dushwari

ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)

 ایک زمانہ تھا جب معاشرہ میں لڑکیوں کی حیثیت منقولہ جائیداد سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس کی مثال قدیم متمدن روم میں جاری شادی کے طریقہ سے سمجھی جاسکتی ہے وہاں شادی کے وقت مرد اپنے لئے لڑکی کو عام اشیاء کی طرح خرید کر لاتا اور اس کا طریقہ یہ تھا پانچ گواہ کے ساتھ وہ ایک ترازو لیکر بیٹھ جاتا اور لڑکی کے بارے میں اعلان کرتا یہ میری ملک ہے، میں نے اس کو ترازو اور سکہ کے ذریعہ خریدا ہے۔ اس تقریب کے بعد لڑکی اس کی زرخرید جائیداد تصور کی جاتی، وہ کسی عوامی عہدہ پر نہیں رہ سکتی تھی، نہ اسے سماج میں گواہ بننے اور ولی مقرر کرنے کا حق حاصل تھا۔

فکروخبر تحقیقی مضمون

اسلام نے عورتوں کو جو مرتبہ دیا ہے اور عورتوں کی زندگی میں بلکہ دنیا کی معاشرتی زندگی میں جو انقلاب عظیم برپا کیا ہے، وہ پڑھی لکھی تعلیم یافتہ خواتین کو معلوم ہوگا،(میں یہاں اسکا مختصر سا تذکرہ کرتا ہوں)۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے اگر کیا جائے جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے تو آنکھیں کھل جائینگی، اور ایک پڑھے لکھے آدمی کو حقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔

اسامہ عاقل

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا خواتین اسلام میں پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کی پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً پانچ سال پہلے یاسر عبسی نامی ایک شخص جو یمن کا رہنے والا تھا اپنے بھائی کو تلاش کرتا ہوا مکہ تک آپہونچا، مکہ میں قیامکے دوران اس کی ملاقات مکہ کے ایک رئیس ابوحذیفہ بن المغیرہ مخرومی سے ہوئی ابوحذیفہ نے یاسر عبسی کے اخلاق وکردار سے متاثر ہوکر دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور بہت جلد دونوں میں گہری دوستی ہوگئی۔ یاسر عبسی مستقل طو رپر مکہ میں رہنے لگے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES