dushwari

ڈاکٹر جاوید جمیل 

غزل

مانا کہ ہمیں کچھ وقت لگا، پھر ساری حقیقت جان گئے
تم لاکھ چھپا لو چہرے کو، ہم خوب تمہیں پہچان گئے

سینے میں بسا کر رکھیں گے، پلکوں پہ بٹھا کررکھیں گے
اب زیست میں داخل ہو جاؤ، ہر شرط تمھاری مان گئے

ارجمند بانو

آہ کی نہ کبھی اشک بہا کر روئے
جذبۂ عشق کا اظہار چھپا کر روئے
اپنی الفت کا اثر اُس پہ تو کچھ بھی نہ ہوا
کسی بے درد کو احساس دلا کرروئے

امارات میں منعقد ہونے والے مشاعروں پر نہایت ہی مختصر مگر جامع مضمون کی ایک کاوش

تحریر: حسیب اعجاز عاشرؔ 

ہماری قومی زبان اُردو دنیا بھر میں، خصوصاً ہمسایہ ممالک نیز خلیجی ریاستوں میں بھرپور توانائی کیساتھ بڑی اہمیت رکھتی ہے اور اردو زبان پر مشتمل ادب جسے’’ اردو ادب‘‘ کہا جاتا ہے بھی یہاں اپنا ایک خاص مقام حاصل کر چکا ہے۔تاریخ میں فروغِ اُردو ادب کیلئے وسیع دائرہ کار رکھنے کی وجہ سے’’ نثری ادب ‘‘کا اہم کردار رہا ہے۔مگرمیری رائے میں’’ نظمی ادب‘‘دورِ حاضر میں اُردو ادب میں کسی حد تک زیادہ نمایاں نظرآنے لگا ہے ۔اردوزبان کیطرح اُردو ادب بھی پاکستان کے علاوہ ہمسایہ ممالک اور خلیجی ریاستوں میں مقبول ہو چکا ہے۔فروغِ ادب کے حوالے سے اگر صرف متحدہ عرب امارات کی بات کی جائے تو یہاں ہونے والی ادبی محافل بنیادی طور پر’’ شعری محافل‘‘ ہی ہیں جبکہ نثری ادب کے حوالے سے محافل کا انعقادنہ ہونے کے برابر ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES