dushwari

دہلی پولیس نے طالبات کو بری طرح پيٹا- پولیس نے کھینچے بال(مزید اہم ترین خبریں)

مودی حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ مقابلہ کی ٹھان لی ہے: عام آدمی پارٹی

نئی دہلی،یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)دہلی پولیس کا ایک ایسا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار وحشیانہ طور پر مظاہرین طالب علم - اسکالر کو پیٹتے دکھائی دے رہے ہیں. یہ ویڈیو پولیس کے کام کاج سے ناخوش عام آدمی پارٹی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے.خاص بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں پولیس کی وردی پہنے ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ سادہ کپڑوں میں بھی لوگ نوجوان طلباء و طالبات کو پیٹتے دکھائی دے رہے ہیں.

ويڈيو میں بہت سے طالب علموں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہویے ان کے سر زمین پر مارتے ہوئے اور ان پر لاٹھیاں برساتے پولیس اہلکاروں کو دکھایا گیا ہے. سادہ کپڑوں میں نظر آنے والے یہ لوگ پولیس سے ہیں یا پھر کوئی اور اس بات کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو پائی ہے.

دہلی پولیس کا انکار
دہلی پولیس نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور کہا ہے 'ویڈیو میں جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ صحیح نہیں ہے.' ڈپٹی کمشنر (سینٹرل) پرمادتي نے کہا کہ کسی بھی مظاہرین کو نہ تو حراست میں لیا گیا اور نہ ہی طاقت کے استعمال کیا گیا.
کیا بولے کیجریوال؟
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اس واقعہ پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ .- میں طالب علموں پر کئے گئے اس پولس مظالم کی سخت مذمت کرتا ہوں.- پونے فلم انسٹی ٹیوٹ چنئی آئی آئی ٹی میں امبیڈکر اسٹڈی سرکل اور اب روہت ویملا کے معاملے میں لگتا ہے مودی حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ مقابلہ کی ٹھان لی ہے.- عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں آج ایک پریس کانفرنس منعقد کرے گی اور دہلی پولیس کی اصلیت سب کو بتائے گی.


طلبہ کو بے رحمی سے پیٹنے پر دہلی پولیس پر انکوائری

نئی دہلی،یکم فروری(ایجنسی) یہاں کیشو کنج میں آر ایس ایس کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کی مبینہ بے رحمی کے ساتھ پٹائی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے آج آناََ فاناََ میں اس معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔
اسپیشل پولیس کمشنر (لا اینڈ آرڈر) دیپک مشرا نے سینٹرل رینج کے جوائنٹ پولیس کمشنر ایس کے گوتم کو اس پور ے معاملے کی انکوائری کرنے اور اس کی رپورٹ انہیں سونپنے کا حکم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے والے اس ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس والے انتہائی بے رحمی کے ساتھ مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور طالبات کو پیٹتے ہو ئے دکھائی دے رہے ہیں۔


مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں پکنک منانے گئے 13 کالج اسٹوڈنٹ سمندر میں ڈوبے

رائے گڑھ،یکم فروری(ایجنسی) مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں Murud beach ساحل سمندر پر پکنک منائے گئے 10 کالج کے طالب علموں اور تین طالبات کی بحیرہ عرب میں ڈوبنے سے موت ہو گئی ہے. لہروں کے درمیان پھنسنے سے یہ حادثہ ہوا. یہ علاقہ ممبئی سے تقریبا 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے.بتایا جا رہا ہے کہ پونے کے Abeda Inamdar College کالج سے تین بسوں میں سوار قریب 120 طالب علم پکنک منانے پہنچے تھے. مرنے والوں کے اعداد و شمار بڑھنے کا خدشہ ہے.


حکومت سازی کے قیام کیلئے کوئی تحریری ضمانت نہیں دینگے 

تاہم مشترکہ پروگرام پر من وعن عمل کی جائیگی۔۔بی جے پی

سرینگر ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)ایجنڈ ا آف الائنس کی عملی آوری سے متعلق مرکزی حکومت کی ضمانت ملنے کے بعد ہی ریاست میں جے پی پی کے ساتھ حکومت سازی کے سلسلے میں اقدامات اُٹھانے کے پی ڈی پی صدر کے بیان کے بعد بی جے پی نے اپنی چپی توڑ تے ہوئے بی جے پی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت نہیں دیگی اور ایسا ضروری بھی نہیں ہے تاہم سابق وزیراعلیٰ اور پارٹی کے درمیا ن جو مشترکہ پروگرام عمل میں لایاگیا ہے اُس پر من و عن عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔نمائندے کے مطابق بھارتیہ جنتاپارٹی کی جموں میں ریاستی صدر ست شرماکی سربراہی میں منعقد ہوئی جس میں سابق نائب وزیراعلیٰ ممبران اسمبلی ، ممبران قانون سازیہ او رسینئر لیڈروں نے بھی شرکت کی ۔میٹنگ کے دوران ریاست میں حکومت ساز ی کے سلسلے میں پی ڈی پی کی جانب سے مطالبات کو بھی زیر غور لایا گیا اور اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی میٹنگ کے بعد پارٹی کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ریاست میں حکومت سازی کا قیام عمل میں لانے سے پہلے مشترکہ پروگرام کو من و عن عملانے کے لئے تیار ہیں تاہم بی جے پی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت نہیں دے سکتی ہے۔ جو ضروری بھی نہیں ہے۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ مرحوم سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اور بی جے پی کے درمیان جس مشترکہ پروگرا م کو عملانے پر دستخط کئے گئے ہیں ۔ بی جے پی اُس پر من و عین عمل کریگی ۔ تاہم ریاست میں نئی حکومت کا قیام عمل میں لانے کیلئے پی ڈی پی کو تحریری ضمانت نہیں دے سکتی ہے۔ پارٹی ترجمان نے کہاکہ دونوں پارٹیوں کے درمیان جو مشترکہ پروگرام بنایا گیا ہے اُس میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہیں ہوسکتی ہے اور ریاست میں پی ڈی پی بی جے پی کی حکومت کا قیام عمل میں لانے سے پہلے مشترکہ پروگرام کے تمام پہلوں پر دونوں پارٹیوں کے درمیان کافی گفت وشنید ہوئی ہے اور اس کے بعد ہی مشترکہ پروگرا م کا قیام عمل میں لایاگیا ہے ۔ جس میں ترمیم کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے 5گھنٹوں تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد کہا تھا کہ ایجنڈ ا الائنس کی عمل آوری سے متعلق مرکزی حکومت کو ضمانت فراہم کرنی ہوگی اُسی صورت میں ریاست میں حکومت سازی کا قیام عمل میںآسکتا ہے۔ پی ڈی پی صدر نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ 10ماہ کی مخلوط حکومت کی کار کردگی سے ریاست کے لوگ مطمئن نہیں ہے اور زمینی سطح پر کسی بھی قسم کا بدلاؤ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ریاست کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے ۔ پی ڈی پی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ان کے والد مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ ایجنڈ الائنس کے تحت سرکار بناکر کوئی غلطی نہیں کی تھی اور نہ ہی اس اقدام میں کوئی خرابی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ 10ماہ تک پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار کی طرف سے کچھ اہم اقدامات اُٹھائے جانے کے باوجود عوامی اور سیاسی سطح پر سرکار کا بہت کم اثر دکھائی دیا ۔جس کی وجہ سے ایجنڈ ا آف الائنس میں شامل اہم معاملات اور اقدامات کی عمل آوری میں بھی کمی نظر آئی ۔پی ڈی پی صدر کے بیان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے صاف کردیا ہے کہ ریاست میں حکومت سازی کا قیام عمل میں لانے کے لئے وہ تحریری ضمانت دینے کے حق میں نہیں ہے۔طویل خاموشی کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا حکومت سازی سے متعلق بیان سامنے آنے کے ساتھ ہی ان کے سابقہ حلیف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔پی جے کی ریاستی قیادت نے سوموار کوپارٹی میٹنگ کے بعد دلی کا رخ کیا ہے جہاں وہ پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ سے ملاقات کرکے آگے کا لائحہ عمل اختیار کرنے سے متعلق ہدایات حاصل کریں گے۔اے پی آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں بی جے پی لیڈران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں حکومت سازی سے متعلق جاری تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے اس بیان کو بھی زیر بحث لایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ فضول میں انگلیاں جلانے کے حق میں نہیں ہیں اور جب تک مرکزی بی جے پی قیادت کی جانب سے ایجنڈا آف الائنس کی عمل آوری سے متعلق کوئی بات نہیں کی جاتی تب تک حکومت سازی کیلئے آگے بڑھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پی ڈی پی کی جانب سے اس طرح کے اشارے ملنے کے حوالے سے بی جے پی کی ریاستی قیادت نے اپنی سرگرمیان تیز کردی ہیں اور جموں میں میٹنگ منعقد کرنے کے بعد بی جے پی کی ریاستی شاخ کے صدر اور سابق نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ اپنے سینئر لیڈران کے ہمراہ دلی کا رخ کئے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ ریاستی بی جے پی قیادت اس معاملے میں حتمی فیصلہ لینے کے لئے مرکزی قیادت کے ساتھ بات کرنے کیلئے نئی دلی پہنچ گئے ہیں جہاں اس معاملے میں حتمی فیصلہ لینے کی توقع ہے ۔ 


راجوری کے پلما علاقے میں بنک ڈکیتی کو پولیس نے ناکام بنا دیا 

ایک گرفتار فرار ہوئے 3ڈاکوں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع 

سرینگر ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)راجوری کے مضافاتی علاقے میں بنک ڈکیتی کو ٹالنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ بنک لوٹنے والے ڈاکوں میں سے ایک کو دبوچ لیا گیا ہے جبکہ تین پولیس کو چکمہ دینے اور رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ جن کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہے ۔نمائندے کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ایس ایس پی راجوری راجیو ر سنگھ نے کہا کہ 31جنوری رات دیر گئے پولیس کو مصدقہ اطلاع ملی کہ پلما علاقے میں قائم کئے گئے بنک شاخ کو لوٹنے کے لئے ڈاکو سرگرم ہوگئے ہیں ۔ اوررات کے دوران ہی بنک ڈکیتی کا کام انجام دے رہے ہیں۔اطلاع ملنے کے بعد ایس ایس پی نے ایس ایچ او راجوری چمن گورکھاہی کے سربراہی میں پولیس پارٹی تشکیل دی تاکہ ڈاکوں کو اراروں کو ناکام بناجاسکے ۔ ایس ایس پی کے مطابق بنک شاخ حفاظ کو یقینی بنانے اور ڈکیتی کو ناکام بنانے کے لئے پولیس پارٹی سادہ کپڑوں میں ملبوث ہوکر ناکہ پر بیٹھی اورجوں ہی بنک کو لوٹنے کی غرض سے 4ڈاکو بنک شاخ کے نزدیک پہنچ گئے پولیس پارٹی نے انہیں گھیر ے میں لے لیا۔ تاہم صرف ایک ڈاکو پولیس پارٹی کے ہاتھ لگ گیا جبکہ مزید 3پولیس کو چکمہ دینے اور رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ ایس ایس پی کے مطابق اگر چہ بنک شاخ کو لوٹنے سے بچایا لیا گیا تاہم 3فرار ہوئے ڈاکوں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہے ۔جنہیں جلد ہی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیاجائیگا۔ پولیس کے مطابق فرا رہوئے افراد کو گرفتار کرنے کیلئے کئی جگہوں پر چھاپے ڈالے گئے تاہم اُن کا سراغ نہیں مل سکتا جبکہ گرفتار کئے گئے شخص سے پوچھ تاچھ شروع کردی گئی ہے۔ 


جموں وکشمیر پولیس نے بھی طلبہ کو سیر کیلئے مہم کا آغاز کردیا

وطن کو جانو سیر کیلئے ہندوارہ قصبہ کے 20طلبہ کو روانہ کریں گے/ ایس پی 

سرینگر۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)آپریشن سدبھانا کے طر ز پر پولیس نے شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبہ اور ملحقہ علاقوں کے طلبہ کو 15دنوں کی وطن کو جانو سیر کے لئے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نمائندے کے مطابق جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے پہلی دفعہ وطن کو جانو سیر کے لئے شمالی کشمیرکے ہندوارہ قصبہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے 20طلبہ کو گواہ ، ممبئی ، پونے اور آگاہ اور دوسرے تواریخی سیر کے لئے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ایس ایس پی ہندوارہ غلام جیلانی وانی نے وطن کو جانو سیر کے لئے دسویں ، گیارویں ااور بارویں جماعت کے طلبہ کو روانہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے طلبہ کو ملک کی ترقی ، ثقافت اور تاریخی جگہوں کے بارے میں جانکاری ملے گی ۔تاکہ طلبہ اپنے بہتر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ریاست جموں وکشمیر کا نام روشن کرسکے۔ ایس ایس پی کے مطابق جموں وکشمیر کی جانب سے پہلی دفعہ 20طلبہ کو ملک کی مختلف ریاستوں کی سیرکے لئے روانہ کیا جارہاہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے آپریشن سد بھاوناکے تحت مختلف سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا ء وطالبات کو سیر و تفریح کے لئے روانہ کرتی آئی ہے۔ ا،دھر وطن کو جانو کی سیر پر جانے والے طلبہ اور ان کے والدین نے جموں وکشمیر پولیس کی اس کاروائی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسے سرکاری ، پرائیوٹ اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو اپنی بہتر صلاحیتوں کو مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم ہوگا۔ 


اترپردیش کے اسسٹنٹ لیبر کمیشن اضافی چارج سے آزاد

مظفر نگر۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)محکمہ نے افسران کے خلاف بدعنوانی کی شکایت پائے جانے کے بعد ضلع اتھارٹی نے گھشیام سنگھ کو اسسٹنٹ لیبر کمیشن کے اضافی چارج سے آزاد کردیا ۔ ڈی ایم نکھل چندر شکلا نے آج یہاں صحافیوں کو بتایا کہ کل شکایت ملی تھی کہ محکمہ محنت کے افسر مبینہ طور سے مزدوروں کو سائیکل تقسیم کرنے کیلئے رشوت لے رہے ہیں اس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ۔ڈی ایم نے بتایا کہ اسسٹنٹ لیبر کمیشن کا چارج کسی دیگر افسرکو دے دیا گیا ہے ۔ گھنشیام اس وقت شاملی ضلع کے اسسٹنٹ لیبر کمیشن کے طور پر کام کررہے ہیں ۔


11ریاستوں میں سماجی ورفاعی اسکیموں کے عدم نفاذ پر سپریم کورٹ کی سرزنش قابل ستائش: آل انڈیا ملی کونسل

نئی دہلی یکم فروری(فکروخبر/ذرائع )عوامی مفاد عامہ کی اپیل پر سنوائی کے دوران سپریم کورٹ کے ذریعہ 11 ریاستوں بشمول گجرات میں سماجی ورفاہی اسکیموں کے عدم نفاذ پر سخت نوٹس لینے اور اظہار ناراضگی کو صحیح بتاتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل نے اس کی ستائش کی اور ریاستی حکومتوں کی مذمت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے سے سماج کے کمزور طبقات، پسماندہ اور اقلیتوں کا اعتماد بڑھا ہے کیونکہ یہ اسکیمیں سماج کے ان ہی طبقات کو اوپر اٹھانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ مفاد عامہ کی اس عرضی میں کہا گیا تھا کہ یوپی، بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، کرناٹک، آندھراپردیش، تلنگانہ، ہریانہ اور گجرات جیسی ریاستیں سوکھے سے متاثر ہیں اور ریاستی حکومتیں متاثرین کو سہولیات پہنچانے میں ناکام ہیں۔ وہاں نہ تو غذائی قانون نافذ ہے اور نہ ہی منریگا چل رہی ہے۔ غذائی تحفظ ایکٹ کے تحت سوکھے سے متاثر خاندان کے ہر شخص کو پانچ کلو اناج مفت دیا جائے گا اور کھانے کا تیل ودالیں بھی دی جائیں گی نیز اسکول جانے والے بچوں کو دودھ اور انڈا مڈڈے میل میں دیا جائے گا۔
ڈاکٹر عالم نے کہا کہ ان رفاہی وفلاحی اسکیموں کو پارلیمنٹ نے بنایا تھا لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومتیں اس کو نظرانداز کر رہی ہیں جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مدن بی لوکر کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ کل یہ ریاستیں کہہ سکتی ہیں کہ وہ آئی پی سی، سی آر پی سی اور ثبوت سے متعلق قانون پر عمل نہیں کریں گی۔ کیا اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ عدالت نے گجرات حکومت سے پوچھا کہ کیا آپ ہندوستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس ریمارک کی روشنی میں مسلم تنظیموں اور اداروں کو چاہیے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمان اس سے سبق لیں اور اپنی اپنی ریاستوں میں اس کے نفاذ کا جائزہ لیں اور اگر کہیں نفاذ نہیں ہو رہا ہے تو عملی اقدام کریں۔
اس موقع پر ڈاکٹر عالم نے یہ بھی کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جس طرح تفریق ہو رہی ہے، معصوم لوگوں کو گرفتار کیا جار ہا ہے، بے گناہوں کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں ملک کے انصاف پسند شہریوں بالخصوص مسلمانوں کو اپنی حکمت عملی بنانا چاہیے اور قانون کے تئیں بیداری پیدا کرنا چاہیے تاکہ انصاف کا حصول آسان ہو سکے۔


ڈاکٹر شکیل احمد اُردو یونیورسٹی کے نئے رجسٹرار

حیدر آباد، یکم ؍فروری ( فکروخبر/ذرائع) ڈاکٹر شکیل احمد، جوائنٹ سکریٹری ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘ حیدرآباد کے رجسٹرار کی حیثیت سے پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ سے جائزہ حاصل کیا ہے۔ 
اُن کا تعلیمی انتظامیہ میں وسیع تجربہ رہا ہے۔ وہ یوجی سی ہی میں ڈپٹی سکریٹری اور جامعہ ہمدرد نیز یونیورسٹی آف دہلی میں ڈپٹی رجسٹرار رہ چکے ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1985ء میں بی کام اور 1992ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم کام کیا۔ انہوں نے 1998ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر شکیل احمد کی کتاب ’’ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ ان یونیورسٹیز‘‘ (Human Resource Development in Universities)،1999 میں شائع ہوئی۔ اُن کے تحقیقی مقالات کینیڈا، کویت، نیدر لینڈ اور امریکہ کے رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے 31 تحقیقی مقالات مؤقر قومی رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ انہوں نے متعدد قومی / بین الاقوامی کانفرنسس‘ سمینارس اور ورکشاپس میں شرکت کی۔ وہ ملک کے مختلف جامعات و کالجس کی تعلیمی اور انتظامی کمیٹیوں اور بورڈس کے رکن بھی رہ چکے ہیں جن میں سنٹرل یونیورسٹیز آف کیرالا، جھارکھنڈ، بہار، پنجاب، ایچ این بی گڑھوال یونیورسٹی ، اتراکھنڈ، ڈاکٹر ہری سنگھ گوڑ وشواودیالیہ، ساگر، مدھیہ پردیش ، وگیان فاؤنڈیشن ، گنٹور، جامعہ ہمدرد،نئی دہلی ، میڈیکل سائنسز یونیورسٹی ، ناگپور ، یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد قابل ذکر ہیں۔ 


فرقہ پرستی پر قابو پایا جائے، اقلیتوں کی بہبود کی جائے

مسلم مجلس مشاورت کی عاملہ کے اجلاس میں مودی سرکار سے مطالبہ 

نئی دہلی۔یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) یکم فروری ۲۰۱۶ : کل ہند مسلم مجلس مشاورت نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان فرقہ پرست عناصر کی نکیل کسی جائے جنہوں نے اقلیتوں اور دلتوں کو اپنے آتنک کا نشانہ بنارکھا ہے۔ کل یہاں مشاورت کے مرکزی دفتر میں منعقد نو تشکیل مجلس عاملہ کے اجلاس میں مشاورت نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کی تازہ مہم جوئی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم اس کے باوجود چلائی جارہی ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اورعدالت عالیہ نے موجودہ صورتحال میں کسی تبدیلی پر روک لگاررکھی ہے۔ حکومت اس مہم کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یہ مہم رائے دہندگان کو فرقہ بندی کی بنیاد پر تقسیم کرکے خصوصا یوپی اسمبلی کے چناؤ میں بھاجپا کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے شروع کی گئی ہے۔ مسلم مجلس مشاورت سماج کو بانٹنے والی طاقتوں کی اس تحریک کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور مودی سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر حرف بحرف عمل کیا جائے۔ مشاورت کی قومی مجلس عاملہ کایہ اجلاس نومنتخب صدر جناب نوید حامد کی صدارت میں ہوا جس میں ملک بھر سے کثیر تعداد میں نمائندوں نے شرکت کی۔ نظامت جناب مجتبیٰ فاروق ، سکریٹری جنرل نے کی۔ ممبران نے محسوس کیا کہ ملک کا سماجی اورسیکولر تانے بانے کو، جو کہ ہمارے ملک اورآئین کی روح ہے، سنگھ پریوار سے خطرہ ہے جو ہندتووا کا ایجنڈہ نافذ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ 
مشاورت نے دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی حالیہ گرفتاریوں پر تشویش جتاتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ وزیراعظم اوروزیرداخلہ نے کئی بار اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ہندستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں اور یہ کہ ہندستانی مسلمان کبھی بھی آئی ایس کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ اس کے باجود سیکیورٹی ایجنسیوں نے یوم جمہوریہ سے قبل کم از 14 نوجوانوں اس شک میں گرفتار کرلیا ہے کہ وہ آئی ایس جیسے خونخواردہشت گرد گروہ کے رابطے میں تھے۔ مشاورت نے اپیل کی ہے کہ اگرواقعی کسی نوجوان کو ورغلایا گیا ہے تواس کی اصلاح کی تدابیر کی جانی چاہیں نہ کہ ان کو جیلوں میں ڈال دیا جائے۔ مشاورت نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ یہ سلسلہ وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ اسرائیل کے بعد شروع ہوا ہے۔ مشاورت نے یاد دلایا ہے کہ ہندستانی مسلمان برملا کہہ چکے ہیں کہ آئی ایس ایک دہشت گرد گروہ ہے، اس کا اسلام اورمسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات اب تک 1050 سے زیادہ مسلم علماء اورمدارس کے رہنما کہہ چکے ہیں۔ 
مسلم یونیورسٹی: مسلم مجلس مشاورت نے علی مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی حقیقت سے منکر ہونے کے حکومت کے موقف پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات کو دوہرایا ہے مسلم یونیورسٹی کا قیام سرسید احمد خان کے فکراورتحریک کا نتیجہ ہے۔ وہی اس کے بانی تھے۔یہ تعلیمی ادارہ خاص مسلمانوں کی تعلیم کے لئے قائم کیا گیا تھا، اس لئے اس کے اقلیتی کردار کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ مشاورت نے توقع ظاہر کی ہے کہ عدالت عالیہ میں اس مسئلہ پر اقلیت کوانصاف ملے گا۔
املاک دشمن آرڈی ننس: مشاورت نے حال ہی میں جاری اس آرڈی ننس کو آئین ہند میں شہریوں کو عطاکئے گئے حقوق اور ضمانتوں کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون بیرون ملک جاکر بس جانے والے ہندستانی شہریوں کی املاک میں ان کے ورثاء کو حق وراثت سے محروم کرنے کی ایک خطرناک مثال بن جائیگا۔ مشاورت نے تمام سیکولر اور حق پسند افراد اوراداروں کو اس کی طرف متوجہ کیا ہے اورفیصلہ کیا ہے کہ اس قانون کو پارلیمنٹ میں منظورہونے سے روکنے کے لئے رابطہ مہم چلائی جائیگی۔
وقف امور: مشاورت نے وقف ترمیمی ایکٹ 2013 کی متعدد دفعات کے تحت اقدامات میں کوتا ہی پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مرکزی حکومت اورتمام ریاستی سرکاروں سے اپیل کی ہے کہ ایکٹ کی تمام دفعات خصوصا وقف جائیدادو ں کے سروے، اوقاف میں خالی اسامیوں پر تقررریوں اور مالی مشکلات سے دوچار وقف بورڈوں کی گرانٹ کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ 
دلت طالب علم: مشاورت نے ان اسباب وحالات پرسخت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے جن کی بدولت ایک ہونہار دلت رسرچ اسکالر کو خودکشی جیسا انتہائی اقدام کرنا پڑا۔ مشاورت نے اس معاملہ میں مرکزی وزیروں اسمرتی ایرانی اور بنڈارو دتاتریہ کی روش پر افسوس کا اظہار کیا ہے جنہوں نے نہایت بے حسی کا مظاہرہ کیا اورگمراہ کن بیان دیکر الٹا دلت طلباء کوہی قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی۔مشاورت نے مطالبہ کیا ہے کہ خودکشی کرنے والے طالب علم روہتھ ومولا کے اہل خاندان کی دلجوئی کی جائے۔ معقول معاوضہ دیا جائے اور سرکاری روزگار دیا جائے۔ مشاورت نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ایسا موثرنظام نافذ کیا جائے جس سے دبے کچلے طبقے کے طلبا ء کی شکایات کا بروقت ازالہ ہوسکے۔ سماج کے پسماندہ اوردلت طبقوں کو اقتصادی نمو کے عمل میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے لئے مشاورت نے مشورہ دیا ہے کہ اقلیتوں اورسماج کے دیگر طبقوں کی بہبود کے لئے اعلان شدہ سرکاری اسکیمیوں کے موثرنفاذ اور سماجی سیکٹر کے دیگر شعبوں کے لئے بجٹ میں مختص رقومات کو بڑھایا جائے۔دیہی ترقی پر زیادہ توجہ دی جائے۔ 
بجٹ میں رقم کا اختصاص: مشاورت نے سماجی طور پر محروم طبقات کی بہبود کے کئی شعبوں کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرنے یا اس میں اضافہ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فروغ تعلیم اور صحت خدمات کے لئے مختص رقوم میں اضافہ کیا جائے تاکہ اسپتالوں میں ٹیکوں کی کمی دور ہو، تمام سرکاری صحت مراکز پر تشخیص، ٹسٹ اوردواؤں کی فراہمی مفت ہو۔ وزارت اقلیتی امور کے لئے فنڈ بروقت جاری کیا جاے۔ طلبا ء کے اسکالر شپس کی تعداد اوررقوم میں اضافہ کیا جائے۔ ان کی درخواستوں کو آسان کیا جائے۔ایم ایس ڈی پی اوروزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام کے تحت اسکیموں میں شفافیت لائی جائے۔ اقلیتوں کے ڈاٹا بنک کے قیام اوررکھ رکھاؤ کے لئے رقم دی جائے۔ اورمساوی مواقع کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔
عالم اسلام: مسلم مجلس مشاورت نے عالم اسلام میں مسلکی تفرقہ پروری پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کو عالم اسلام کے لئے نہایت تباہ کن رجحان قرار دیا ہے۔ اسلام باہمی بھائی چارے اورپرامن بقائے باہم کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرکچھ اختلافات ہیں تو ان کو مکالمہ کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے اور پرتشدد طریقوں یا طاقت کے استعمال سے بچنا چاہئے۔ مشاورت نے اسلامی ممالک کی تنظیم سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم مماالک میں اختلافات کو حل کرانے خصوصا سعودی عر ب اورایران کے درمیان اختلافات کو دورکرانے میں پہل کرے۔


بمشکل چھ گھنٹے بجلی فراہمی سے لوگ بیحال 

فتحپور۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) کھاگا تحصیل میں کاغذوں میں بجلی محکمہ شہر کو بارہ گھنٹے بجلی فراہم کررہی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ٹریپنگ اور غیر اعلانیہ کٹوتی کی وجہ سے شہر کو مقررہ شیڈول سے قریب پانچ گھنٹے کم بجلی مل پارہی ہے ۔ شہریوں کو مطالبہ ہے کہ محکمہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائے اور بجلی مہیا کرائے ۔ بجلی محکہ کے مطابق اس وقت شہر کو بارہ گھنٹے کی بجلی فراہمی مہیا کرائی جارہی ہے ۔ چھ گھنٹوں کی دو شفٹ رات ساڑے بارہ بجے ساڑھے چھ بجے اور دوسری شفٹ دوپہر ڈھائی بجے سے رات ساڑھے آٹھ بجے تک مقرر کی گئی ہے ۔ پہلے مرحلے میں رات ہونے کی وجہ سے زیادہ موقعوں پر بجلی ٹریپنگ اور کٹوتی سے مستثنیٰ رہتی ہے ۔ لیکن دوسری شفٹ میں یہ دونوں رکاوٹیں فراہمی کو متاثر کررہی ہیں ۔ دوپہر ڈھائی بجے سے شروع ہونے والی سپلائی شام ساڑھے پانچ بجے سپلائی شروع ہوتی ہے ۔ یعنی فراہمی شروع ہونے سے پہلے ہی ڈھائی گھنٹے بجلی محکمہ غائب کرلیتاہے ۔ فراہمی شروع ہونے کے بعد ٹریپنگ اور درجنوں بار فراہمی رک جارہی ہے۔ اندازہ کے مطابق دوسری شفٹ میں تین گھنٹہ کے ہی بجلی فراہمی ہورہی ہے ۔ 


دوشیزہ کی عصمت دری 

باغپت۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)اترپردیش کے باغپت ضلع کے کھیکرا تھانہ علاقہ میں ایک نوجوان نے ۲۰ سال کی دوشیزہ کو مبینہ طور سے اپنی ہوس کا شکار بنا ڈالا۔ پولیس نے آج یہاں بتایا کہ کھیکرا تھانہ کے ایک گاؤں میں کل شام ۷ ۲سالہ رفیق نام کے ایک نوجوان نے ایک دوشیزہ کو گھسیٹ کر ایک گھر میں لے گیا اور اس کی عصمت دری کی ۔ ملزم کو گرفتارکرلیاگیاہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES