dushwari

اسلام میں صنفِ نازک کی مذہبی وسماجی حیثیت

ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)

 ایک زمانہ تھا جب معاشرہ میں لڑکیوں کی حیثیت منقولہ جائیداد سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس کی مثال قدیم متمدن روم میں جاری شادی کے طریقہ سے سمجھی جاسکتی ہے وہاں شادی کے وقت مرد اپنے لئے لڑکی کو عام اشیاء کی طرح خرید کر لاتا اور اس کا طریقہ یہ تھا پانچ گواہ کے ساتھ وہ ایک ترازو لیکر بیٹھ جاتا اور لڑکی کے بارے میں اعلان کرتا یہ میری ملک ہے، میں نے اس کو ترازو اور سکہ کے ذریعہ خریدا ہے۔ اس تقریب کے بعد لڑکی اس کی زرخرید جائیداد تصور کی جاتی، وہ کسی عوامی عہدہ پر نہیں رہ سکتی تھی، نہ اسے سماج میں گواہ بننے اور ولی مقرر کرنے کا حق حاصل تھا۔

برطانیہ میں تو ماضی قریب تک لڑکی شادی ہونے کے بعد اپنی ہستی کھودیتی تھی، قانون کے مطابق وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی تھی، یہانتک کہ بیوی کی کمائی اور تنخواہ بھی خاوند کی ہوجاتی تھی، قانونی نظریہ یہ تھا کہ شادی کے بعد عورت کی اپنی کوئی شخصیت نہیں رہتی بلکہ خاوند میں مدغم ہوجاتی ہے، اسی لئے آج بھی برطانیہ میں یہ رواج ہے کہ شادی کے بعد بیوی خاوند کا نام اپنا لیتی ہے جیسے مسز ابراہم، مسز بارکلے اور مسز انتھونی وغیرہ۔
برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس آکسفورڈ کے اسلامی سینٹر میں تقریر کرتے ہوئے اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ’’چند دہائی قبل تک میری دادی کو بھی جو حقوق حاصل نہیں تھے، اسلام چودہ سال پہلے وہ تمام حقوق عورتوں کو عطا کرچکا ہے‘‘۔
مغربی ممالک میں زمانہ قدیم سے عورت زبوں حالی اورپائمالی کا شکار رہی ہے اسے تیسرے درجہ سے بھی کمتر سمجھا جاتا تھا، ایسا کھلونا جس سے جب جی چاہا کھیلا اور دل بھر گیا تو پھینک دیا، اپنا حق مانگنا تو دور، اپنے اوپر ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی اسے اجازت نہیں تھی۔ اگر یوروپ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں کے معاشرہ میں عورت کو کوئی مقام ومرتبہ حاصل نہ تھا، مسیحی کلیسا نے تو عورت کو گناہِ آدم کا مجرم قرار دیکر عزت واحترام کا مقام دینے سے انکار کردیا تھا، حضرت عیسیٰ مسیحؑ نے شادی نہیں کی اس لئے عیسائی معاشرہ میں عائلی اسوہ موجود نہیں ہے تورات میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ملتی لہذا مسیحیت عورتوں کے تعلق سے کلیسائی رویہ کے تابع رہی ہے، یہانتک کہ کلیسا کے ذمہ داروں کیلئے تجرد کو لازمی سمجھا گیا، چنانچہ کلیسا میں مرد اور عورت دونوں ایک غیر فطری مجرد زندگی گزارنے لگے،جس سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ان کی خانقاہوں میں جنسی بے راہ روی اتنی بڑھی کہ اس کے واقعات ہر خاص وعام کی زبان پر آگئے، وقت کے ساتھ کلیسا میں بھی تبدیلیاں آئیں لیکن مغربی معاشرہ میں آج بھی عورت صرف ایک جنسی کھلونا ہے، عورت کی آزادی کے نام نہاد نعروں کے ساتھ اسے نائٹ کلب، شراب خانے، فلم اور ٹی وی ہر جگہ نیم عریاں بلکہ برہنہ کرکے پیش کیا جارہا ہے۔
یہی حال ہندوستان کا رہا کہ یہاں صنفِ نازک مرد کے مقابلہ میں نہایت ذلیل وخوار تھی، مرد خدا تھا، معبود تھا، آقا تھا اور عورت محض ایک داسی، جس کا اپنا کوئی وجود تھا، نہ رائے اور نہ پسند، ساری زندگی وہ مرد کی خدمت کرتی اور اس کے مرنے کے بعد، اسی کے ساتھ زندہ جلا دی جاتی جسے ’’ستی‘‘ کی رسم کہتے تھے، بیوہ کی شادی کا تصور تو دور اسے زندگی بھر ہر آسائش ورنگینی کو اپنے اوپر حرام کرنا پڑتا بلکہ بیوگی کے بعد اس کا سرمونڈھ دیا جاتا تاکہ وہ بدصورت نظر آئے، اسے اپنی مذہبی کتابیں پڑھنے یا ہاتھ لگانے کی اجازت بھی نہ تھی، آج بھی بنارس میں ایسی عورتوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ہندوؤں کے رہنما اور مصلح راجہ رام چندر رائے نے اپنی کوششوں سے ’’ستی‘‘ کی اس رسم کو ختم کروایا، پھر بھی آزاد ہندوستان میں ’’ستی‘‘ کے واقعات اکثر ہوجاتے ہیں، بیوہ عورت کو شوہر کی جائیداد میں حق اور لڑکیوں کو حق وراثت تین ساڑھے تین ہزار سال پرانے ہندو مذہب اور تہذیب کو ۱۹۳۸ء اور ۱۹۵۶ء میں کافی جدوجہد کے بعد فراہم ہوئے، جسے اسلام اور مسلمانوں کے اثرات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اسلام کی آمد سے پہلے عرب میں بھی صنف نازک کی حالت بہتر نہیں تھی، لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا، اسلام نے وحشیانہ اس رسم کو سختی کے ساتھ ختم کردیا، اہل عرب بے شمار شادیاں کرتے تھے، شوہر کے مرنے کے بعد بیویاں بھی ترکے کی طرح تقسیم ہوجاتیں، سوتیلی مائیں بیٹیوں کو مل جاتیں، شعر وشاعری میں صنف نازک کو رسوا کیا جاتا، ان کی سر عام تضحیک کی جاتی گویا معاشرہ میں عورتوں کی عزت واحترام کا کوئی تصور نہ تھا۔
اسلام جب طلوع ہوا تو اس کے سورج کی کرنیں دوسرے شعبوں کے ساتھ عورتوں کیلئے بھی سماجی اور اقتصادی مساوات کے حقوق کی روشنی لیکر نمودار ہوئیں، اہل اسلام نے اس پر عمل کرکے عورتوں کو نہ صرف عزت واحترام دیا بلکہ اس کی عفت عصمت کے محافظ بنے اور عورتوں کو وہ حقوق عطا کئے جن کا تصور بھی دوسری اقوام میں نہیں ملتا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ نے اعلان کیا کہ عورت کو اپنے معاملات میں پورا اختیار حاصل ہے۔ جس میں پسند کی شادی بھی شامل ہے، کنواری لڑکی کے بارے میں اس کے ولی کو ضرور حق ملا ہے لیکن یہ اختیار نہیں کہ وہ زبردستی شادی کیلئے اسے مجبور کردے۔ وہ حقوق جو اسلام نے مسلمان عورت کو دیئے ہیں ان میں چند یہ ہیں۔ ملکیت ومیراث کا حق، خرید و فروخت کا حق ہے، شوہر سے علاحدگی کا حق اگر ضروری ہو ، عیدین وجمعہ کی نمازوں میں شرکت کا حق، اسلام عورت کو ایک صالح سوسائٹی کا سنگ بنیاد قرار دیتا ہے، اس کو معاشرتی، تمدنی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہیں اور ان سے متعلق آزادی عمل بھی عورت کو میسر ہے لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ اس کا عمل شریعت کے حدود کے اندر ہو، باہر نہیں، اسلام کے نزدیک عورت ایک شمع ہے، جوبدتہذیبی کے اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتی ہے ایک جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ مرد اور عورت کو ایک
درجہ دیتے ہوئے قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔
(ترجمہ) ’’عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے (ترجمہ)’’ اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیااور اس کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا‘‘۔ یہاں یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اسلام جس خداکی بندگی کی طرف بلاتا ہے، وہ عورتوں کا بھی ویسا ہی خدا ہے، جیسا کہ مردوں کا ہے، جس دین کو وہ حق قرار دیتا ہے عورتوں اور مردوں دونوں کیلئے وہ حق ہے۔ اسلام میں عورتوں اور لڑکیوں کو معاشی، تعلیمی اور دیگر ضروری حقوق میسر ہیں۔ اسلامی نظام میں وہ منقولہ جائیداد نہیں بلکہ خود جائیداد کی مالک ہیں، انہیں اپنی ملکیت اور دولت سے مفید کام سرانجام دینے اس کو ہبہ کرنے اور وقف کرنے کا بھی حق ہے یعنی جس معاشی تنگی کی وجہ سے وہ غلام بن کر رہتی ہیں، اسلام نے اس کا خاتمہ کردیا ہے۔
دنیا میں عورت کا کردار تین طرح سے سامنے آتا ہے ماں، بیوی اور بیٹی ۔ عورت بحیثیت ماں ایک مقدس مقام کی مالک ہے، جنت اس کے قدموں کے نیچے رکھ دی گئی ہے، اگر ماں ناراض ہوتو ایک مسلمان اپنے تمام تر نیک اعمال کے ساتھ جنت میں نہیں جاسکتا، ماں کا درجہ باپ کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہے، بیوی کی حیثیت سے عورت کو جہاں شوہر کا شریک ٹھہرایاگیا وہیں یہ بھی کہا گیا کہ تم میں سے وہ لوگ اچھے ہیں،’’ جو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں‘‘، ہر مسلمان کو یہ حکم دیا گیا کہ جو تم کھاؤ، وہ بیوی کو کھلاؤ، جوتم پیو وہ بیوی کو پلاؤ، ان کو نہ مارو، اور نہ ان کی برائی کرو، عورت خواہ کتنی ہی مالدار کیوں نہ ہو، شوہر کے ذمہ اس کی کفالت ٹھہرائی گئی ہے، بیٹی کی حیثیت بھی عورت کو باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا گیا ہے۔ اس کی تعلیم ، تربیت، خوراک، لباس، شادی، بیاہ تمام امور کی ذمہ داری باپ پر ڈالی گئی ہے، یہانتک کہ اس کی وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور خوش خبری سنائی گئی ہے کہ جو اپنی بیٹیوں کی اچھی پرورش کرے گا اور شادی کردے گا، وہ جنت کا حقدار ہوگا، بہنوں کے بارے میں بھائی کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی بہنوں کی ناموس کے محافظ ہیں، ان کا یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ بہنوں کے ساتھ محبت وشفقت سے پیش آئیں، حضور اکرم ﷺ کی دودھ شریک بہن اگر آتیں تو آپؐ ان کے لئے اپنی چادر بچھادیتے تھے۔
موجودہ دور میں عورت نے بظاہر مرد کے غلبہ سے آزادی حاصل کرلی، گھر کی چہار دیواری سے نکل کر وہ ملازمت کرنے لگی، تعلیم پانے لگی، اپنی مرضی سے رہنے، دوستی کرنے، لباس پہننے کی اسے آزادی مل گئی لیکن مرد کی نگاہ میں عورت آج بھی اس عزت کی مستحق نہیں جو اسے ملنا چاہئے۔ مغرب نے تو اسے نمائش کی شئے بنادیا، اس پر ذمہ داریاں ڈال دیں، مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتو عورت قابل عزت ہے، ورنہ ماں، بیوی بیٹی کی حیثیت سے اس کا کوئی مقام نہیں ، پہلے عورت سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا آج وہ خود جانوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ تمام مذاہب میں اسلام نے صنف نازک کو ہر حیثیت سے وہ مقام ومرتبہ عطاکیا ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں ملا ہے، اسلام عورت اور مرد میں انسان کی حیثیت سے کوئی امتیاز نہیں کرتا ، اس میں نہ کوئی آقا ہے، نہ کوئی لونڈی ہے، دونوں کے کام کرنے کے شعبے ضرور الگ ہیں لیکن اپنی جگہ اہمیت کے مالک ہیں اور دونوں یکساں طور پر انسانی حقوق، عزت وشرف کے مستحق ہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES