیت کا مذا ق اڑایا تھا۔ ان افسروں نے اس سے سوال کیا کہ اس کے پیٹ میں کس کا بچہ ہے؟ اور اتنی جلدی کیا تھی؟ اس نے بتایا کہ اس کی پہلے ہی سے تین بیٹیاں تھیں اور وہ چاہتی تھی کہ تیسرا بیٹا ہو۔ اس نے بتایا کہ ۸ ستمبر کی صبح جب وہ کچن میں کھانا پکا رہی تھی تب ہی رنبیر، سنجیو، پشپیندر اور روپیش اس کے گھر کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔اس دوارن اس کی ننھی بیٹیاں یہ منظر دیکھتی رہیں اور چیختی رہیں۔ طاہرہ کے شوہر نے گاؤں کے لوگوں سے مدد چاہی مگر کسی نے اس کی مدد نہیں کی یہاں تک کہ گاؤں کے سابق پردھان ہرپال سنگھ نے بھی کوئی مدد دینے سے انکار کردیا۔ واضح ہوکہ ہرپال سنگھ بھی فساد اور قتل کے مقدمے میں ماخوذ ہے۔ ہرپال سنگھ نے ایک موقع پر پولس کے سامنے اسے دھمکی دی تھی کہ اسے جھوٹے مقدموں میں پھنسادیا جائے گا اور ان لوگوں کا جینا محال کردیا جائے گا۔ اسی کے کچھ دن بعد اس کے کزن کو دہشت گرد اور لشکر طیبہ کا ممبر بتاکر پولس نے گرفتار کرلیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک خاص بات قابل توجہ یہ ہے کہ اس کیس کے ایک ملزم سنجیو کے باپ اور ایک رشتہ دار نے بھی ماضی میں ایک لڑکی کا ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔ 
انھوں نے چہرے چھپا رکھے تھے
بیس سالہ فہمیدہ بھی فغانہ گاؤن کی ہی رہنے والی ہے جو اب ایک چھوٹی سی بچی کی ماں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ جب اس کا ریپ ہوا تو وہ تین مہینے کی حاملہ تھی۔ اس نے بتایا کہ ریپ کرنے والے اپنے چہروں پر کپڑے باندھے ہوئے تھے لہٰذا اس نے ان لوگوں کا چہرہ نہیں دیکھا البتہ ان کی آواز سنی جو ایک دوسرے کو بدلو،نیلو اور امردین کے نام سے پکار رہے تھے۔ دو لوگوں نے اس کے پیر اور ہاتھ کو پکڑ لیا جب کہ باقی دو افراد نے اس کی عصمت ریزی کی۔ انھوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں جس کے سبب وہ خاموش ہوگئی کیونکہ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کا شوہر چھت پر تھا اور جب اس نے گھر میں فسادیوں کو داخل ہوتے دیکھا تو دھیرے سے اپنیجان بچانے کے لئے بھاگ گیا۔ فہمیدہ کا ایک پانچ سالہ بچہ بھی ہے جو پہلی جماعت میں پڑھتا ہے۔ وہ کسی طرح پارا میلیٹری فورسیز کی مدد سے ایک کیمپ میں پہنچی جہاں اس کی جیسے بہت سے مسلمان خاندان پناہ گزیں تھے۔اس کے کیس میں چار افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ 
جب اس کی روح تک زخمی ہوگئی
کوثر جہاں بھی فغانہ گاؤں کی ہی رہنے والی ہے جس کی عمر پچاس سال ہے۔ اس کے ساتھ بھی ریپ ہوا اور یہ اس کے لئے دلدوز لمحہ تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک جاٹ اس کے پاس آیا اور ہنس کر کہنے لگا تم اب بھی پرکشش ہو۔ اصل میں کوثر جہاں کو کوئی بچہ نہیں ہے اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس کے لئے ناقابل فراموش ہے۔ اس کے ساتھ چار افراد نے بلاتکار کیا۔ یہ ۸ ستمبر کا واقعہ ہے۔ اس نے جب اس زیاتی کی شکایت کی تو پولس نے بھی اس پر دباؤ دینا شروع کیا کہ وہ کیس واپس لے لے۔ کیونکہ جو لوگ مجرم تھے وہ بارسوخ لوگ ہیں۔ کوثر جہاں کا کہنا ہے کہ کسان لیڈر نریش ٹکیت نے کہا تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے وہ تو بس ایک جھانکی ہے اصل فلم تو ابھی باقی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ مالایادو نامی تفتیشی افسر نے جب کیمپ میں اس کا بیان رکاڈ کیا تو لوگوں سے پوچھا کہ کسی نے اس کے داغدار کپڑے کو دیکھا ہے؟ سرکار اور پولس کی طرف سے اس قسم کی حرکتوں نے اس کی روح کو اندر تک زخمی کردیا ہے۔ وہ آج تک اس کیس کو لر رہی ہے مگر بارسوخ مجرمیں اس پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کیس واپس لے لے۔ (اس مضمون میں تمام نام بدلے ہوئے ہیں) ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES