dushwari

میں رام مخالف نہیں ہوں، لیکن بابری مسجد ہماری ہے: اقبال انصاری

لکھنو۔6دسمبر201(فکروخبر/ذرائع)   میں رام مخالف نہیں ہوں۔ ایودھیا میں ایک رام مندر نہیں ، ہزاروں رام مندر بنیں، مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ میرا تو بس یہی کہنا ہے کہ بابری مسجد ہماری ہے اور اسی حق کی لڑائی کئی سالوں تک ہمارے والد لڑتے رہے اور ان کے انتقال کے بعد اب میں لڑ رہا ہوں۔ یہ کہنا ہے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سب سے پرانے مدعی رہے مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کا۔

بابری مسجد انہدام کی پچیس ویں برسی پر ای ٹی وی / نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں اقبال انصاری نے کہا، "میں رام مخالف نہیں ہوں۔ نہ ہی میرے والد صاحب تھے۔ میرے والد اور مہنت گیان داس کی دوستی کتنی مضبوط تھی یہ سبھی جانتے ہیں۔ لڑائی صرف حق کی ہے۔ جس جگہ رام للا براجمان ہے وہاں مسجد تھی۔ اس کے ثبوت ہمارے پاس ہیں اور وہی لڑائی ہم لڑ رہے ہیں۔
عدالت سے باہر باہمی رضامندی سے مسئلہ کے تصفیہ کے لئے انصاری کہتے ہیں، "اب یہ ممکن نہیں ہے۔" میرے والد اور گیان داس نے جب بھی اس مسئلہ کا حل نکالنے کی پہل کی وشو ہندو پریشد اور دیگر تنظیموں نے اس پر سیاست شروع کر دی۔ بات آگے بڑھنے سے پہلے ہی بیان بازی اور سیاست شروع ہو گئی۔ وہاں مسجد ہی تھی اس کے ثبوت ہمارے پاس ہیں اور یہ ثبوت ہم نے عدالت میں پیش بھی کئے ہیں۔ اب عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ ہمیں منظور ہو گا۔
اقبال انصاری کہتے ہیں کہ اب وہ رام مندر اور مسجد کے نام پر ایودھیا میں فساد نہیں چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مسئلے پر کافی سیاست ہو چکی ہے۔ اب یہی چاہتے ہیں کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو آ جائے اور معاملہ ختم ہو۔
غور طلب ہے کہ اس معاملہ میں مسجد کی طرف سے چار فریق ہیں۔ محفوظ الرحمان ہی پرانے فریق بچے ہیں۔ باقی بچے لوگ اپنے والد کی موت کے بعد فریق بنے۔ ہاشم انصاری کے بعد اقبال انصاری فریق بنے۔ ظفر صاحب کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے فاروق خان فریق بنے۔ ان کی وفات کے بعد عمر خان فریق بنے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES