dushwari

تین طلاق کا معاملہ پھر گرمایا، پروفیسر نے وہاٹس ایپ پر دی تین طلاق

پروفیسر نے تمام الزامات کی تردید کی

علی گڑھ ۔13؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کو غیر آئینی قرار دئے جانے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے ذریعہ اپنی اہلیہ کو وہاٹس ایپ کے ذریعہ تین طلاق دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے ، جس کے بعد تین طلاق کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں چھاگیا ہے ۔ متاثرہ خاتون نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے فریاد کی ہے ۔ علاوہ ازیں متاثرہ نے اے ایم یو کے وائس چانسلر سے بھی شکایت کی ہے ۔

یونیورسٹی میں سنسکرت محکمہ کے چیئرمین خالد بن یوسف خان کی اہلیہ یاسمین خالد نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو وہاٹس ایپ پر تین طلاق دیا ہے ۔ متاثرہ نے اس معاملہ کی اے ایم یو انتظامیہ سے بھی شکایت کی تھی ، لیکن اے ایم یو انتظامیہ سے کوئی قابل اطمینان یقین دہانی نہیں ملنے کی وجہ سے اب اس نے سول لائنس پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔
ادھر پروفیسر خالد نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے نہ صرف ان کو وہاٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعہ طلاق دی ہے بلکہ شریعت کے مطابق دو لوگوں کی موجودگی میں مقررہ میعاد میں زبانی طور پر بھی طلاق دی ہے ۔پروفیسر خالد کا کہنا ہے کہ میں نہیں بلکہ میری اہلیہ گزشتہ دو دہائیوں سے میرا استحصال کررہی تھی ، اس نے شادی سے پہلے کی اپنی کئی باتوں کو مجھ سے چھپایا ، وہ دعوی کرتی رہی کہ وہ گریجویٹ ہے ، لیکن شادی کے بعد پتہ چلا کہ وہ گریجویٹ بھی نہیں ہے ۔ادھر متاثرہ یاسمین کا کہنا ہے کہ وہ صرف گریجویٹ نہیں بلکہ اے ایم یو سے ایم اے اور بی ایڈ بھی ہیں ۔ خیال رہے کہ پروفیسر خالد سنسکرت محکمہ میں ڈین اور چیئرمین کے عہدہ پر ہیں ۔ تئیس سال پہلے خالد بن یوسف نے یاسمین سے شادی کی تھی ۔ شادی کے بعد تین بچے بھی ہوئے ہیں ۔ یاسمین کا الزام ہے کہ خالد شادی کے بعد سے ہی مار پیٹ کیا کرتا تھا ۔ اٹھارہ ستمبر کو خالد نے طلاق کا میسیج وہاٹس ایپ پر بھیجا ، اس کے بعد تیس اکتوبر کو تین طلاق دینے کی بات کہی ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES