dushwari

ہندوستان کی تاریخ میں مدارس اسلامیہ کا کردار نہایت روشن و تابناک

مدارس پر انگلی اٹھانے والے حقائق سے نابلد ہیں ،امور،ضلع پورنیہ کے تعلیمی بیداری واصلاحِ معاشرہ کانفرنس میں مولانا اسرارالحق قاسمی کا خطاب 

پورنیہ۔13جنوری2018(فکروخبر/ذرائع) موجودہ حالات ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے نہایت نازک ہیں اور ایسے وقت میں ہمیں نہایت سوچ سمجھ کر اور دانش مندی کے ساتھ اپنا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے امورضلع پورنیہ میں تعلیمی بیداری و اصلاح معاشرہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا نے کہاکہ اس وقت ہرشخص کوملک کی سالمیت کو بنائے رکھنے اور نفرت کے ماحول کو ختم کرکے امن وسکون کو ہموارکرنے اور جمہوری حقوق کوپامال ہونے سے بچانے کی فکر کرنی چاہیے اور جوشخص ملک وملت کا حقیقی خیرخواہ ہوگا اور انسانوں کا سچا ہمدرد ہوگا وہ ان اہم اور ضروری امور کی طرف ضرور توجہ دے گا،لیکن افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں کے ذہن میں نفرت وعداوت ہو وہ شرانگیزی سے باز نہیں آتے اورہمیشہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں،

حالیہ دنوں میں یوپی کے شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئر مین کی جانب سے مدارس کے خلاف دیاجانے والا بیان اسی قسم کا ہے،جس میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسے بند کئے جائیں،کیوں کہ یہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں اوران مدارس کو دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے فنڈنگ ہورہی ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی بیان بازی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض حکومت کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔مولانا قاسمی نے کہاکہ تحریک آزادی سے لے کر ملک میں قومی یکجہتی اور مثالی سماجی اقدار کے فروغ میں مدارس کی زریں خدمات،ان کی بہترین کاردگردی اس قسم کے احمقانہ بیانات سے متاثر نہیں ہوں گی اورہرباشعور فرداور عقلِ سلیم اور فہمِ صحیح رکھنے والاانسان مدارس کی عظمت کااعتراف کرے گا۔مولانا نے کہاکہ اگر انہیں واقعی مدارس سے شکایت تھی تو وہ مدارس پرالزامات لگانے سے پہلے کم از کم ان کا ایک بارجائز ہ لے کر حقیقت کا پتا لگاتے،یہاں کے پاکیزہ ماحول میں آکر بیٹھتے، طلباء سے بات چیت کرتے،مدارس کے نظام تعلیم و تربیت سے واقفیت حاصل کرتے،مدارس میں پڑھائی جانے والی کتابوں اور درسیات کی تفصیلات کا پتا لگاتے،ظاہر ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں حقیقت کا علم ہوجاتا اور وہ اس قسم کا زہریلا بیان نہیں دیتے۔مولانا اسرارالحق نے کہا کہ اس وقت حکومت بھی باقاعدہ ایسے لوگوں کو اکسا رہی ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سازش کریں اور ان پر دشنام طرازی کرتے پھریں،پھر میڈیا کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ہائی لائٹ کیاجاتا ہے اور قومی سطح پر مشہور کردیاجاتا ہے تاکہ عام لوگ اور برادران وطن کے ذہنوں میں مسلمانوں اور علماء و مدارس کے تئیں بدگمانی بیٹھ جائے اور وہ ان سے نفرت کرنے لگیں ۔مولانا نے کہاکہ اسی طرح مودی حکومت تین طلاق کے معاملہ میں بھی مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بعض خواتین کو ورغلا کر جھوٹی بنیادوں پرانہیں میڈیا میں مظلوم بناکر پیش کیا جاتاہے تاکہ مسلم معاشرہ اوراسلام کے عائلی قوانین پر انگشت نمائی کی جائے اور لوگوں کے دلوں میں علمائے دین اورمسلمانوں کے نمائندہ اداروں کے تئیں بدگمانی اور نفرت پیدا کردی جائے۔مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اس وقت بڑی حکمت اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،ساتھ ہی ہمیں اپنے گھر،معاشرہ کی اصلاح پر بھی خاص توجہ دینی چاہئے ،کیوں کہ اگر ہمارے معاشرے میں سو فیصد دین آگیا اور ہم اسلام کے احکام پر عمل کرنے لگے تو دنیا کی کوئی طاقت بھی ہمارے خلاف کسی بھی سازش میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ مولانا قاسمی ان دنوں حلقے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے کشن گنج کے دورے پر ہیں۔اس اجلاس کے خاص شرکاء میں دارالعلوم امور کے ناظم مفتی شمس توحید،مولانا مجیب الرحمن،مولانا خالد اختر مظاہری،مولانا محمد رضوان ندوی،مولانا سرفراز سنبل، جمعیۃ علماء پورنیہ کے جنرل سکریٹری مولانا ابوصالح قاسمی،شہود عالم،قاضی انیس،محب عالم، مولانا عبدالخالق،قاضی فیروز،ضلع پریشد کے رکن افروز عالم اورمکھیا وسیم وغیرہ کے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES