dushwari

امریکہ کا یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنا اشتعال انگیز، ظالمانہ اورغرور پر مبنی فیصلہ : مولانا محمود مدنی

ٹرمپ کا اعلان تانا شاہی پر مبنی ، عالم اسلام کے دل مجروح ، حکومت ہند اپنا موقف واضح کرے : فاروق عبداللہ

نئی دہلی ۔07؍ دسمبر 2017(فکروخبر/ذرائع)   جمعیۃ علماء ہند نے امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے ذریعہ آج بیت المقد س کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پرسخت احتجاج کیا ہے ۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اشتعال انگیز فیصلہ ہے جس سے نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو ئی ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ امریکہ عالمی قوانین اوربین الاقوامی خدشات کو نظر اندازکررہا ہے جس سے امن کے کوشاں ادارے مایوس ہوئے ہیں ۔

لانا مدنی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس موضوع پر ہنگامی اجلاس طلب کرے اور خود کی متعدد منظور شدہ قرار داد کی روشنی میں القدس کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم اٹھائے ۔انھوں نے اس سلسلے میں مشرق وسطی کے حکمرانوں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ امریکہ سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں ۔
مولانا مدنی نے استدلال کیا کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ قبلہ اول پر مسلمانوں کا اولین حق ہے، نہ صرف فلسطین بلکہ پور اعالم اسلام اس سے دینی و جذباتی رشتہ رکھتا ہے، جس پر اسرائیل نے غاصبانہ طریقہ سے تسلط قائم کررکھا ہے ، سال گزشتہ یونیسکو اقوام متحدہ نے ایک تاریخی فیصلے میں مسجد اقصی اور دیوار براق پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا تھا ، اس لیے اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ حیثیت سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں پر لگام کسے ۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علما ء ہند قبلہ اول کے تحفظ کے لیے روز اول سے ہر جد وجہد میں شامل ہوتی رہی ہے، وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر سخت بے چین ہے اور اسے ظالمانہ اور غرور پر مبنی فیصلہ سمجھتی ہے ۔

 

ٹرمپ کا اعلان تانا شاہی پر مبنی ، عالم اسلام کے دل مجروح ، حکومت ہند اپنا موقف واضح کرے : فاروق عبداللہ

سری نگر 07؍ دسمبر 2017(فکروخبر/ذرائع)  جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امریکہ کی طرف سے قبلہ اول بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تاناشاہی پر مبنی اس اعلان سے عالم اسلام کے دل مجروح ہوئے ہیں اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ تمام امن پسند اور مہذب ممالک اس اقدام کی مذمت اور ملامت کررہے ہیں اور ٹرمپ کے اس اعلان کو یکسر مسترد کردیاہے۔
فاروق عبداللہ نے جمعرات کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں امریکہ کے اعلان کو بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جو اقوام عالم کو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تمام مہذب ممالک نے بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے حمایت کا اعلان کیا ہے اور اہل جموں وکشمیر بھی فلسطین بھائیوں کے شانہ بہ شانہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وہ امریکہ کے اس اعلان کے بارے میں اپنا موقف صاف صاف کرے، بھارت ہمیشہ فلسطین کے کاز اور علیحدہ فلسطینی مملکت کی حمایت کرتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کا اعلان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین ہو سکتاہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُمید ظاہر کی کہ جمعہ کو منعقد ہونے والے سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں امریکہ کے اس اعلان کو مسترد کیا جائے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES