dushwari

سپریم کورٹ بحران پر بولے یشونت سنہا، جمہوریت خطرے میں، کہاں ہے پارلیمنٹ؟

نئی دہلی ۔13جنوری2018(فکروخبر/ذرائع)   سپریم کورٹ کے چار ججوں نے جمعہ کو چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف کھلے عام آواز بلند کی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب سپریم کورٹ کے سینئر ججوں نے پریس کانفرنس کر عدلیہ کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے چاروں ججوں کے فیصلے پر اپنا موقف رکھا ہے۔

موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں اور پارٹی کے موقف پر کئی بار نظریاتی اختلافات ظاہر کر چکے یشونت سنہا نے سپریم کورٹ بحران پر کہا کہ وہ سی جے آئی کے خلاف عوامی طور پر آواز اٹھانے والے ججوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سنہا کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہمیں ججوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان کے مسائل پر غور وفکر کرنا چاہئے، جو انہوں نے اٹھائے ہیں۔
یشونت سنہا نے کہا، "اگر چار سینئر جج عوام کے سامنے آ گئے، تو یہ سپریم کورٹ کا مسئلہ رہا کہاں؟ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ جنہیں بھی ملک اور جمہوریت کے مستقبل کی فکر ہے، انہیں غلط چیزوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ لوگ خوف کے سبب نہیں بول رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا، "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ حکومت کو سپریم کورٹ سے آگے جا کر کوئی کارروائی کرنی چاہئے، بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت کو جمہوریت کی حفاظت میں اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا چاہئے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES