dushwari

عزیز بلگامی

۲۰۰۳ء کی بات ہے،کچھ سماجی، تعلیمی، ادبی و معاشی مقاصد کو لے کرشہرِ گلستان بنگلور میں کچھ ہم خیال دوستوں نے’’ عزم اکادمی‘‘ کے نام سے ایک فلاحی اِدارہ قائم کیا تو اکادمی کے چیرمین،جناب عبد الحمید صاحب نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے اُستادِ محترم حمیدسہروردی صاحب کو اکادمی مدعو کریں گے ،اور اکادمی کے دفتر، مقاصد اور عزائم کے معائنے اور اُن کے مشوروں اور رہنمائیوں کی گزارش کریں گے۔ اکادمی کے سارے ہی ذمہ داران نے، جن میں ہم بھی بحیثیتِ ڈائرکٹر شامل تھے، اِس تجویز کا خیر مقدم کیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر ہی ریاست کی ادبی دُنیاکی قدآور شخصیت ’’حمید سہر وردی‘‘کی صورت میں ہمارے درمیان موجودتھی اور اُس سے ہم محوِکلام تھے۔

محمد وصی اللہ حسینی

کیفی اعظمی کی شخصیت اورشاعری کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ وہ جتنے بڑے شاعر تھے اس سے کہیں بڑے انسان تھے۔وہ ترقی پسند شاعر ہی نہیں ترقی پسند انسان بھی تھے۔ان کے کلام میں انسانی درد مندی،غریبوں کی ہمدردی،محنت کشوں کی غمخواری اورمحروموں کی دلجوئی جیسی صفات نمایاں ہیں۔تمام اہم مذاہب اورعظیم شخصیات نے انسانیت پر زوردیاہے اوران کی تعلیمات کا مقصد صالح معاشرے کی تشکیل اورمردم سازی رہاہے،چنانچہ اگر کوئی شخص عملی طورسے اچھا انسان بن جائے تو اس سے بڑی بات کوئی نہیں ہوسکتی۔کیفی کا شعری سفر رومانیت سے شروع ہوکر مذہب اورکمیونزم کی منزلیں طے کرتے ہوئے انسانی دردمندی پر ختم ہوا۔

بزرگانِ ادب کے لیے عظیم خراج

عزیز بلگامی

محترم عبارت علی صاحب اور محترم ترغیب بلند صاحب کی جانب سے سجائی گئی ’’اُردِش احباب‘‘نامی انجمن، انٹرنیٹ پر فیس بک کی ایک ایسی انجمن ہے،جس سے اُردو کا شاید ہی کوئی فیس بک صارف ناواقف ہوگا۔ رنگ و نسل، جغرافیائی حدود اورقومی و مذہبی وابستگیوں سے بلند ہو کر،خالص اُردو زبان و ادب کے حوالے سے ایک عالمی برادری کی تشکیل کا خواب دیکھنے والے اربابِ ’’اُردِش احباب‘‘مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے ، جیسے لسانی سیکولرزم کی ایک الف لیلوی داستان چھیڑ رکھی ہے

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES