dushwari

نسوانیت کی محافظت کیجیے

اداراتی تحقیقی مضمون
(پہلی قسط)

نسوانیت کی محافظت کیجیے! تقاضا بالکل واضح ہے لیکن پھر بھی ضروری نہیں کہ سب نے ہی وہ بات سمجھ لی ہو جس کا تقاضا کیا جارہا ہے ۔ شاید ایسی خواتین سوچتی ہوں کہ کون عورت ہے جو عورت نہ رہنا چاہتی ہو۔ اپنی نسوانیت باقی نہ رکھنا چاہتی ہو۔لیکن اس طرح کی الجھن پیدا ہونے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ نسوانیت کی اصل عصمت و عفت ہے۔

اگر عورت میں یہ جوہر نہیں تو حقیقتا وہ عورت نہیں اور نہ صرف یہ کہ وہ عورت نہیں بلکہ معاشرہ کے لئے انتہائی خطرناک ہستی ہے۔ جی ہاں! آپ کی عصمت و عفت کا معاملہ صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اسکے دور رس اثرات ہماری سماجی زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔
عصمت اورعفت تو دراصل ان جذبات اور اس قوت کو اعلی تر عمل میں استعمال کرانے کا ذریعہ ہیں جو انسان کے لئے خاندانی زندگی قائم کرنے میں بنیاد کا کام دیتے ہیں، مرد اور عورت ایک دوسرے میں کشش اسلئے محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپس میں انس و محبت کی زندگی گذارسکیں اور جب دو اقرار میں ایسا تعلق پیدا ہوجائے تو وہ اس تعلق کو پائیدار بنا سکیں تاکہ جلد جلد کا قطع تعلق خاندانی زندگی کو ابتر اور انکی اولادوں کی زندگی کو غیر یقینی نہ بنادے۔ ساتھ ہی یہ سب مل کر اپنی زندگی اور خاندان کے استحکام کے لئے مستقل طور پر جدو جہد کرسکیں، انہیں یہ خطرہ نہ رہے کہ آج جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ کل ایک دوسرے میں دلچسپی ختم ہوجانے کی وجہ سے ضائع ہوجائیگا۔
پھر یہ بھی سوچئے کہ ایک مرد، بیوی اور بچوں کے لئے کیوں کمائے؟ یا ایک عورت مرد کے گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت کیوں کرے؟حالانکہ یہ ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے مرد اور عورت ہمیشہ سے خود کو بخوشی پیش کرتے رہے ہیں مگر ان ذمہ داریوں کو قبول کرنے کی اصل وجہ انکی سمجھ میں یہی ہے کہ وہ انہیں اپنا سمجھتے ہیں، ان پر انکا حق ہے، اور جس چیز پر کسی کا اختیار ہوتا ہے وہ نہ صرف اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے بلکہ اس سے محبت بھی کرنے لگتا ہے اور یہی محبت اسے دقتوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار کردیتی ہے۔
یہ تو ایک جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر پیدا کردیا ہے تاکہ اس طرح وہ اس نظام کائنات کو چلانے میں اپنا فرض ادا کرتا رہے، یہ جان لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کندھوں پر پوری کائنات کا بوجھ ڈالا ہے وہ اس سے اپنی مرضی کے مطابق دنیا کے نظام کو چلانا چاہتا ہے، اسی غرض سے اس نے تمام جانداروں میں انسان کو سب سے زیادہ عقل ، اختیار اور برتری عطا کی ہے، ایسی صلاحیتوں کی ہستی کو پروان چڑھنے کے لئے لازما بے انتہا توجہ کی ضرورت ہوگی۔ کافی عرصہ تک اسکی نگرانی کرنی پڑیگی، اب یہ پتے ماری کون کرے؟ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے حق تعالیٰ شانہ نے دونوں صنفوں میں ایسا میلان رکھا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو وقتی آسودگی کے ساتھ نہ ختم کردیں بلکہ باہم محبت و موانست کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے یہی رشتہ ہے جو خاندان کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ ہموار بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ ادھر خاندانی زندگی دونوں کو یکسو کردیتی ہے کہ وہ اپنی قوتیں اور صلاحیتیں ایک مخصوص دائرہ میں لگائیں تاکہ اپنے درخت کے پھل سے خود فائدہ اٹھاسکیں ۔
اس غرض کے لئے دونوں سمجھوتے کی زندگی گزارتے ہیں، جس میں سب سے پہلے دونوں اس بات کی سختی سے پابندی کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوتیں اور صلاحیتیں اپنے خاندانی دائرے کے اندر ہی صرف کریں گے، اپنے اس سرمائے میں دوسروں کو شامل نہ کریں۔ دوسری پابندی وہ یہ لگاتے ہیں کہ نہ صرف اپنی قوت و صلاحیت میں دوسروں کو شریک نہ کریں گے بلکہ اپنے خاندان سے دلچسپیوں میں کمی نہ لائیں گے، اور اسکی ذمہ داریوں سے غافل نہ رہیں گے۔ تیسری پابندی جس پر وہ کاربند رہتے ہیں یہ ہے کہ یہ دونوں نہ صرف خود اصولی زندگی گزاریں گے بلکہ اس سے اپنی اولاد اور آنے والی نسل کو بھی روشناس کراتے رہیں گے۔ غرض یہ اور اسی طرح کی کتنی ہی پابندیاں مرد اور عورت کے تعلقات کو خوشگوار اور اطمینان بخش بناتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی خاندانی زندگی کے لئے انکو لازم قرار دیا ہے۔
عصمت و عفت ان اصولوں کی پابندی اور دیانت داری کے ساتھ ان پر کاربند رہنے ہی کا نام ہے ، جب دونوں فریق میں سے کوئی ایک اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ گویا اپنی چادر عصمت کو اپنے ہی ہاتھوں تار تار کردیتا ہے اور اسکے اثرات جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں، صرف اسکی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ دونوں فریق کی زندگی ، انکی اولاد کی زندگی، اور انکے معاشرے کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ کیسے؟ تفصیل نہیں صرف اشارۃً بیان کرونگا کیونکہ یہ باتیں اب ڈھکی چھپی نہ رہیں۔ عفت و عصمت کے خلاف تبلیغ کرنے والے اب خود ان تباہ کاریوں کے قائل ہوگئے ہیں اور میں ان ہی کے اعتراضات کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔شوہر اور بیوی میں اس غیر محتاطی کی وجہ سے بے اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے، دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی عصمت کی طرف سے مطمئن نہیں رہتا، رقابت کا جذبہ آرے آتا ہے، اپنائیت کا احساس مجروح ہوتا ہے جس سے وہ بلا شرکت غیرے محبت کرتا ہے، اس میں غیر قانونی طور پر دوسرے شریک ہوجاتے ہیں، بات اگر یہیں تک رہتی تو شاید اتنی بڑی خرابی نہ ہوتی، مگر یہاں تو ہوتا یہ ہے کہ جذباتی آسودگی و لذت دوسرے اٹھاتے ہیں اور انکے ان غیر ذمہ دارانہ افعال کا انجام خاندان کے افراد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آپ خود سوچئے کہ جس پودے کو آپ نے اپنے ہاتھوں سے لگایا ہے اسکے پھل بھی آپ ہی کھانا چاہیں گی یا قطعا آپ یہ پسند نہ کریں گی کہ پودا آپ لگائیں، پھل دوسرے کھائیں اور آپ منہ دیکھتی رہ جائیں؟ بالکل یہی معامل خاندانی زندگی کا بھی ہے۔ خاندان اپنے کندھوں پر وہی بوجھ اٹھانے کو تیار ہوگا جو اس نے خود اٹھانا طے کیا ہے، وہ دوسرے غیر متوقع آپڑنے والے بوجھوں کو اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوگا، پھر اگر فرض کیجئے کہ ہم خاندان پر زبردستی کا بوجھ ڈال دیں جیسا کہ مغرب میں ہوتا ہے تو آپ یقین مانیں !!! ثابت ہوگا۔ ایک طرف یہ خاندان کی بساط سے باہر ہوگا، دوسری طرف زبردستی کا بوجھ ہونے کی وجہ سے وہ محبت اور خلوص حاصل نہ کرسکے گا جو خاندان کے دوسرے افراد سے حاصل ہوتا ہے۔
بہت سی وجوہ میں سے یہ وہ چند اہم وجہیں ہیں جنکی بنا پر خاندانی نظام نہ صرف ناجائز بچوں کو نا پسند کرتا ہے بلکہ ایسے تمام تعلقات کو نا پسندیدہ قرار دیتا ہے جو ناجائز بچوں کی پیدائش کو ممکن بنانے والے ہوں۔
اولاد کی زندگی پر والدین یا دو میں سے کسی ایک غیر محتاط زندگی کا تو بہت ہی خطرناک اثر پڑتا ہے ، سب سے پہلے تو وہ اس زندگی کے ہوجاتے ہیں جو انکے والدین کو مرغوب ہے، پھر انکے چاہنے نہ چاہنے کے باوجود وہ ان ہی طریقوں کو اختیار کریں گے جو انکے والدین اختیار کئے ہوئے ہیں، کیونکہ وہی انکی نگاہ میں پسندیدہ طریقے ہونگے۔ ورنہ انکے والدین اختیار نہ کرتے۔ وہ اسی انداز کے ماحول اور سوسائٹی کیتلاش میں رہیں گے۔اپنے ہم عمروں میں ویسی ہی سوسائٹی تلاش کریں گے، اسی طرح کجروی بڑی حد تک پیدا ہوجاتی ہے۔ بچے والدین میں رنجش اور بدگمانیوں کو پروان چڑتے دیکھ کر انکے اوپر سے اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں بلکہ سیدھے سادھے الفاظ میں یہ کہئے کہ والدین کا کہنا ماننے اور انکی ہدایت پر عمل کرنے کی صلاحیت کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ انجام کار اس کجروی میں وہ اپنے والدین سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں، اسی طرح معاشرے میں فاسد نسل کے پروان چڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
معاشرے کی زندگی اسطرح متاثر ہوتی ہے کہ اس کے اندر جو اصول رائج ہیں ، معاشرہ کا ہر فرد انکی قدر کرتا ہے اور انکی خلاف ورزی کرنے والے کو نفرت اور ذلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اب جو فرد معاشرے کی نگاہ سے اس طرح گر جائیگا وہ اپنی کھوئی ہوئی جگہ حاصل کرنے کے لاکھوں جتن کریگا۔ مثلا وہ اپنی خرابیوں کو خوبیوں کے روپ میں پیش کریگا۔ وہی د م کٹی لومڑی والا طریقہ، اپنے ساتھ دوسروں کو بھی وہی دلدل میں گھسیٹ لینے کی کوشش کریگا، تاکہ جتنے بھی اس لعنت میں گرفتار ہوجائیں گے انکی زبانیں گنگ ہوجائیں گی،پھر یہ بھی کہ جب ایک حمام میں سب ہی ننگے ہوجائیں گے تو برائی برائی نہ رہیگی، حالانکہ برائی کو چاہے برائی کا نام نہ بھی دیا جائے تب بھی وہ اپنے مہلک اثرات چھوڑ کر رہتی ہے۔ (زندگی کا سلیقہ/ابن فرید/ص:۱۱)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES