dushwari

نسوانیت کی محافظت کیجیے

اداراتی تحقیقی مضمون (دوسری قسط)

آج امریکہ کی جرائم پیشگی اور وہان کی خواتین کی معاش سے مجبور ہوکر اور خاندان سے محروم ہوکر عصمت فروشی کس کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے؟روس میں مردوں کی آبادی سے دو کروڑ فاضل عورتوں کی شادی سے محرومی کی وجہ سے دوسرے ذرائع سے اپنے جذبات کی آسودگی اور خفیہ قحبہ خانوں سے کون آگاہ نہیں ہے اور انکی وجہ سے حکومت پر ناجائز بچوں کی ذمہ داری سے کون انکار کرسکتا ہے؟

بہر حال اس طرح کی زندگی گزارنے والے اپنی بدقسمتی کو بڑے حسین اور پرکشش انداز میں پیش کرتے ہیں جس سے دور سے دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہوجاتی ہیں اور معاشرہ متاثر ہوتا ہے، اور ایسا فساد پروان چڑھنے لگتا ہے کہ جسکی روک تھام کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔یہ ہے وہ مختصڑ سا نقشہ ان غلط اثرات کا جو عفت و عصمت کے اصولوں کو ترک کردینے کی وجہ سے ہرطرف پڑنے لگتے ہیں۔ اب آپ ہی سوچئے کہ کیا عفت و عصمت کی محافظت آپ کا ذاتی مسئلہ ہے یا تمام معاشرے کا؟ یہ صرف آپکے ذوق کا معاملہ ہے یا آپ پر معاشرے کی ذمہداری؟ میں ان سوالوں کے جوابات دینا نہیں چاہتا، آپ خود ہی کسی نتیجے پر پہنچئے، میں تو صرف آپ سے ایک بات اور پوچھوں گا، اسکے بعد فیصلہ آپ پر چوڑ دونگا۔جب آپ کو یہ معلوم ہو کہ ایک چنگاری آپ کے چولہے سے اڑ کر پورے گھر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیگی تو آپ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے لگتی ہیں لیکن جب معاملہ نفس کے لئے رعایت کا ہو اور خطر صرف گھر ہی کا نہیں خاندان، نئی نسل اور معاشرے کی تباہی کا ہو تا کیا آپ اس وقت تمام احتیاطوں کو نظر انداز کردیں گی؟ واضح رہے کہ ان جذبات میں اور چنگاری میںیکساں آگ ہوتی ہے اور د ونوں ہمارے لئے مفید بھی ہیں مگر فائدہ کسی خاص حد کے اندر ہی اٹھایا جاسکتا ہے؟آزادانہ تباہ کاری کے لئے تو نہیں چھوڑا جاسکتا۔
(زندگی کا سلیقہ/ابن فرید/ص:۱۶)
آپ پوچھیں گی کی ان جذبات اور میلانات کے لئے حدیں کیا ہیں؟ وہ تو میں پہلے ہی بیان کرچکا۔ یعنی عورت اور مرد آپس میں معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزاریں گے تو انکی حدیں خود ہی مقر ر ہوجاتی ہیں۔ اس معاہدہ یا نکاح کو اللہ تعالیٰ جائز قرار دیتا ہے اور اسی طریقہ سے اپنے جذبات کی آسودگی کے لئے نہ صرف ہدایت دیتا ہے بلکہ ترغیب دیتا ہے، اسکے علاوہ دوسرے طریقوں کو حرام قرار دیتا ہے اور انکے اختیار کرنے پر سخت ترین سزا کا خوف دلاتا ہے۔اس طرح ایک عورت کا مستقبل محفوظ ہوجاتا ہے اور اسکا دائرہ عمل و اختیار متعن ہوجاتا ہے اور ذمہ داری کی نوعیت بھی طے ہوجاتی ہے۔اب ایسا ممکن نہیں رہتا جیسا کہ مغربی تۃذیب اختیار کرنے والے ہر ملک میں ہے کہ مرد تو خود آزادانہ زندگی گزارے اور عورت انکے ڈالے ہوئے بوجھ کو اپنے کمزور کندھوں پر اٹھائے پھرے۔ اب دونوں اس ذمہ دار میں شریک ہوجاتے ہیں، مرد چونکہ عورت کی طرح ایسے مرحلوں سے نہیں گزرتا کہ محنت ومشقت سے مختلف اور طویل عرصوں کے لئے محروم ہوجائے، اسلئے خاندان کی کفالت اسے کرنی پڑتی ہے اور عورت کو خاندان کے اندرونی نظام کو بہترین اور کامیاب طریقے سے چلانا ہوتا ہے جس طرح عورت مرد سے توقع کرتی ہے کہوہ گھر سے باہر رہنے کے دوران اپنے عہد کی طرف سے غفلت نہ کرے اور اسی طرح مرد بھی عورت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسکی غیر حاضری میں اپنی نسوانیت کی محافظت کرتی رہیگی۔اس بات میں نہ صرف دونو کو دنیاوی فائدہ ہاصل ہوتا ہے بلکہ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ طریقے بھی بتائے ہیں جن سے نسوانیت کی سہولت کے ساتھ محافظت کی جاسکے۔
سب سے پہلا اور بنیادی تقاضا تو اپنے نفس کی اصلاح کا ہے، کہ آپ خود سوچیں اور غور کریں کے اللہ تعالیٰ آپ سے کیا چاہتا ہے ، جب آپ اسکے احکام کی اس طرح کھوج لگائیں گی تو یقیناًفحش و بدکاری سے بچنے کی کوشش کریں گی اور اپنے نفس کو اس طرف پھسل پڑنے کی اجازت نہ دیں گی۔آپ کا اپنا ضمیر جب اسلام کے ٹہرائے ہوئے ایمان اور اخلاق کے اصولوں پر مطمئن اور کاربند ہوگا تو آپ اس سلسلہ میں اپنی تربیت بھی بہتر طریقے سے کرسکیں گے۔ (بحوال�ۂ سابق/ص:۱۷) 
آپکی فطری شرم تربیت کے ہر مرحلہ میں آپکا ساتھ دیگی(اگر آپ سکو اپنے اندر زندہ رکھیں گی)یہ فطری شرم ہی وہ حیا ہے جس کا ذکر آپ کی زبان پر اکثر آجاتا ہے اور جب آپ کوئی ایسا کام کرتی ہیں جو ایمان اور اخلاق کے مطابق نہ ہو تو یہی حیا آپ کے اندر اپنی غلط روی کا احساس پیدا کردیتی ہے ، آپ کے دل میں چٹکیاں لیتی ہے۔ یہ ایسی قوت ہے جو برے افعال سے روکتی ہے اور اسی کے ذریعہ اسلام کی اخلاقی تربیت آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کا نفس کیسے کیسے ان جانے طریقوں سے اپنی لذت حاصل کرتا ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ دل کی چوری پکڑی نہیں جاتی، لیکن جب آپ اپنے نفس کی لذتوں ہی پر فریفتہ رہیں گی تو رفتہ رفتہ آپکا خیال و فکر بھی متاثر ہوگا۔ اور جب آپ ایک خاص انداز سے سوچنے لگیں گی تو ایک مرحلہ وہ بھی آئیگا جب آپ اس پر عمل کرنے لگیں گی، کیونکہ اس وقت تک آپکا ضمیر مردہ ہوچکا ہوگا، آپکی حیا میں اتنی قوت باقی نہ رہ چکی ہوگی کہ آپکے نفس کا مقابلہ کرسکے ، اسی لئے پہلے ہی قدم پر آپکو تنبیہ کردی جاتی ہے۔
آنکھیں زنا کرتی ہیں اور انکا زنا نظر ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں اور انکا زنا دست درازی ہے، پاؤں زنا کرتے ہیں اور انکا زنا اس راہ میں چلنا ہے، زبان کا زنا گفتگو ہے اور دل کا زنا تمنا ہے اور خواہش ہے، آخر میں شرمگاہیں یا تو ان سب کی تصدیق کردیتی ہیں یا جھٹلادیتی ہیں۔
(بخاری ومسلم)
اگرآپ ان سب کے معاملہ میں محتاط ہیں تو واقعی آپ نے نسوانیت کی محافظت کرلی، ورنہ کسی ایک کے معاملہ میں لغزش آپکی عصمت و عفت کو تباہ کرکے ہی دم لیگی، آپ شاید الجھن میں مبتلا ہوگئی ہوں کہ یہ کیونکر؟ لیجئے یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں۔(بحوا ل�ۂ سابق /ص:۱۹)
نظر کے ذریعہ ہم اس وسیع دنیا کی متعدد چیزوں کو پہچانتے اور انکی تمیز کرتے ہیں۔ اسی کے ذریعہ ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں چیز کا ظاہر پر کشش ہے اور فلاں کا ناقص، پرکشش چیزوں کو دیکھنے کے لئے ہمارے اندر اکساہٹ ہوتی ہے اور اسی طرح یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ ہم بھی دوسروں کو پرکشش نظر آرہے ہیں یا نہیں! نفس کے معاملہ میں یہی چیز فتنہ بن جاتی ہے۔ صنف مخالف کے معاملہ میں جب بلا ضرورت لذت حاصل کرنے کے لئے یہ خواہش پیدا ہوگیکہ آنکھیں سینکی جائیں تو لازما خطرناک ہوگی، کیونکہ نظر کا معاملہ تو ہے نہیں، اسکا براہ راست تعلق نفس سے ہے جو ہر لحظہ لغزش کرسکتا ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES