dushwari

مولانا محمد اسلم قاسمی کے انتقال پرملال سے نہ صرف دیوبند اور سہارن پور میں بلکہ اطراف و اکناف کے تمام علمی اور دینی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی

نئی دہلی۔13نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) دار العلوم وقف دیوبند کے صدر المدرسین اور ناظم تعلیمات اور دار العلوم دیوبند کے سابق مہتمم حکیم الاسلام مولانا قاری محمدطیبؒ کے صاحب زادہ مولانا محمد اسلم قاسمی کے انتقال پرملال سے نہ صرف دیوبند اور سہارن پور میں بلکہ اطراف و اکناف کے تمام علمی اور دینی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے سانحۂ رحلت کو علمی اور دینی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ مرحوم نے یک سوئی اور دل جمعی کے ساتھ اپنے پدر بزرگوار قاری محمد طیب صاحب کی علمی اور دینی وراثت کو عوام اور خواص میں تقسیم کرتے رہے۔

انھوں نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم جب تقریر و خطابت کے میدان میں جلسے جلوس میں جاتے تھے تو ان کی گل افشانی گفتار اور ان کے فلسفیانہ اور متکلمانہ انداز خطابت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے اندر حضرت قاری طیب صاحبؒ کی روح اتر آئی ہے۔ انھوں نے مولانا اسلم صاحبؒ کی تدریسی، تعلیمی اور انتظامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اخیر زمانے میں جب کہ ان کے اعصاب معمول کے مطابق کام کرتے رہ رہے تھے اوروہ صاحب فراش نہیں ہوئے تھے، اپنے آپ کو جلسے جلوس اور سیمینار اور کانفرنسوں سے بالکل الگ کرکے خالص علمی وحدیثی سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنالیا تھا اورادھر کچھ عرصہ سے دار العلوم وقف میں بخاری شریف کا کام یاب درس بھی دے رہے تھے، جو طلبہ برادری میں کافی مقبول تھا۔ مگرپیرانہ سالی کے سبب ادھر کچھ دنوں سے ان کی طبیعت کچھ ایسی بگڑی کہ پھر اس میں سدھار نہ ہوسکا اور اپنے پیچھے ہزاروں شاگردوں، عقیدت کیشوں اور محبین کے ایک جم غفیر کو سوگوار چھوڑ کر سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ انھوں نے مولانا کی علمی و ادبی بصیرت وقابلیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف الجہات شخصیت کے حامل تھے، وہ اسلامی اور دینی علوم کے ساتھ عصری علوم پر بھی ماہرانہ دسترس رکھتے تھے۔صرف یہی نہیں بلکہ زبان و ادب اور شعر و شاعری کا بھی شعور رکھتے تھے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ انھیں درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کے مشغلہ سے بھی کافی دل چسپی تھی۔ انھوں نے تقریبا سات جلدوں میں عربی کی مشہور کتاب سیرت حلبیہ کا جو آسان ادبی اردو زبان میں ارود ترجمہ کیا ہے وہ ان کے لیے یقیناًتوشۂ آخرت ثابت ہوگا۔ سیرت کے مقدس موضوع پر مبنی اس کتاب کے ترجمے کو علمی، دینی، مدرسی اور اسلامی حلقوں میں جو مقبولیت ملی ہے، وہ اردو کے بہت کم سیرت نگاروں کے حصہ میں آئی ہے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ انھوں نے خاندان قاسمی کی علمی اور دینی وراثت کو جس طرح اپنے سینہ سے لگاکر رکھا اور ملک و بیرون ملک تا حیات اس کی ترسیل و تبلیغ اور تشہیر و توسیع میں منہمک رہے، یہ سعادت دیگر خانوادوں کے افراد و رجال کے حصہ میں بہت کم آئی ہے۔ انھوں نے بانی دار العلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی اورخصوصا اپنے والد گرامی مرتبت قاری طیب صاحب کے علوم و معارف، ان کے افکار و خیالات اور ان کی علمی خدمات کو جس طرح علمی اور مدرسی حلقوں میں پہنچایا ہے، اس کی فراخ دلانہ تعریف نہ کرنا بہت بڑی نا انصافی ہوگی۔ انھوں نے مولانا مرحوم کے برادر اکبر مولانا محمد سالم قاسمی اور ان کے پسماندگان اور اولاد و احفاد کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل مرحلہ تمام قاسمی برادران کے لیے بڑا حوصلہ شکن ہے کہ علم و ادب کے کوہ سار ایک ایک کرکے زمیں بوس ہوتے جارہے ہیں اوراکابر و اسلاف کی یادگار علم و ادب کی نورانی اور روحانی مجلسیں سونی ہوتی جارہی ہیں، ایسی صورت حال میں ان کی دینی اور علمی خدمات کو دوسروں تک پہنچانا اور اور ان کے علمی، تدریسی اور تالیفی و تصنیفی کارناموں سے غیر مدرسی حلقوں کو واقف کرنا دار العلوم سے نسبت رکھنے والے تمام افراد و اصحاب کا ایک ملی فریضہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی مولانا مرحوم کو جنت الفردوس کا مکیں بنائے، دار العلوم وقف کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور اولاد و احفاد سمیت تمام خانوادۂ قاسمی کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES