dushwari

محمدیوسف رحیم بیدری

بات چھوٹی سی تھی، چھوٹی بھی نہیں بلکہ شاید کچھ تھی ہی نہیں اور جھگڑا شروع ہوگیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ مخالف شخص نے کہہ دیا تھا۔
’’میں رفع یدین ہرگز نہیں کرونگا‘‘۔
پھر تو مخالفین کے لمبے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر تھے۔ جھگڑا بڑھتا گیا منہ اور گریبان پھٹتے رہے۔ اور اس طرح ایک تماشہ تماشہ بین کے لئے موجود تھا تو اہل دل کے لئے اضطراب وبے بسی کے لمحات ۔۔۔!
جب دونوں طرف کے سپاہی لڑتے لڑتے تھک چکے گئے تو ایک نے کہا۔ ’’بس کرویار ۔ بس کرو‘‘۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES