dushwari

وطن فروشی۔۔۔ صنف نازک کیلئے

از : سید فاضل حسین پرویز

نائب صوبیدار پتن کمار پوڈار فیس بک کی ایک دوست انوشکا اگروال کے زلفوں کے اسیر ہوئے۔ اس کی بھیجی گئی عریاں تصاویر اور ویڈیو کلیپنگس نے ان پر اس قدر خمار طاری کیا کہ وہ یہ بھول گئے کہ وہ ہندوستانی فوج کے ذمہ دار ہیں۔ ان جیسے فوجیوں پر پورا ہندوستان مکمل بھروسہ کرتا ہے۔ بقول شاعر ’’عشق نے غالب نکما کردیا‘‘ پتن کمار پوڈار نکمے تو نہیں رہے ملک کے غدار بن گئے۔ ہندوستانی فوج سے متعلق اہم دستاویزات کو انہوں نے انوشکا اگروال کے حوالے کردیا جو آئی ایس آئی کی مبینہ ایجنٹ ہے۔

پوڈار پہلے فوجی نہیں ہے جنہیں ملک کے وفادار سے غدار بنانے کے لئے صنف نازک کو استعمال کیا گیا۔ سینکڑوں واقعات ایسے ہیں جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے ہر ملک کی فوج اور اہم شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو یا تو دولت سے خریدا جاسکتا ہے یا پھر عورت کے ذریعہ ان کی وفاداری تبدیل کی جاسکتی ہے۔ اس عمل کو Honey trap کہا جاتا ہے۔ جیمس بانڈ کی فلمیں ہوں جیمس ہیڈلی چیز اور مارلن فلپس کے انگریزی ناولس ہنی ٹراپ سے عبارت رہتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے‘ صنف نازک کے ذریعہ ہندوستان کے اہم راز حاصل کرنے کی تاریخ بہت زیادہ قدیم ہے۔ دوسرے ممالک کی انٹلیجنس یا سکریٹ ایجنسیاں بڑی آسانی سے فوج، دفاع، بحریہ اور دوسرے اہم شعبہ جات سے وابستہ عہدیداروں کو اپنے جال میں پھانس لیتی ہیں۔ 1960ء میں پنڈت نہرو کے دور میں ایک ہندوستانی سفارتی عہدیدار ایک برطانوی خاتون جاسوس کے زلف کے اسیر ہوگئے تھے۔ ان کے قابل اعتراض تصاویر پنڈت نہرو کو دکھائی گئی جنہوں نے اسے اہمیت نہیں دی بلکہ ہنس کر ٹال دیا اور اس سفارتکار کو اپنے کیریئر کے دوران محتاط رہنے کی تلقین کی۔ جہاں تک پاکستانی سکریٹ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کا تعلق ہے‘ فروری 2013ء میں وزارت داخلہ کے فورینر ڈیویژن سے وابستہ سریندر شرما کو آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری 2014ء میں اندرپال سنگھ خوشواہا کو جو کئی سینئر فوجی عہدیداروں کا پرسنل سکریٹری رہ چکا تھا اہم ترین فوجی راز جن میں ارجن ٹینک رجمنٹ آلات جنگ اور آرمی انٹرنیٹ سرور سے ڈاؤن لوڈ کئے گئے کوڈیڈ پیغامات پر مشتمل سی ڈی کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ اندرپال نے گورکھا رجمنٹ سے متعلق پاورپوائنٹس اور اہم ترین خفیہ رپورٹس آئی ایس آئی کو سربراہ کی۔ مئی 2014ء میں پنجاب پولیس نے فرید کورٹ آرمی کنٹولمنٹ کے کلرک نودیپ سنگھ کو اہم راز دشمن ملک کو فراہم کرنے کی پاداش میں آفیشیل سکریٹ ایکٹ کی دفعات 3,4,5,9 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 120P کے تحت جیل بھیج دیا۔ اس غدار وطن نے فازلکا آرمی یونٹ سے متعلق اہم راز منتقل کئے تھے۔ گجرات اے ٹی ایس کے سدھانشو سدھاکر کو جو ای ایم ای سنٹر سکندرآباد سے وابستہ تھا ہند۔پاک سرحد اور جموں و کشمیر سے متعلق حساس نوعیت کے راز پاکستان کو فراہم کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ مئی 2011ء ہندوستانی فوج سے وابستہ ایک سگنل مین رتیش کمار وشواکرما کو ملک کے اہم راز کی پاکستان کو منتقلی کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ میں آئی ایس آئی پاکستان کی بدنام زمانہ انٹلیجنس ایجنسی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ جہاں ہندوستان میں تخریب کاری میں راست یا بالراست ملوث ہے‘ جموں و کشمیر میں موافق پاکستان تنظیموں کو فنڈ فراہم کرتی ہے اور ماہانہ 20ملین روپئے اپنے ایجنٹس کو ادا کرتی ہے۔ اس چھ عسکریت پسند تنظیموں کو اس کی پشت پناہی حاصل ہے جن میں لشکر طیبہ قابل ذکر ہے۔ 26/11 سانحہ، ممبئی ٹرین دھماکہ، جعلی کرنسی نوٹ پھیلانے میں اس کا مبینہ طور پر ہاتھ ہے۔
جہاں تک بین ممالک جاسوسی کا تعلق ہے یہ جرم ہے اس کی سزا جیل اور سزائے موت ہے۔ ہر ایک ملک کی اپنی انٹلیجنس ایجنسیاں ہیں‘ جن کے دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ایجنٹس ہیں۔ جو مختلف بھیسوں میں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے اہم عہدیداروں اور ذمہ داروں کو اپنے جال میں پھانستے ہیں۔ حال ہی میں ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ روس کی ایک حسین و جمیل خاتون جاسوس اَناچیاپ مین امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے بے قریب ہوچکی تھی حتیٰ کہ وہ بارک اوباما کو تک اپنے جال میں پھانسنے میں کامیاب ہونے ہی والی تھی کہ اسے ملک بدر کیا گیا۔ اَناچیاپ مین نے اپنی قاتل اداؤں سے کئی امریکی عہدیداروں کو اپنی زلف کا اسیر بنایا تھا۔ برطانیہ کی انٹلیجنس ایجنسی M16 نے اس پر خصوصی نظر رکھی تھی کیوں کہ وہ ان نائٹ کلبس میں زیادہ نظر آتی جہاں پرنس ہیری اور ولیمس کا گذر ہوتا۔
دنیا میں سب سے کامیاب جاسوسی روس کی خواتین کرتی ہیں۔ جنہیں باقاعدہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی بقا اور فلاح کے لئے اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے بجائے دشمن کے آگے دراز ہوجائیں۔ جب یہ اپنا شکار کو پھانس لیتی ہے تو پھر وہ اسے بلیک میل کرکے اپنے ملک کے لئے قیمتی راز اور بعض اوقات اہم معاملات کی سودے بازی کرلیتی ہے۔ سوویت یونین کے سکریٹ سرویس KGB بلیک میلنگ میں ماہر سمجھی جاتی رہی۔ انڈونیشیا کے صدر سکارنو کو ایک روسی خاتون جاسوس نے ایئرہوسٹس کے بھیس میں اپنے جال میں پھانسا۔ کے جی بی نے صدر سکارنو کی روسی خاتون کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیو کلیپنگ دکھائی تو سکارنو نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس کی مزید کاپیاں طلب کیں تاکہ وہ اپنے ملک میں عام کرسکے۔ اس طرح انڈونیشیائی صدر نے کے جی بی کی ایک سازش کو ناکام بنایا۔ دنیا کے دو سوپر پاورس امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار اور ذمہ دار شخصیات کو حریف جاسوس کسی نہ کسی طرح سے اپنے جال میں پھانس لیا کرتے تھے۔ ایک امریکی بحریہ کے عہدیدار کلے ٹاؤن لونیٹیرا کو ایک روسی خاتون جاسوس نے اپنے جال میں پھانسا اور اس اسکینڈل کی بازگشت ایک طویل عرصہ تک سنائی دیتی رہی۔
جہاں تک صنف نازک کے ذریعہ جاسوسی کا تعلق ہے‘ Samson & Delilah کی داستان میں بھی اس کا ذکر موجود ہے جب ڈیلیلا 1100 چاندی کے سکوں کے عوض یہ راز Samson کے حریف پلستین کو بتادیتی ہے کہ اس کی اصل طاقت اس کی (Samson) کی زلفوں میں ہے اور وہ یہ زلف تراش دیتی ہے۔ بیسویں صدی میں صنف نازک کے ذریعہ جاسوسی یا ہنی ٹراپ کے واقعہ کے لئے ہالینڈ کی حسین رقاصہ ماتاہیری بہت مشہور ہوئی جنہیں 1917ء میں فرانس کے فائرنگ اسکواڈ نے موت کی سزا دی۔ اس نے جرمن کو اہم راز فراہم کئے تھے۔ حالیہ عرصہ کے دوران جاسوسی سرگرمیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ شراب، شباب، دولت کی حرص و ہوس سے وفاداریاں کیا ایمان بھی بک جاتے ہیں۔ وفاداری اور ایمان کی خریدار ملکوں میں چین سب سے آگے ہے۔ لندن کیں سابق ڈپٹی مےئر ایان کلیمنٹ کو بیجنگ نے ان کے ہوٹل روم میں شراب پلاکر داد عیش فراہم کیا گیا دوسرے دن جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کا بلیک بیری غائب تھا جس میں کئی راز محفوظ تھے۔ ایان کلیمنٹ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ دنیا کی سب سے قدیم حربے کا شکار ہوئے۔
جہاں تک مختلف ممالک کی جانب سے حریف ممالک نے جاسوسی کی سرگرمیوں کا تعلق ہے دنیا کی سرکردہ دس انٹلیجنس ایجنسیوں میں ہندوستان دسویں اور پاکستان نویں نمبر ہے۔ آسٹریلیا کی آسٹریلین سکریٹ انٹلیجنس سرویس ASIS اگرچہ 1952ء میں قائم ہوئی مگر خود حکومت 20سال تک اس کی سرگرمی سے لاعلم رہی۔ جرمنی کی BND اپنے ملک کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے باخبر رکھتی ہے۔ اس کا الکٹرانک نظام جاسوسی بہت موثر ہے۔ دنیا بھر میں اس کے چار ہزار ایجنٹس ہیں۔ روس کی GRU جس کا سابقہ نام KGB ہے‘ فرانس کی DGSE جس کے پانچ ہزار ایجنٹس اور ہزاروں والینٹرس دنیا بھر میں موجود ہیں۔ چین کی MSS جو ملک میں کمیونسٹ کی اقتدار کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے کام کرتی ہے۔ امریکہ کی سی آئی اے جو اپنے ملک کو دنیا کا واحد سوپر پاور ملک بنانے میں اپنا رول ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کی موساد جو سب سے خطرناک سمجھی جاتی ہے 1960ء میں اس نے یہ پتہ چلایا تھا کہ نازی لیڈر اڈولف ایچ مین ارجنٹینا میں زندہ ہیں اسے کسی طریقہ سے اسرائیل لایا گیا۔ موساد صنف نازک کو جاسوسی کے لئے استعمال کرنے میں سب سے آگے ہے۔ یہودیوں کے مفادات کا تحفظ اس کی اہم ذمہ داری ہے۔ سب سے قدیم انٹلیجنس ایجنسی برطانیہ کی M16 ہے، پاکستان کی انٹرسرویسس انٹلیجنس آئی ایس آئی بدنام ترین ایجنسیوں میں سے ایک ہے جبکہ ہندوستان کی ریسرچ اینڈ انالیسٹ ونگ RAW پر پڑوسی ملک کا الزام ہے کہ وہ اس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے۔ را کے 8000 فیلڈ ایجنٹس ہیں۔
سکریٹ سرویسس انٹلیجنس ایجنسیاں مختلف ممالک کے قدرتی وسائل، فوجی تنصیبات کے علاوہ وہاں کے عوامی جذبات پر نظر رکھتے ہیں۔ مختلف ممالک میں شورش، بغاوت کو ہوا دینے میں ان کا اہم رول ہوتا ہے۔ وہ تنصیباب جس کی وجہ سے بعض ممالک طاقتور ہوسکتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک کی سکریٹ سرویس یا انٹلیجنس ایجنسی اس ملک کے لئے اہم خدمات انجام دے رہی ہے تاہم دوسرے ممالک کے نظر میں وہ دشمن ادارہ سمجھی جاتی ہیں۔ دشمن اداروں کے لئے کام کرنے والے قابل گردن زنی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات ضرور عائد ہوئے مگر اپنے وطن سے غداری کا کوئی بھی الزام عائد نہیں کرسکتا۔ درجنوں دشمنوں کے ایجنٹ گرفتار ہوئے اللہ کے فضل و کرم سے ان میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے اور آئندہ بھی نہیں رہے گا۔۔۔ انشاء اللہ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES