dushwari

اردو ادب
ادب كى اردو زبان وادب ميں بے شمار تعريفيں كى گئى ہيں، ہر اديب نے اپنے اپنے نظر يہ وخيال سے ادب كا تعارف كيا ہے، اردو زبان وادب ميں مطالعہ كے لئے بے شمار ادبى كتابيں كتب خانوں كى زينت بنى ہوئى ہيں، آپ خود مطالعہ كر كے كہہ سكتے ہيں كہ اردو ادب انسان كے جذبات، خيالات، افكار ورجحانات كا ايك ايسا مصفى اور مجلى آئينہ ہے، جس ميں ديكھ كر وہ اپنى زندگى كو معاشرہ ميں برتنے كے آداب سكھاتا ہے، اسى لئے ادب انسان كا ايك حسين ترجمان كہلاتا ہے، جس كى طاقت اور تاثير كسى بھى معاشرہ اور سماج ميں زندگى كى روح پھونك ديتى ہے، اس كالم سے ہمارى بھى كوشش ہوگى كہ ہم آپ كے جذبہ اور حوصلہ كو مہميز كر سكيں، اور ادب كے مطالعہ كا ذوق اور شوق پيدا كر سكيں۔ ( ادارہ )

عزیز بلگامی

۲۰۰۳ء کی بات ہے،کچھ سماجی، تعلیمی، ادبی و معاشی مقاصد کو لے کرشہرِ گلستان بنگلور میں کچھ ہم خیال دوستوں نے’’ عزم اکادمی‘‘ کے نام سے ایک فلاحی اِدارہ قائم کیا تو اکادمی کے چیرمین،جناب عبد الحمید صاحب نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے اُستادِ محترم حمیدسہروردی صاحب کو اکادمی مدعو کریں گے ،اور اکادمی کے دفتر، مقاصد اور عزائم کے معائنے اور اُن کے مشوروں اور رہنمائیوں کی گزارش کریں گے۔ اکادمی کے سارے ہی ذمہ داران نے، جن میں ہم بھی بحیثیتِ ڈائرکٹر شامل تھے، اِس تجویز کا خیر مقدم کیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر ہی ریاست کی ادبی دُنیاکی قدآور شخصیت ’’حمید سہر وردی‘‘کی صورت میں ہمارے درمیان موجودتھی اور اُس سے ہم محوِکلام تھے۔

کیفی اعظمی :اچھے شاعر،بڑے انسان

بلند حوصلہ ترغیب بلندکی کتاب’’سرمایۂ شعراء‘‘

غالبؔ کی شاعری میں ماضی،حال اور مستقبل کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں

عشق اور کام کی یکجائی

مزید دیکھئے...

ڈاکٹر جاوید جمیل 

غزل

مانا کہ ہمیں کچھ وقت لگا، پھر ساری حقیقت جان گئے
تم لاکھ چھپا لو چہرے کو، ہم خوب تمہیں پہچان گئے

سینے میں بسا کر رکھیں گے، پلکوں پہ بٹھا کررکھیں گے
اب زیست میں داخل ہو جاؤ، ہر شرط تمھاری مان گئے

ایک شاعر ایک غزل

شعرو اَدب اور امارات

ایک شاعر ایک غزل

ایک شاعر ایک غزل...

مزید دیکھئے...

محمدیوسف رحیم بیدری

بات چھوٹی سی تھی، چھوٹی بھی نہیں بلکہ شاید کچھ تھی ہی نہیں اور جھگڑا شروع ہوگیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ مخالف شخص نے کہہ دیا تھا۔
’’میں رفع یدین ہرگز نہیں کرونگا‘‘۔
پھر تو مخالفین کے لمبے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر تھے۔ جھگڑا بڑھتا گیا منہ اور گریبان پھٹتے رہے۔ اور اس طرح ایک تماشہ تماشہ بین کے لئے موجود تھا تو اہل دل کے لئے اضطراب وبے بسی کے لمحات ۔۔۔!
جب دونوں طرف کے سپاہی لڑتے لڑتے تھک چکے گئے تو ایک نے کہا۔ ’’بس کرویار ۔ بس کرو‘‘۔

مزید دیکھئے...

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES