dushwari

دادری سانحہ کے ملزمان کا نام بتانے سے گریز کیوں؟: آل انڈیا ملی کونسل(مزید اہم ترین خبریں)

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)مشن 2017کے تحت منعقد اجلاس میں سماجوادی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے اس بیان پر کہ دادری سانحہ میں بی جے پی کا ہاتھ تھا اور اگر وزیر اعظم چاہیں تو میں ان تین نوجوانوں کے نام بتا سکتا ہوں، پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بھی ہے۔ ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمدمنظور عالم نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایک ایسے وقت جب سیاسی پارٹیاں یوپی کے انتخابی دنگل کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں اور بی جے پی کے جارحانہ اپروچ کے سامنے سماجوادی پارٹی یا یوپی حکومت سمجھوتہ کرتی جارہی اور سرینڈر کرتی نظر آرہی ہے۔

جیسے کارسیوکوں پر گولی چلانے کا افسوس۔ اسی طرح غازی آباد کے ڈاسنہ میں ’ھندو سوا بھیمان‘ کا آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے خلاف ہتھیاروں کی ٹریننگ سے متعلق حکومت کی لاعلمی کا اظہار جبکہ نرسنہا نند عرف سوامی نیوز چینل پر خود اس کا اعتراف کررہا ہے اور اخبارات میں فوٹو کے ساتھ خبریں شائع ہوچکی ہیں، اور اب ملزمان کا نام بتانے پر بھی سیاست ہورہی ہے۔ ا نھوں نے کہا کہ ریاست کے مسلمان دودھاری تلوار کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک دھار سیکولرازم کے قائد کی ہے جس پر مسلمان پر بھروسہ کرتا ہے، وہ ان کی حفاظت کے بجائے سانحہ کے ملزم کا نام بتانے سے بھی گریز کررہے ہیں کہ کہیں بی جے پی ناراض نہ ہوجائے جبکہ دوسری دھار بی جے پی اور سوابھیمان جیسی تنظیمیں ہیں جو اقلیتوں اور کمزور طبقات کو خوف وہراس میں مبتلا کررہی ہیں، ان کی عزت وآبرو پر حملہ آور ہیں۔ دلتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جون پور ایسا شہر ہے جہاں دلتوں کے خلاف زیادتیوں کے واقعات سب سے زیادہ سامنے آئے ہیں اور اسکول جانے والے بچوں سے جبری مزدوری کرائی جارہی ہے، لیکن حکومت کی جانب سے اس پر کوئی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں بے لگام ہیں اور ننگا ناچ کرنے آزادی ملتی جارہی ہے، کیا یہ گڈگورننس کی علامت ہے؟ کیا اس سے لاء اینڈ آرڈر قائم رہ سکتا ہے؟ کیا اس سے مسلمانوں کا خوف وہراس دور ہوجائے گا؟ڈاکٹر عالم نے ریاستی حکومت کو خبردار کیا اور کہا کہ ملک کی اقلیتیں ان چیزوں کو دیکھ رہی ہیں اور حقائق پر ان کی نگاہ ہے۔ ملک کے مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے بالخصوص یوپی کے تناظر میں سماجی تانے بانے کو مضبوط بنانے اور اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی اس لیے وقت رہتے ریاستی حکومت کو سنبھل جانا چاہیے۔


لاٹری نکلنے کی بات کہ کر جعل ساز نے طالب علم سے ایک لاکھ اور وکیل سے ۶۳ ہزار روپئے لے لئے

گورکھپور۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )لاٹری نکلنے کا جھانسہ دے کر جعل ساز نے طالب علم سے ایک لاکھ اور وکیل سے ۶۳ ہزار روپئے لے لئے کرائیم برانچ کی سائبر سیل دونوں ہی معاملوں کی جانچ کر رہی ہے۔ شاہ پور علاقے کے بچھیا کالونی کا رہنے والا آدرش سنگھ ایم کام کا طالب علم ہے۔ ۰۲ جنوری کو اس کے موبائل پر ۲۵ لاکھ روپئے کی لاٹری نکلنے کا میسج آیا فون کرنے پر ٹیکس کے نام پر جعل ساز نے ایکاؤنٹ میں ۶۱ہزار ۰۹۹ روپئے جمع کرائے۔ جھانسہ دے کر اس نے تین بار الگ الگ بینک اکاؤنٹ میں کل ایک لاکھ روپئے جمع کرا لئے۔ کزشتہ دنوں فون کرنے پر جعل ساز نے لاٹری کا چیک محکمۂ انکم ٹیکس میں پھنسنے کی جانکاری دے کر ۰۷.۲ لاکھ روپئے اور مانگنا شروع کر دئے۔ ٹھگے جانے کا اندیشہ ہونے پر آدرش نے شاہ پور تھانے میں تحریر دی۔ آدرش نے ایک کپڑا تاجر سے روپئے قرض لیکر جعل ساز کے کھاتے میں جمع کئے تھے۔ دوسری طرف چلوا تال علاقے کے اترا سوت گاؤں کے رہنے والے وکیل ونے کمار کے موبائل پر جعل ساز نے لاٹری نکلنے کا میسج دے کر کھاتے میں ۳۶ ہزار روپئے جمع کرا لئے۔ ٹھگے جانے کی جانکاری ہونے پر ونے نے کینٹ تھانے میں فون کرنے والے نا معلوم شخص کے خلاف جعل سازی اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا کرائم برانچ کی سائبر سیل دونوں ہی معاملوں کی چھان بین میں مصروف ہے۔ 


کانگریس کارکنوں نے پٹرولیم کی قیمتوں کو لیکر کیا مظاہرہ 

گورکھپور۔30جنوری(یو این این )پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرنے کے مطالبہ کو لیکر مہانگر کانگریس کمیٹی کے کارکنوں نے ڈی ایم دفتر پر مظاہرہ کیا۔ مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ اس دورہن صدر ارن کمار اگر ہری کی رہنمائی میں کارکنوں نے صدر جمہوریہ کو مخاطب ایک میمورینڈم سٹی مجسٹریٹ کے حوالے کیا۔ اس موقع پر ارون کمار نے کہا کہ بین الاقوامی بازار میں پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھاری کمی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے قیمتوں میں کمی نہیں کر رہی ہے۔ حکومت کا غریبی اور غریبوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس میں عوام اپنی بنیادی سہولیات کو حاصل کرنے میں بھی نا کام ہے۔ جب تک مرکزی حکومت عوام کی بھلائی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا کام کرے گی تب تک کانگریسی کارکن اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گیں۔ میمورینڈم دینے والوں میں دنیش چندر شری واستو ، ڈاکٹر معراج، امیش چندر، سنجوسنگھ، تیج ناراین، جتین وشکرمہ، انوراگ پانڈے، وکاس دویدی اور انوراگ پانڈے وغیرہ شامل رہے۔ 


سستی سیاست کر ہیں راہل گاندھی: بی جے پی

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے حیدرآباد یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم کی خود کشی کے معاملے میں مظاہرہ کر رہے طالب علموں کی تحریک میں شامل ہونے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘سستی سیاست ’بتایا ہے ۔ شہری ترقیات کے مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کانگریس اپنے سیاسی فائدے کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے اور یونیورسٹیوں کا ماحول خراب کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا، ‘‘یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف چل رہی مہم کا حصہ ہے ۔یہ انتہائی سستی سیاست ہے ’’۔واضح رہے کہ حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہت ویمولا نے حال ہی میں خود کشی کر لی تھی۔ اپوزیشن اس معاملے میں مرکزی وزرائاسمرتی ایرانی اور بنڈارو دتاتریہ کو کابینہ سے برطرف کرنے مطالبہ کر رہا ہے ۔ یونیورسٹی میں کچھ طالب علم وائس چانسلر پی اپپا راؤ اور انچارج وائس چانسلر وپن شریواستو کو ہٹانے کی مانگ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے بھی آج وہاں جاکر ان طالب علموں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ بی جے پی ترجمان نلن کوہلی نے اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب حیدرآباد یونیورسٹی میں حالات معمول پر آ رہے ہیں تب مسٹر گاندھی کا وہاں جانا ان کے ارادے پر سوال کھڑا کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا،‘‘مسٹر گاندھی صرف اسی جگہ جاتے ہیں جہاں انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔وہ کبھی مالدہ نہیں گئے ۔ پارٹی کے ایک اور ترجمان سنبت پاترہ نے کہا کہ روہت ویمولا کے معاملے کو دلت بمقابلہ غیر دلت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مسٹر گاندھی نے اس معاملے میں جس طرح کی بے حسی دکھائی ہے اس سے صاف ہے کہ وہ کسی ذمہ داری کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں۔


فقہ اکیڈمی کا پچیسواں سمینار آسام میں غصہ کی طلاق اور ملت کا اختلاف اہم موضوع ہوں گے 

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا پچیسواں فقہی سمینار آسام کے بدرپور میں منعقد ہوگا جو 1989میں اپنے تاسیس سے جدید عہد میں پیدا ہونے والے مسائل میں ملت کی شرعی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے علاوہ دینی مدارس کے فارغین میں علم و تحقیق اور فقہی علوم کی تحقیق میں اہم رول ادا کر رہی ہے ۔5تا7فروری تک ہونے والے سہ روزہ فقہی سمینار میں پانچ موضوع زیر بحث آئیں گے ۔ ان میں سے ایک اہل کتاب اور ان کے احکام ہے جس کے تحت اس دلچسپ سوال پر غور کیا جائے گا کہ کیا برادرن وطن کا شمار اہل کتاب میں کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ نیز ایک اورا ہم مسئلہ غصہ کی طلاق ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہا ہے ۔ اس کے حل کی سبیلوں پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ دوسرے معذوروں اور بوڑھوں کے حقوق، تیسرے اختلاف اور وحدت امت، چوتھے بین المذاہب مذاکرات وغیرہ کے موضوعات بھی زیر غور ہوں گے ۔ اکیڈمی نے ابتک اپنے چوبیس سمیناروں میں دوسو سے زائد نئے مسائل پر فقہ اسلامی کی روشنی میں فیصلے کیے ہیں۔ پچیسواں سمینار آسام میں منعقد ہورہا ہے ۔یہ پہلا موقع ہے جب اکیڈمی آسام میں سمینار منعقد کر رہی ہے جو وہاں کے امیر شریعت مولانا طیب الرحمن صاحب کی دعوت پر ہورہاہے ۔ ہر موضوع سے متعلق تیار کردہ سوالات کے مطابق آئے ہوئے خیال رہے کہ اکیڈمی نے اب تک ہندوستان کے مختلف مقامات پر اور مختلف ریاستوں اور شہروں میں یونیورسٹیوں اور دینی تعلیمی اداروں میں چوبیس فقہی سمینار منعقد کیے جن میں ہندوستان کے کونے کونے سے فقہ وفتویٰ سے تعلق رکھنے والے علماء، ماہرین جمع ہوئے اور ان علماء و فقہا نے دوسو سے زائد نئے مسائل پر فقہ اسلامی کی روشنی میں فیصلے کیے ۔ مثال کے طورپر جنیٹک سائنس، کلوننگ، آنکھوں کا عطیہ، گردے کا عطیہ، ماحولیات، کرنسی، بینکنگ وغیرہ وغیرہ، خاص طورپر اقتصادی، سماجی، طبی اور عصر حاضر کی جدید ترقیاتی کے نتائج میں پیدا ہونے والے مختلف مسائل پر فیصلے کیے ۔اکیڈمی نے اپنے فقہی سمیناروں میں نئے مسائل پر علماء کو غور وفکر کرکے فیصلے کرنے کی دعوت دی۔ اس کے گزشتہ سمیناروں میں مولانا علی میاں، مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا ابوسعود، مولانا عبدالجلیل چودھری، مولانا سید نظام الدین ، مولانا سالم قاسمی، مولانا سید رابع حسنی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مفتی حبیب الرحمن خیرآبادی، مفتی سعید پالنپوری اور ملک کے ممتاز مقتدر علماء شریک رہے ہیں۔ اکیڈمی کے سیکریٹری مولانا امین عثمانی نے بتایا کہ پچیسویں فقہی سمینار کے موضوعات میں پانچ موضوع زیر بحث آئیں گے ۔ ہر موضوع سے متعلق تیار کردہ سوالات کے مطابق آئے ہوئے جوابات اور مقالات کی تلخیص تیار کرلی گئی ہے اور اسی طرح عرض مسئلہ بھی ان تلخیصات اور عرض مسئلہ کی روشنی میں علماء اس پر مذاکرہ ومباحثہ کریں گے اور پھر واضح رہنمائی پیش کریں گے ۔اہل کتاب کے موضوع کے تحت یہ بات بھی زیر بحث آئے گی کہ برادران وطن کا بھی اہل کتاب میں شمار ہوسکتا ہے یا نہیں نیز اہل کتاب کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات کی سطح اور دائرہ کیا ہونا چاہئے ۔بوڑھوں اور معذوروں کے حقوق کے سلسلہ میں یہ بات بھی زیر بحث آئے گی کہ بہو پر ساس سسر کی خدمت واجب ہے یا نہیں۔ اسی طرح اگر بیٹے نہ ہوں تو بیٹیوں پر بوڑھے والدین کی خدمت واجب ہے یا نہیں۔ اور اگر کوئی اولاد نہیں ہے تو پھر معذوروں اور بوڑھوں کی دیکھ ریکھ اور نگہداشت کے بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے اورمسلم سماج کی کیا ذمہ داری ہے ۔ اختلاف اور وحدت کے سلسلہ میں یہ بات بھی زیر بحث آئے گی کہ مختلف فقہی مسالک کے درمیان باہمی تعلقات ،روابط، مذاکرات برائے تقریب کس طرح ہوں اور فقہی ومسلکی اختلافات کے دائروں کو کس طرح محدود رکھا جائے کہ جس سے وحدت امت کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ اسی طرح مختلف مسالک کے درمیان باہمی تعلقات، تبادلہ خیال اور تفاہم کے طریقے کیا ہونے چاہئیں۔عالم اسلام میں بڑھتے ہوئے شیعہ سنی اختلافات کی شدت یا پھر سلفی، بریلوی وغیرہ اختلافات کی شدت کو کس طرح کم سے کم کیا جائے اور ایک امت کے تصور کو زیادہ قوت کے ساتھ پیش کیاجائے ۔ غصہ کی طلاق بھی ایک اہم موضوع ہے جو اب سماج میں پھیلتا ہوا ایک مرض ہے ۔ عصر جدید میں اس کا کیا مناسب حل پیش کیاجائے یا مختلف فقہی آراء کی روشنی میں اس پر غور کیاجائے ۔اجتماعی غور وفکر اور تبادلۂ خیال کے ذریعہ ان مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی

ََََََََََََََََََََراہل گاندھی بھوک ہڑتال میں کیوں شامل ہوئے : سبرامنیم سوامی کا سوال

کوچی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے یونیورسٹی آف حیدرآباد میں دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کی بھوک ہڑتال میں نائب صدر کانگریس راہل گاندھی کے شامل ہونے پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کیرل کے کوچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کیوں اس احتجاج میں شامل ہوئے ؟کیا وہ ماہر تعلیم ہیں؟وہ کیوں اس معاملہ میں گئے اور اس کو کیوں پیچیدہ بنادیا؟ اس معاملہ کے بارے میں معلومات حاصل کئے اور حقائق معلوم کئے بغیر احتجاج میں شامل ہونے کا کیا فائدہ ؟یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ ہم کو یہ نہیں پتہ کہ سوسائیڈ نوٹ میں کیا لکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے وائس چانسلر کو تبدیل کیا گیا کیونکہ وزارت فروغ انسانی وسائل نے ایک ٹیم کو بھیجا تاکہ نقائص کا پتہ چلایا جاسکے ۔


اٹھائیس انگلیوں والے ہندوستانی کا نام ’گینز بک‘ میں شامل

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )گینز بک ویسے تو ان گنت عجائبات سے بھری پڑی ہے مگران عجائبات فطرت میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہے جس کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کی کل 28 انگلیاں ہیں۔ گویا اس کے ہاتھوں اورپاؤں میں 8 اضافی انگلیاں ہیں۔ بھارتی شہری کی ایک ویڈیو فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ ریاست گجرات کے رہائشی 43 سالہ ڈیونڈرا سوتھار کا کہنا ہے کہ 28 انگلیاں میرے لیے کسی پریشانی کے بجائے ’’نعمت‘‘ ہیں۔ ان کی وجہ سے مجھے نہ صرف عالمی شہرت ملی بلکہ گینز بک میں میرا نام بھی شامل ہوا ہے سوتھار کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ مجھے دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں جب کہ میں خود سے محظوظ ہوتا ہوں۔خیال رہے کہ ڈیونڈرا سوتھار پیشے کے اعتبار سے بڑھئی ہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ زیادہ انگلیوں کی وجہ سے میرے ساتھ کام کرنے والے اور محلہ دار سب مجھ سے حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔


اوپیندر پانڈے کی لاک اپ میں پٹائی کرنے پر ایس پی سٹی عدالت میں طلب 

گورکھپور۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اے جی جے ایم وقار شمیم رضوی نے کھجنی علاقے کے کیوٹلی گاؤں کے باشندے روپیندر پانڈے کو لاکپ میں بند کر کے پیٹنے کے ایک معاملے میں اس وقت کے ایس پی سٹی منوج کمار، ایس او اشوک کمار سنگھ، سپاہی رام اشیش یادو کو آئندہ۱۵ مارچ۲۰۱۶ کو سماعت کے لئے طلب کیا ہے۔ عدالت میں مدعی کی جانب سے پربھو دیال سنگھ ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ واقعہ تیس جولائی ۲۰۱۰ کی صبح نو بجے کا ہے۔ مدعی اوپیندر پانڈے کھجنی بازار میں شیوپان بھنڈار پر کھڑے تھے۔ ان کے پاس اس وقت لائسنسی ریوالور تھی۔ اس وقت کے ایس او اشوک سنگھ، سپاہی نے ریوالور کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ایس پی سٹی کی جانب سے بلائے جانے کی بات کہی۔ اس کے بعد انہیں شاہ پور تھانے لاکر لاک اپ میں بند کر دیا گیا۔ اس دورہن ایس او اور ایس پی سٹی نے ان کی پٹائی کی۔ فرضی طریقہ سے چلان بھی کر دیا گیا۔ مدعی کے ریوزن داخلہ کرنے پر ایس پی سٹی منوج کمار کو بھی عدالت نے طلب کیا۔ 


ڈاکٹر ریتا گوتم نے ضلع خاتون اسپتال میں رات کی ڈیوٹی کیلئے اپنی آمد درج کرائی

گورکھپور۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) ایک عرصے کے بعد ضلع خاتون اسپتال میں رات ڈیوٹی کے لئے خاتون اسپشلسٹ ڈاکٹر ریتا گوتم نے پہنچ کر ڈیوٹی جوائنڈ کر لی ہے۔ پرنسپل سکریٹری کی ہدایت کے بعد تقریباً ایک مہینے پہلے پپرائچ سے ان کا ٹرانسفر خاتون اسپتال کے لئے ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ ڈیوٹی پر نہیں آرہیں تھیں۔ تقریباً دو مہینے پہلے سے خاتون اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کے سبب مریضوں کا علاج متاثر چل رہا تھا۔ ڈاکٹر نہ ہونے سے رات کی ڈیوٹی پوری طرح سے متاثر ہو چکی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے سی ایم او نے پپرائچ اور ساہجنوا سے ایک ایک ڈاکٹر کا تبادلہ خاتون اسپتال میں کر دیا تھا۔ باوجود اس کے دونوں ہی ڈاکٹر ڈیوٹی جوائنڈ نہیں کر رہیں تھیں۔ پرنسپل سکریٹری صحت کے دباؤ کے بعد کسی طرح سے ایک ڈاکٹر نے ڈیوٹی جوائنڈ کر لی ہے لیکن دوسری ڈاکٹر کے لئے اسپتال انتظامیہ نے پرنسپل سکریٹری کو ریمائنڈر بھیجا ہے۔ 


سڑک حادثے میں دو لوگ زخمی 

شاہ جہاں پور۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )الگ الگ حادثوں میں دو لوگ زخمی ہو گئے۔ جس میں شمن کی حالت کافی نازک ہے وہ ضلع اسپتال میں داخل ہے۔ اج کل سردی کے موسم آٹو والے بھی گھنے کوہرے کی پرواہ نہ کر کے ٹیمپو کو چلاتے ہیں۔ جس میں سمن دختر رام ویر ساکن چاندہ پاور تھانہ سہرا مؤ جنوبی صبح سات بجے ٹیوشن پڑھنے کے لئے جا رہی تھی کہ ٹیمپو والے کو کہرے میں دکھائی نہ دیا اور اس نے سمن کو اپنی چپیٹ میں لے لیا جس سے سمن کے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔ اس کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ وہ ضلع اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اسی طرح دوسرا واقعہ تھانہ مدنہ پور کے موضع سہجنا مدھو کی ننہی دیوی بیوی رگھولال عمر (۴۵) سال اپنے بیٹے سریش کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر جا رہی تھی کہ موضع بری خاص کے پاس ٹرکٹر والے نے ٹکر مار دی۔ جس سے ننہی دیوی کے سینے میں شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ گاؤں والوں نے ٹرکٹر اور اس کے ڈرائیور کو تھانہ مدنا کے حوالے کر دیا۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES