dushwari

حج2018کے لیے درخواست مطلوب

فارم بھرنے کی آخری تاریخ 7؍دسمبر2017

چار سال کا مخصوص زمرہ ختم

نئی دہلی ۔13؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی کی طرف سے جاری پریس بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے اعلان کے مطابق1439ہجری،2018 ؁ء میں حج بیت اللہ کے فریضہ کی ادائیگی کا ارادہ رکھنے والے دہلی کے عازمین کے لیے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ذریعے حج درخواست فارم کی وصولیابی آئندہ15؍نومبر2017 سے شروع کی جارہی ہے۔ جس کی آخری تاریخ07؍دسمبر2017ہوگی۔ حج فارم بھرنے کے لیے درخواست گذار عازمین کے پاس 7؍دسمبر2017یا اس سے پہلے کا جاری کیا ہوا کم سے کم 14؍فروری2019 ؁ء کی میعاد تک قابل قبول ہندوستانی بین الاقوامی مشین ریڈیبل پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔

حج فارم حج کمیٹی آف انڈیا کی ویب سائٹ:http://hajcommittee.gov.in/ پر آن لائن یا اپنے اسمارٹ فون پرGoogle Playکے تحت ایپ hajcommitteeofindiaپر بھی بھرے جاسکتے ہیں۔جبکہ 300روپیے کی مطلوبہ فیس کی ادائیگی حج کمیٹی آف انڈیا کی مذکورہ ویب سائٹ پر آن لائن یا پے ان سلیپ کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI)یا یونین بینک آف انڈیا (UBI) کے کسی بھی برانچ میں جمع کر سکتے ہیں۔ دستی طور پرفارم بھرنے کے لیے فارم اور پے ان سلیپ کی کاپی اور تفصیلی ہدایت نامہ حج کمیٹی آف انڈیا کی مذکورہ ویب سائٹ یا دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی ویب سائٹ http://www.dshc.in/سے حاصل کی جاسکتی ہے۔دستی طور پر بھرے ہوئے فارم اور آن لائن پُر کیے گئے فارم کا فوٹو چسپاں کیا ہواپرنٹ آوٹ تمام مطلوبہ کاغذات اور فیس کی رسید منسلک کرکے 7؍دسمبر2017 ؁ء تک ہر حال میں ڈاک کے ذریعے یا صبح دس بجے سے شام چار بجے تک دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے دفتر حج منزل،ترکمان گیٹ، آصف علی روڈ، نئی دہلی110002-میں جمع کرنا لازمی ہے۔
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے گذشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی حج کمیٹی کے دفتر میں کام کے دنوں میں (پیر سے جمعرات صبح دس بجے سے شام چار بجے تک اور جمعہ کو10 بجے سے12بجے تک اور2سے4بجے تک)فارم کی تقسیم، آن لائن اور آف لائن حج درخواست فارم بھرنے، جمع کرنے، آن لائن فیس جمع کرنے اور بلڈگروپنگ کے لیے دہلی سرکار کے محکمہ صحت سے طعینات طبی ٹیم پرمستمل خصوصی کاونٹر بھی لگائے جائیں گے۔
حج کمیٹی کے چیئرمین حاجی محمد اشراق خان (ایم ایل اے، سیلم پور) کی صدارت میں آج منعقد ایک ہنگامی میٹنگ میں حج2018اور اس کے لیے سابقہ برسوں کے مقابلے اس سال زیادہ جلد درخواست طلب کیے جانے اورآئندہ کی کاروائی بھی پہلے کیے جانے اور نئی حج پالیسی کے نافذالعمل نکات کی روشنی میں انتظام و انصرام اور تیاریوں کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں شریک غیر سرکاری تنظیم کوٹے سے نامزد ممبر جناب نصرالدین سیفی نے حج2018 سے جموں و کشمیر کے عازمین کے لیے امبارکیشن پوائنٹ کے لیے جموں کشمیر یا دہلی میں سے کسی ایک کو اختیاری بنانے کے نتیجہ میں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی پر پڑنے والے انتظامات کے مزید بوجھ پر توجہ مبذول کرائی۔ چیئرمین حاجی محمد اشرق خان نے یقین کا اظہار کیا کہ چونکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی حکومت کی پالیسی کو رو بہ عمل لانے اور پارلیامنٹ سے منظور ایکٹ2002اور دہلی اسمبلی سے پاس دلی حج رول2006 کے مشمولات و نکات کے نفاذ کے لیے پابند عہد ہے۔ اس لیے حج مشن کی کامیابی اور عازمین حج کو بہتر سے بہترسہولیات کی فراہمی کے لیے ہر طرح کے اقدام کیے جائیں گے۔ اس کے لیے دہلی کی موجودہ حکومت بھی پوری طرح سنجیدہ ہے اور ذرائع یا فنڈ کی کوئی کمی آڑے نہیں آئے گی۔کمیٹی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے غیر اصولی اور خلاف ضابطہ فیصلے کے نتیجہ میں دہلی امبارکیشن پوائنٹ پر حج2017کی صورت حال کی روشنی میں کہ جس سے عازمین اور ان کے ساتھیوں کو مشکلات کا سامناکرنا پڑا، دیگر ریاستی حج کمیٹیوں کی طرح دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کو دہلی امبارکیشن پوائنٹ کے کلی اور آزادانہ اختیارات کی تفویض کی جانی چاہیے۔کمیٹی اس کے لیے بروقت مراسلت اور مذاکرات کرے گی۔
واضح ہو کہ حج کمیٹی آف انڈیا اور وزارت اقلیتی امور ،حکومت ہندنے نئی حج پالیسی(2018-22)میں پیش کیے گئے بعض نکات کو نافض کرتے ہوئے حج2018کے لیے70سال سے زائد عمر کے زمرہ کو بحال رکھا ہے جب کہ چار(4)سال کے مخصوص زمرہ کو منسوخ کردیا گیاہے۔دوسرے لفظوں میں ایسے درخواست گذار جو گذشتہ لگاتار چار سال تک درخواست فارم جمع کرنے کے باوجود انتخاب سے محروم رہ گئے تھے اور جنہیں سابقہ پالیسی کے مطابق اس سال مسلسل پانچویں بار درخواست دینے کی وجہ سے فوقیت کی بنیاد پر منتخب ہونا تھا،نیز اس سال مسلسل چوتھی بار درخواست دینے والوں کو بھی اب نئی پالیسی کے مطابق فوقیت نہ دیتے ہوئے عمومی زمرہ میں رکھا جائے گا اور ان کو بھی قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا۔ اس طرح اب پہلی دفعہ درخواست دینے والوں کے لیے بھی حج کی ادائیگی کی سعادت نصیب ہونے کے امکانات روشن ہوں گے۔
حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے وزارتِ اقلیتی امور سے منظور شدہ حج گائیڈ2018کے مطابق اس سال سے ایک کور میں صرف چار افراد شامل ہونگے۔ جب کہ اس سے پہلے پانچ افراد ہو تے تھے۔اس کے علاوہ اس سال سے حج درخواست فارم میں آدھار کارڈ یا اس کے نہ ہونے کی صورت میں آدھار کارڈ کے لیے اپلائی کرنے کی رسید پر تحریر اندراج نمبر درج کیا جانا ہے۔نئی حج پالیسی کے مطابق ایسی خواتین جن کے پاس شرعی محرم موجود نہ ہوں انہیں چار خواتین کے گروپ میں حج درخواست فارم بھرنے کی اجازت ہوگی بشرط کہ ان کی عمر45سال سے زائد ہو اور ان کا مسلک بغیر محرم حج پر جانے کی اجازت دیتا ہو۔ایسی خواتین سفر حج کے ہر مرحلے میں اپنے گروپ کی شکل میں ساتھ رہیں گی۔
مزید اس سال حکومت سعودی عربیہ کی جانب سے مقرر کیے جانے والے نئے ضابطۂ کے مطابق ایسے افراد؍درخواست گذار جنہوں نے گذشتہ تین برسوں کے اندر حج یا عمرہ کیا ہوااور وہ 70سال سے زیادہ عمر کے کسی عازم کے ساتھی کے طور پر یا محرم کے طور پر یا خود اپنے حج کے لیے جنرل کیٹیگری میں منتخب ہوتے ہیں تو انہیں حج کے عمومی اخراجات کے علاوہ حکومت سعودیہ عربیہ کوحج ویزا فیس کے طور پر2000سعودی ریال کی مزید ادائیگی کرنی ہوگی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES