dushwari

سہارنپور، مظفرنگراورمیرٹھ کے پانی میں خطرناک جراثیموں کی موجودگی ؟(مزید خبریں)

این جی ٹی کا ریڈ الرٹ مغربی یوپی میں پینے والا پانی زہر آلودہ؟

سہارنپور۔29جنوری(فکروخبر/ذرائع) پچھلے تین سالوں کی سخت ٹیسٹنگ اور پانی کی مائیکرو جانچ کے بعد سینئر سائنسداں او ر دوآب ماحولیاتی کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر چندر ویر سنگھ نے نیشنل گرین ٹریبیونل کو صاف طور سے بتادیا اور سمجھادیاہے کہ مغربی اتر پردیش کے درجن بھر اضلاع کے پانی میں مہلک اور جانلیوا جراثیمی اثرات موجود ہیں اور ان اضلاع کا پانی کسی بھی صورت پینے لائق نہی رہاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ مرکزی اور ریاستی سرکاریں ابھی بھی صاف شفاف پینے کے پانی کے بندوبست کرنے کے بجائے سیاسی بساط کو رنگ دینے میں مصروف ہیں

دوسری جانب ضلع سہارنپور میں کچھ دیہاتوں میں اس پانی سے کینسر نے پاؤں پھیلارکھے ہیں تحصیل رامپور منیہاران، تھانہ بڑگاؤں، تھانہ مرزاپور،تھانہ گاگل ہیڑی کے گاؤں میں کینسر سے ابھی تک درجنوں موتیں ہوچکی ہیں جبکہ سیکڑوں علاج نہی مل پانے کے سبب زندگی اور موت سے لڑرہے ہیں کچھ گاؤں کے لوگ تو بیماری کے خوف سے گاؤں بھی چھوڑ چکے ہیں مگر انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے وزیر اور قانون ساز اسمبلی کے ممبران بھی اقتدار کے نشہ میں مست ہیں عوام مرتے ہیں تو مریں ان کو کسی کی زندگی سے کیا لینادینا یہ تو صرف ووٹ کے سوداگر بنے ہیں؟ اہم خبر یہ ہے ہنڈن ندی، کرشناندی اور کالی جیسی خاص اور لمبی ندیوں کاپانی زہریلا ہوچکاہے ایک اپیل نمبر ۶۶ سن ۲۰۱۵ کی سماعت کرتے ہوئے سابق ماحولیاتی سینئر سائنسداں او ر دوآب ماحولیاتی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر چندر ویر سنگھ نے جی این ٹی میں داخل اپنی خاص رپورٹ میں پانی پر سوال اٹھائے تھے اس معاملہ کی سماعت کے دوران ہی نیشنل گرین ٹریبونل بھارت سرکارنے واضع کردیاتھا کالی ندی، کرشناندی اور ہنڈن ندی کاپانی زہریلاہوچکاہے اور جہاں جہاں سے یہ بڑی ندیاں گزررہی ہیں اب وہاں کاپانی کسی بھی طور پر پینے کے لائق نہی ہے بلکہ ان اضلاع کاپانی بھی خطرناک حد تک آلودگی اور گندے جراثیم سے متاثر ہوچکاہے! قابل غورہے کہ کل دیر سے موصول اطلاع کے مطابق سی پی سی ڈی (نئی دہلی ) نے نیشنل گرین ٹریبونل بھارت سرکار کو اپنی ایک اہم رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ بتادیاہے کہ مغربی زون کے باغپت، شاملی، سہارنپور، مظفر نگر اور غازی آباد جیسے اہم اضلاع کاپانی اب کسی بھی صورت پینے کے قابل نہی رہ گیاہے اس لئے بہتر ہے کی سرکار وقت رہتے جلد از جلد ان اضلاع میں علیحدہ طور پر صاف اور شفاف پینے کا بندوبست کرائے اور ایسے یونٹ پر یہ بھی کندہ کرایاجائے کہ یہ پانی پینے کے قابل ہے اگر سرکار جلد ہی اس طرح کے اقدام نہی کرتی ہے توپھر حالات کسی بھی وقت بے قابو ہوسکتے ہیں جسکے نتیجہ میں عوام کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتاہے؟ ہمارے اس ضلع کے ساتھ ہی ساتھ اب مظفر نگر، شاملی، باغپت اور غازی آباد کاپانی بھی پینے کے قابل نہی رہ گیاہے؟ سبھی افسران یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان اضلاع کا پانی آلودہ (زہریلا) ہو چکاہے مگر اسکے باد بھی عوام کو بچانے کے لئے پانی کے نمونوں پر سرکار اور حکام توجہ نہی ڈال رہے ہیں؟ ان اضلاع کے سبھی افسران یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس ضلع کے پانی کے صد فی صد پانی کے نمو نوں میں۶۹ فیصد پانی کے نمونہ گزشتہ ۱۰ سالوں سے لکھنؤ اور آگرہ لیبا ریٹیز لگاتار فیل کرتی آرہی ہیں مگر اسکے بعد افسران اورسرکار کاخاموش رہنا شک وشہبات پیدا کر تاہے اب تو ایسا لگنے لگاہے کہ شاید حکومت خد ہی اپنے عوام کوتندرست دیکھناپسند نہی کرتی ہے اور شاید اتنی خطرناک لاپر واہی اسی وجہ سے کی جارہی ہے؟ ضلع میں پینے کے پانی کی قلت کے سبب آج بھی ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں سے دو چار ہیں گزشتہ ۶ سال کی مدت میں ضلع میں جتنے بھی مجسٹریٹ ضلع میں آئے سبھی نے بار بار افسران کو پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے احکامات دئے مگر اسکے باوجود بھی ماتحت حکام گزشتہ دس سال کی طویل مدت کے وقفہ میں بھی خوف زدہ عوام کو پینے کا صاف شفاف پانی سپلائی کرنے میں پوری طرح سے ناکام بنے ہوئے ہیں ضلع کے چاروں طرف گاؤں کے لوگ آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریوں سے گھر کرمختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں خاص طور پر انجانے جان لیوا وائرل بخار ، ملیریہ بخار اور ٹائفائڈ اور کینسر کے موضی جیسے امراضوں نے عام لوگوں کا آسانی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل کررکھا ہے لگاتار آلود ہ پانی پی پی کر ضلع کے ۵۵ فیصد لوگ آج طرح طرح کی بیماریوں سے دوچار ہیں درجنوں لوگ یہاں کا ( کرشنا ندی) پانی پی پی کر کینسر سے ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں لوگ سن ۲۰۱۱ سے آج تک مختلف بخاروں اور پھیپھڑوں کی بیماری سے لڑتے ہوئے ان متاثرہ چاروں اضلاع میں لاچاری کے ساتھ دم توڑچکے ہیں مگر ریاستی سرکار ابھی بھی تماشائی بنی ہوئی ہے؟ ضلع کے سبھی افسران یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس ضلع کا پانی آلودہ ہو چکاہے مگر اسکے باد بھی عوام کو بچانے کے بہتر اقدام اس جانب نہی کئے جارہے ہیں جس وجہ سے عوام کے لئے لگاتار مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں؟ قاب ہزاروں بیمار اپنی ابیماری کے علاج کے لئے پیسہ نہ ہونے کے سبب دوائی کھانے سے بھی قاصر ہیں حکام خصوصی طور پہ محکمہ صحت کے حکام اور سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے دلوں میں ان مریضوں کے لئے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں ہے اپنی جان بچانے کی غرض سے سیکڑوں مریض ہریانہ ، اتھراکھنڈ اور دہلی کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں صوبائی سرکار اور صوبائی سرکار کے مقامی نمائنددے اور وزرا ء سب کچھ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہیں یہ تماام حالات آلودہ پینے کے پانی کے استعمال کئے جانے کے نتیجہ میں ہی روونما ہورہے ہیں اس لئے تمام تر بیماروں کا علاج بھی سرکاکے خرچ کیا جانا اشد ضرووری ہے افسران کی غلطیاور بھگتے عوام یہ کیسا انصاف؟ ملک کے صاف ذہن قائدین کوو اب اس جانب خاص توجہ دینی ہوگی اگر جلد ہی اس جانب دھیان نہی دیاگیا گیا تو آس پاس کے دیہاتی علاقوں کبھی بھی کوئی بھی خطرناک بیماری وجود میں آسکتی ہے!

ممبئی کے مشہور تفریحی ساحل جوہو پر 40 فٹ مردہ وہیل مچھلی پائی گئی

ممبئی ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع) شہر ممبئی کے مشہور تفریحی ساحل جوہو پر 40 فٹ مردہ وہیل مچھلی پائی گئی۔ مہاراشٹر کے محکمہ سمندری حیات نے مردہ وہیل مچھلی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔اس موقع پر حکام نے بتایا کہ وہیل کی لاش پر کسی قسم کے زخموں کے نشان نہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی موت 4 دن پہلے سمندری آلودگی کے باعث ہوئی۔اس سے قبل پچھلے سال بھی 42 فٹ کی مردہ وہیل ممبئی کے ساحل پر پائی گئی تھی۔ بھارتی سمندری حیات کے محکمے کے مطابق یہ وہیل مچھلیاں عرب سمندری علاقوں کی طرف سے ممبئی کے ساحلی علاقوں کی جانب آتی ہیں۔


صدر جمہوریہ و وزیر اعظم کو محضر نامہ 20فروری کو دہلی میں 

لکھنؤ۔29جنوری(فکروخبر/ذرائع )پچھڑا سماج مہا سبھا،پچھڑوں دلتوں مسلمانوں و عیسائیوں و آدیواسیوں کو نیائے پالیکا ،کارے پالیکا،ودھایکا،ملیکٹری،پیرا ملیکٹری،نجی چھیتر،بہو راشٹریہ کیمپنیوں ،کرسی بھونوں میں ان کی آبادی (ذات کے تناسب سے )حصہ داری دئے جانے،آئین کی شق341سے مذہبی قیدر وبند ہٹائے جانے تعلیم کے راشٹریہ کرن کئے جانے صدر جمہوریہ و مزدور کا بچہ ایک ساتھ پڑھے،کسان آیوگ کا گٹھن مرکزی و ریاستوں میں کیا جائے،خواتین کو 35فیصد ریزرویشن دیاجائے ،خانہ بدوش لوگوں کے لئے مکان،اسکول زمین و بغیر سود کے قرض دیاجائے،جیسے مانگوں کو لیکر 20فروری کو دہلی میں صدر جمہوریہ،وزیر اعظم کومحضر نامہ دیا جائے گا،یہ جانکاری آج یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک و قومی جنرل سکریٹری شیو نارائن کشواہا نے دی ۔
کرپا شنکرقومی سکریٹری مرکزی و ریاستی حکومتوں پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مول نواسیوں کو کسی بھی سطح پر حصہ داری نہیں دینا چاہتی آج یہ سماج روز بروز فاقہ کشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔غریبی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پڑھا نہیں پاتے ،منوادی بندوبست کی وجہ سے یہ سماج ترقی نہیں 
کر پاتا اس سماج میں روز بروز بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ان پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں،اورناانصافی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ایسالگ رہا ہے کہ حکومت کی کسی سازش کے تحت ان کے وجود کو ہی مٹا دینا چاہتی ہے۔
سوتا نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں و مرکزی حکومت ہند ومسلم کو لڑوا کراپنا مفاد حاصل کر رہی ہیں،ان لوگوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا اب وعدے پورے نہیں کر رہے ہیں تو ایسے غیر ضروری مسائل میں الجھا رہے ہیں تاکہ عوام کا دھیان اصل مسئلہ سے ہٹ جائے۔
سوتا یہ بھی کہا کہ اس سماج کی مول بھوت مسائل کااندیکھا سرکاریں کر رہی ہیں ،اور یہ اندیکھی سرکار پر بھاری پڑے گی جب مول بھارتیوں کا ہجوم اترے گا۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES