dushwari

اسلام میں عورتوں کا مقام

فکروخبر تحقیقی مضمون

اسلام نے عورتوں کو جو مرتبہ دیا ہے اور عورتوں کی زندگی میں بلکہ دنیا کی معاشرتی زندگی میں جو انقلاب عظیم برپا کیا ہے، وہ پڑھی لکھی تعلیم یافتہ خواتین کو معلوم ہوگا،(میں یہاں اسکا مختصر سا تذکرہ کرتا ہوں)۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے اگر کیا جائے جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے تو آنکھیں کھل جائینگی، اور ایک پڑھے لکھے آدمی کو حقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔

قرآن مجید پر ایک سرسری نظر ڈالنا بھی عورت کے بارہ میں جاہلی نقطۂ نظر اور قرآنی اسلامی زاویہء نگاہ کے کھلے فرق کو سمجھنے کیلئے کافی ہے ،آپ کو معلوم ہے کہ دین میں، دین کے احکام و مسائل میں، فرائض میں، عبادات میں، عقائد میں اور علم میں کم سے کم ہمارا جس امت سے تعلق ہے، جس دین سے تعلق ہے، اسمیں عورتیں محروم نہیں رکھی گئیں اور انھیں نظر انداز نہیں کیا گیا، بلکہ وہ اسمیں شریک ہیں، اسلئے کہ انکے لئے مستقل احکام ومسائل اور نماز و روزہ، حج، زکوٰۃ اور اسکے علاوہ دین کے دوسرے مسائل و عبادات میں وہ برابر کی شریک ہیں اوراسی طرح وہ دین و علم، خدمت اسلام، خیروتقویٰ میں تعاون، اور صالح معاشرہ کی تعمیر میں پوری طرح حصّہ لے سکتی ہیں۔
قرآن کریم میں قبول اعمال، نجات وسعادت اور آخرت کی کامیابی کے بیان میں ہمیشہ مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی ذکر ہے۔
وَمَن ےَعمَل مِنَ الصَّالِحاتِ مِن ذَکَرٍ اَو اُنثیٰ وَھُوَ مُؤمِن فَاُولٰءِکَ ےَدخُلُونَ الجَنَّۃَ وَلاَ ےُظلَمُونَ نَقِیرًا۔ (النساء : ۱۲۴)
اور جو کوئی نیکیوں پر عمل کریگا، (خواہ )وہ مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان ہو تو ایسے (سب) لوگ جنّت میں داخل ہونگے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
دنیا کے بہت سے مذاھب ایسے ہیں جسمیں بعض کام مردوں کے ساتھ خاص ہیں عورتوں کا اسمیں کوئی حصہ نہیں ہے، بلکہ عورتیں اسکو ہاتھ نہیں لگاسکتیں، انکا اس سے قریب ہوجانا یا پرچھائی پڑجانا بھی اسکام کو برباد کردیتا ہے۔
دنیا کا ایک بہت بڑا مذہب عیسائیت جسکے پیرو دنیا میں شاید بہت زیادہ ہیں عیسائیت باوجود اس کے کہ وہ یوروپ میں بڑھی پھلی پھولی اسمیں عورتوں کو بہت سی چیزوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
قرن وسطیٰ میں ایک زمانہ ایسا گذرا ہے جسمیں یہ تھا کہ عورت عورت مالک نہیں ہوسکتی کسی چیز کی، اپنے حقوق انکو حاصل نہیں تھے، وہ کسی زمین کی مالک ہو ایسا نہیں ہوسکتا تھا، بہت سی عبادتیں اور فرائض ایسے تھے جو انکے لئے ناجائز تھے اور لوگ عورتوں کے سایہ سے بھاگتے تھے، بہت سی عورتوں اور بچیوں کو راہب بنا کر گرجاؤں میں بٹھا دیا کرتے تھے، انکی مائیں روتی تھیں اور بلکتی تھیں اور جب وہ انھیں ڈھونڈنے آتیں تو راہب انکے سایہ سے بھاگتے تھے کہ کہیں انکا سایہ نہ پڑ جائے۔
یہ تو قرآن کا معجزہ ہے اسمیں اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں میں عورتوں کا ذکر الگ الگ کیا ہے اگر ساتھ کردیا جاتا تو شاید ذہن پورے طور پر کام نہ کرتااور جو اللہ تعالیٰ نے مرتبے بیان کئے ہیں ان میں سب کا ذہن نہ جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ایک چیزمیں مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر کیا ہے، ہمت افزائی کے لئے بھی اور انکا درجہ بڑھانے کیلئے بھی اور بہت سے مسائل میں ان خیالات کو دور کرنے کے لئے بھی کہ شاید اسمیں عورتوں کا حصہ ہو، اسمیں نہ ہو اسلئے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا ذکر الگ سے کیا ہے۔
قرآن مجید صرف طاعات و عبادات اور مذہبی فرائض ہی کے سلسلہ میں، نماز روزہ ہی کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کی مساوات و شرکت کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ اسکی تعلیمات کی رو سے با صلاحیت مردوں ، علماء اور بڑی ہمت اور عزم رکھنے والے مردوں اور نمایاں افراد کے ساتھ ساتھ اخلاقی احتساب، أمر بالمعروف نھی عن المنکر یعنی اسلامی معاشرہ کی نگرانی و رہنمائی، اسکو غلط راستہ پر چلنے سے روکنے اور صحیح راستہ پر چلنے کے سلسلہ میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی ذ مہ داری میں شریک ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان والے مردوں، ایمان والی عورتوں کو ایک متحدہ اورر خیروتقویٰ پر تعاون کرنے والی جماعت کی ایک محاذ(Front )کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے، وہ فرماتا ہے:
وَالمؤمنون والمؤمنات بعضھم أولیاء بعض ےأمرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و یقیمون الصلاۃ و ےؤتون الزکوٰۃ ویطیعون اللّٰہ ورسولہ أولٰئک سیرحمھم اللّٰہ انّ اللّٰہ عزیز حکیم (التوبۃ :۷۱)
اور ایمان والے اور ایمان والیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ نیک باتوں کا آپس میں حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں، نماز کی پابندی رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے رہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان پر ضرور رحم کریگا، بیشک اللہ بڑا اختیار والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
وہ شرف انسانی کی اعلیٰ ترین منزل پر پہنچنے کا ذریعہ اور کامل معیار، جنس و نسل اور رنگ و خون سے قطع صرف تقوی کو قرار دیتا ہے:
ےآ أیھا الناس انّا خلقناکم من ذکر و اُنثیٰ و جعلناکم شعوبًا و قبائلَ لتعارفوا ان أکرمکم عند اللّٰہ أتقاکم ان اللّٰہ علیم خبیر (الحجرات:۱۳)
یہ سب باتیں عورتوں میں ہمت، خودداری اور خود اعتمادی پیدا کرنے اور جدید نفسیات کی اصطلاح میں انھیں احساس کمتری ((Inferiority complexسے دور رکھنے کے لئے بہت کافی ہیں۔
(اسلام میں عورت کا درجہ اور اسکے حقوق و فرائض /حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی۔ 
مرتب: محمد عزیز اللہ ندوی / ص: (۴۰۔۴۳)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES