dushwari

پوروانچل میں سلامتی ایجنسیوں کی سرگرمیاں تیز (مزید اہم ترین خبریں)

ایجنسیوں کی نظر سوشل میڈیا کے پانچ ہزار سے زیادہ اکاؤنٹ پر 

گورکھپور۔28جنوری(فکروخبر/ذرائع) پوروانچل میں آئی ایس آئی ایس کے نیٹ ورک کے سراغ میں مصروف خفیہ اور حفاظتی ایجنسیوں کی نظر سوشل میڈیا کے پانچ ہزار سے زیادہ اکاؤنٹ پر ہے ۔ فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ گمراہ کن پیغمات بھیجنے والوں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ ہی ان کے رابطوں اور دوستانہ فہرست میں شامل افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہے ۔ کشی نگر ضلع سے رضوان کے گرفت میں آنے کے بعد اس مہم کو مزید تیز کردیاگیاہے ۔

دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے آٹی ماہرین اور ان کے ایجنٹ سوشل میڈیا کا استعمال کرکے نوجوانوں کو تنظیم سے مربوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس کے مبینہ ایجنٹ رضوان کی کشی نگر کے کسیا علاقے سے گرفتاری کے بعد اس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ تحفظاتی ایجنسیوں کے ساتھ ہی این آئی ایے ، آئی بی اور اے ڈی ایس سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جارہے اس نیٹ ورک کو توڑ نے میں مصروف ہے ۔ پوروانچل میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد کے فیس بک اکاؤنٹ ، واٹس ایپ پیغامات کی نگرانی کی جارہی ہے ۔ انسداد دہشت گردی دستے کے علاوہ ایس ٹی ایف اور پولیس کے سائبر سیل کو بھی مشتبہ افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرکے آئی ایس آئی ایس اپنا سلیپنگ ماڈیول تیار کررہاہے ۔ ڈی آئی جی شیو ساگر سنگھ کا کہناہے کہ رضوان کے گرفت میں آنے کے بعد گورکھپور حلقہ کے تمام اضلاع میں سلامتی سرگرمیاں بڑھادی گئی ہے ۔ فیس بک پر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے والے افراد کو نشان زد کرکے سائبر سیل ان کی نگرانی کررہاہے ۔ 


اروناچل پردیش: سابق وزیراعلی نے سپریم کورٹ میں داخل کی تازہ عرضی 

نئی دہلی۔ 28 جنوری (فکروخبر/ذرائع)اروناچل پردیش کے سابق وزیراعلی نبم تکی نے ریاست میں صدرراج نافذ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک تازہ عرضی داخل کی ہے۔سیاسی بحران کا شکار اروناچل پردیش میں صدر راج کا نفاذ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے جہاں عدلیہ نے گورنر جیوتی پرساد راج کھوا سے رپورٹ طلب کی ہے جنہوں نے ریاست میں مرکز سے صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بنچ نے ا س معاملے پر تبصرہ کیا ۔ جبکہ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے بحث کے دوران ایک شروعاتی اعتراض ظاہر کیا کہ صدر راجکے نفاذ پر نوٹیفکیشن پر تازہ عرضی میں چیلنج نہیں کیا گیا ہے ۔ دریں اثناء تکی اور ان کے تمام وزارتی ساتھیوں نے ریاست کے گورنر کے اثر کو فور ی طور پر مستردکردیا ۔ ایک سرکاری میمورنڈم میں گورنر جیوتی پرساد راج کھووا نے کہا کہ تمام دیگر وزیراعلی ، اسی طرح مشیر، او ایس ڈی اور خصوصی افسران کی سیاسی تقرریا ں بھی موقوف کردی گئی ہیں۔ گورنر نے فوری طور پرچیف سکریٹری کو سابق وزیراعلی کے افسران ، وزراء اور پارلیمنٹری سکریٹریز کو سیل کرنے کی ہدایت دی ہے اور تمام سرکاری فائلوں اور دستایزات کو محفوظ رکھنے کو کہا ہے۔ سیاسی بحران پر کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ یہ اندرونی بحران تعطل کی وجہ سے ہوا تھا ۔ انہوں نے صدر راج نافذ ہونے کیلئے مودی حکومت کی اس تنقید کو مسترد کردیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ الزام دھیان بھٹکانے کی ایک کوشش ہے۔ قابل ذکرہے کہ صدرپرنب مکھرجی نے منگل کے روز مرکزی کابینہ کے فیصلے کی توثیق کی تھی اور ایک مہینے سے زائد سیاسی بحران کا شکار اروناچل پردیش میں مرکزی نگرانی کے تحت لایا گیا۔ اس فیصلے پر کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے حملہ کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل بتایا۔ 


امام الہند فاؤنڈیشن کی جانب سے آزادی ہند میں علماء کا کردار عنوان سے کامیاب اجلاس 

ممبئی ۔بائیکلہ۔28جنوری(فکروخبر/ذرائع )آزادی کی جنگ میں مسلمانوں کا کردار سب سے زیادہ رہا ۔لیکن ہم خود ہی اپنی تاریخ سے نا آشنا ہو گئے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ علماء کا کردار صرف آسمان کے اوپر زمین کے اندر کی بات کرنا ہے ۔ چونکہ اسلام مکمل نظام حیات ہے اس لئے علمائے اسلام کا کام ہماری مکمل رہنمائی کرنا ہے ۔یہ باتیں امام الہند فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام صابو صدیق کالج کے الما لطیفی ہال میں منعقد جمہوریت کانفرنس میں اندھیری کے کارپوریٹر محسن حیدر نے کہیں ۔یوم جمہوریہ کی آمد آمد ہے اور مسلمان اپنی حب الوطنی اور دستور و آئین ہند کے تئیں اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے اس طرح کے جلسے کررہے ہیں ۔اسی طرح کا ایک جلسہ امام الہند فاؤنڈیشن نے بنام جمہوریت کانفرنس منعقد کیا تھا جس میں بولتے ہوئے مفتی محمد حذیفہ قاسمی صدر انجمن احیائے سنت نے کہا کہ بڑوں کی یاد سے چھوٹوں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے ۔جس قوم نے اپنے اسلاف کی تاریخ کو بھلا دیا تو اس کا زوال یقینی ہے ۔ دفاعی انداز میں گفتگو کا سلسلہ بند کیا جائے ۔اپنے دستوری حقوق کا استعمال بغیر کسی خوف اور جھجک کے کیجئے ۔ہماری ذمہ داری ہے کہ یوم جمہوریہ اور یوم آزادی پر تو کم از کم ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کریں ۔لوگوں کو بتائیں کہ علماء اور مسلم عوام آخر کیوں انگریزوں کہ خلاف آئے اس کی ایک سیدھی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں دین و ایمان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا ۔دین کا واضح نظریہ صرف مسلمان کے پاس ہے اور انگریز مسلمانوں کے اس نظریہ سے خوفزدہ تھے چنانچہ انہوں نے طرح طرح کی سازشیں کرکے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر علماء کی کردار کشی کرکے مسلمانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اسی لئے فرضی معاملات میں علماء کی گرفتاری ہو رہی ہے ۔انہوں نے کانگریس کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کی نیت صاف نہیں تھی ۔صرف موجودہ حکومت ہی ذمہ دار نہیں اس سے قبل کانگریس کی حکومتیں بھی وہی کچھ کرتی رہی ہیں ان کا بچا ہوا کام موجودہ حکومت کررہی ہے۔مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کب تک قلی بن کر جیو گے ۔تعلیم کے میدان میں آگے بڑھو ۔جو صاحب ثروت ہیں انہیں چاہئے کہ غریب بچوں کی کفالت کریں اور ان کے تعلیمی اخراجات زکوٰۃ سے پورا کریں ۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر آپ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ہوتا رہے گا اس سے کوئی بچا نہیں پائے گا ۔انہوں نے مسلمانوں کو ان کا اہم منسب خیر امت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسانوں کی بھلائی کے لئے بھیجے گئے ہیں لہٰذا ہم انسانوں کی بھلائی کا سبب بنیں تو ہم دنیا میں اپنا مقام حاصل کرپائیں گے ۔
مہدی حسن قاسمی خطبہ استقبالیہ میں یہودیوں اور برہمنوں کے اتحاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے کی کوشش کرنے والے ،گاندھی کو قتل کرنے والے لوگوں سے ملک کو خطرہ ۔ہمارے پاس اخلاق و کردار کے سوا اور کچھ نہیں یہ اور بات ہے کہ انہیں ہمارے اخلاق میں تلوار کی دھار نظر آئے اور ہماری تحریروں میں بم بارود مل جائے تو یہ ان کا قصور ہے ۔جہاد ظلم اور ظالم کے خلاف کوشش کا نام ہے۔ظلم جبر اور زبردستی کا نہیں ۔
شمشیر خان پٹھان نے مسلمانوں کے موجودہ وفاداری ثابت کرنے کے رویہ پر کہا کہ ہم جمہوریت بچانے کی بات کررہے ہیں ۔اس جمہوریت میں ہمیں کیا مل رہا ہے ۔کیا انگریزوں کے دور میں بھی ہم ایسے تھے جیسے آج ہیں ۔انگریزوں کے دور میں ہمیں انصاف ملتا تھا آج نہیں ملتا ۔انہوں نے ماضی کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ امام الہند فاؤنڈیشن نے مجھے اس لئے ایوارڈ دیا تھا کیوں کہ میرے اے سی پی نے مالیگاؤں کے ایک انفارمر سے ملایاتھا جس کے پاس بم دھماکے اور اس کے منصوبے کی خفیہ معلومات تھی ۔لیکن جب ہم نے اس پر انکوائری کی تو پتہ لگا کہ اس انفارمر کو پیسہ دے کر اسے ایسی بات کرکے بے گناہوں کو پھنسانے کی سازش کی گئی تھی ۔اس کے بعد ہم سے انکوائری کا حق لے لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم کی تعلیم حاصل کرکے ہمیں اس ایڈمنسٹریشن میں داخل ہونا ہوگا اس کے بغیر چارہ کار نہیں کیونکہ قانون کو لاگو کرنے والے اور حکومت چلانے والے یہی افسران ہوتے ہیں جہاں ہماری موجودگی ایک دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے ۔قانون نے ہمیں تعزیرات ہند کی دفعہ 100 کے تحت یہ اختیار دیا ہے کہ اگر کوئی آپ کی جان لینا چاہتا ہے تو آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اس کے لئے آپ طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں خواہ اس کا انجام کچھ بھی ہو ۔اسی طرح 103 کے مطابق اگر آپکی املاک کو کوئی نقصان پہنچارہا ہے تو آپ اس سے بچانے کے لئے طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ایسے قوانین اور دفعات کی جانکاری آپ کو ہونی ضروری ہے ۔جس سے آپ اپنے اور ہو رہے ظلم سے کچھ حد تک بچ سکتے ہیں ۔اجلاس کے آخر میں امام الہند نے تجاویز بھی پاس کیں جو اس طرح ہیں۔(1 )پسماندہ طبقات دلت مسلم کو تحفظ فراہم کیا جائے (2 )بیجا گرفتاریاں بند کی جائیں (3 )ہندو مسلم اتحاد کے پیغام کوگھر گھر پہنچایا جائے ۔ امام الہند فاؤنڈیشن کے مطابق ان کے مطالبات کو 77 مسلم تنظیموں کی تائید اور ڈھائی سو علماء کی تائید حاصل ہے ۔ 


سنجے مشرا کو یوپی کا نیالوک آیکت مقرر 

نئی دہلی ۔ 28 جنوری (فکروخبر/ذرائع)سپریم کورٹ نے آج جسٹس وریندر سنگھ کو یوپی کا لوک آیکت مقرر کرنے کے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے نئے لوک آیکت کی تقرری کی ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج سنجے مشرا نئے لوک آیکت کے طور پر سنجے مشرا کی جگہ لیں گے۔ گزشتہ سال 16 دسمبر کو سپریم کورٹ نے اپنے آئینی اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سابق جج وریندرسنگھ کی تقرری کی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب حکم دینے کے باوجود ریاستی حکومت اترپردیش میں انسداد بدعنوانی محتسب کی تقرری کرنے میں ناکام رہی ۔ تاہم سپریم کورٹ نے اترپردیش کے لوک آیکت کے طورپر جسٹس وریندرسنگھ کی تقرری کے حکم کے بعد 20 جنوری کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا جس میں ۔عدلیہ نے کہا کہ اس مسئلے پر گمراہ کیا گیا ہے۔ موسم سرما کی چھٹیوں کے درمیان سپریم کورٹ نے سچیدانند گپتا کی جانب سے دائر ایک تازہ عرضی پر سماعت کی جنہوں نے سماجوادی حکومت پرجسٹس سنگھ کے بارے میں حقائق کو چھپانے اور سپریم کورٹ سے دھوکہ دہی کرنے کا الزام عائد کیا۔ قابل ذکرہے کہ لوک آیکت کی تقرری نہ ہونے سے ناراض سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے وزیر اعلی، گورنر اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جم کر پھٹکار لگائی تھی۔ حکم جاری کرنے کے باوجود بھی آخری دن تک لوک آیکت کی تقرری نہ ہونے سے ناراض سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے لوک آیکت کی تقرری کر دی تھی۔


ہاتھوں اور پاؤں کی 28 انگلیوں والے بھارتی شہری کو اپنا نام گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے کی خواہش

نئی دہلی ۔28 جنوری (فکروخبر/ذرائع) گجرات سے تعلق رکھنے والے شہری دویندرا سوتر کے ہاتھوں اور پاؤں کی 28 انگلیاں اور انگوٹھے ہیں۔ ملک کی مغربی ریاست گجرات کے شہر ہمت نگر میں ایک ایسا انوکھا شخص رہتا ہے جس کے دونوں ہاتھوں میں 14 جبکہ پاؤں میں بھی انگوٹھوں سمیت 14 انگلیاں ہیں۔ ہمت نگر کا رہائشی 43 سالہ دویندرا سوتر پیشے کے اعتبار سے ترکھان ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا میں شاید ہی کسی شخص کی اتنی انگلیاں اور انگھوٹے ہوں اس لئے اس کا نام گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا چاہیے۔ غیر ملکی ادارے گفتگو کرتے ہوئے دویندرا سوتر نے بتایا کہ اسے ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کسی دن اس کی کوئی انگلی کٹ نہ جائے کیونکہ اس کے پیشے میں ایسے اوزار استعمال ہوتے ہیں جو بہت تیز دھار ہوتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی انوکھی حالت کو دیکھنے کیلئے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ اسے لوگوں کی توجہ کا مرکز بننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ میری زائد انگلیوں کی بدولت لوگ میرے ساتھ ایک سلیبرٹی کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ دویندرا سوتر کا کہنا ہے کہ میری زائد انگلیوں نے مجھے لوگوں کی نظر میں ایک خاص انسان بنا دیا ہے۔ میں انھیں کبھی اپنے ساتھ سے جدا نہیں کرنا چاہوں گا۔


ناجائز تعلقات کی مخالفت پر بیوی اور بیٹے کو کیا نذرآتش

بارہ بنکی۔28جنوری(فکروخبر/ذرائع)ناجائز تعلقات کی مخالفت کرنے پر ایک شخص نے اپنی بیوی اور آٹھ ماہ کے بچے کو زندہ نذرآتش کردیا ۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ سترکھ ناکہ علاقہ کے رام پور گاؤں کے باشندے پنکو یادو کا گاؤں کی ہی رہنے والی دلت خاتون سے کافی عرصہ سے معاشقہ چل رہاتھا ۔ اس کی وجہ سے اس کا اپنی بیوی رنکی سے اکثر جھگڑا ہوتا تھا ۔اسی معاملے میں کل تنازعہ اتنا طول پکڑلیا کہ پنکو نے گھر میں رکھے مٹی کا تیل رنکی پر ڈال کر آگ لگادی ۔ جس کے سبب خاتون اور اس کا آٹھ ماہ کا بچہ سنگین طور پر جھلس گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس واردات میں بچے کی موقع پر ہی موت ہوگئی ۔جب کہ رنکی کے ساتھ اسے بچانے آئی ساس اور اس کا دیور بھی بری طرح جھلس گیا ۔ انہیں لکھنؤ کے سول اسپتال میں داخل کرایاگیاہے جہاں رنکی کی حالت بے حد نازک بتائی جارہی ہے۔ خاتون کے کنبہ والوں کی تحریر پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم شوہر کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے ۔ 


طلاق کے مقدمہ کے دوران شوہر نے بیوی کی اجتماعی آبروریزی کرائی

دیواس۔28جنوری(فکروخبر/ذرائع)مدھیہ پردیش کے ضلع دیواس میں طلاق کے مقدمے کا سامنا کرنے والی ایک خاتون کی اس کے شوہر اور اس کے دوستوں نے اجتماعی آبروریزی کی اور اس کے بعد اسے ایک بوری میں بند کر پھینک دیا۔کل مقامی لوگوں کی اطلا ع کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ بری طرح زخمی بوری میں بند خاتون پر راہگیروں کی نظرپڑی ، جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ سینٹرل کوتوالی تھانہ پولس کے ذرائع نے آج بتایا کہ متاثرہ خاتون 25 جنوری کو اپنے شوہر کے خلاف طلاق کے مقدمے کی پیشی کے بعد سی ڈسٹرکٹ کورٹ سے واپس آ رہی تھی۔ دیواس کے بس اسٹینڈ پر اترکر خاتون کو اجین میں واقع اپنے مائیکہ ناگجھیری جانا تھا۔ بس اسٹینڈ پر جیپ میں سوار اس کا شوہر پپو جیسوال ملا۔ اس کے شوہر کے ساتھ اس کے سات دوست بھی تھے۔ اس کے شوہر نے اسے ضروری بات کرنے کے بہانے بلایا اور زبردستی گاڑی میں بٹھا لیا۔ پولس نے بتایا کہ ان تمام ملزمان خاتون کو کسی مقام پر لے گئے اور اس کی اجتماعی آبروریزی کی۔ اس کے بعد ملزمان نے اس کے جسم کے کئی حصوں پر چاقو سے حملہ کیا اور اسی حالت میں اسے مردہ سمجھ کر ایک بوری میں بند کر کے رسول پور گاؤں کے پاس سڑک کے کنارے پھینک گئے۔ پولس کے مطابق 26 جنوری کی شام بور ی میں ہلچل اور اس کے اندر سے آواز آنے پر وہاں سے گزرنے والے لوگوں نے پولس کو اس کی اطلاع دی۔ پولس نے بوری کھلواکر زخمی خاتون کو اسپتال بھیج دیا۔ خاتون نے بتایا کہ اس کا سسرال ضلع سیھور کے آشٹا کے مالی پورہ میں ہے اور اس کا شوہر بھی وہیں رہتا ہے۔ خاتون کی نشاندہی پر پولس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔


اجتماعی آبروریزی کا پردہ فاش ، خاتون ہسٹری شیٹر سمیت چار ملزم گرفتار

کانپور۔28جنوری(فکروخبر/ذرائع) چکیری تھانہ حلقے میں تین روز قبل نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ باپ اور بیٹی کو طمنچہ کے زور پر محصور کرکے ۳۸سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی ۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز پولیس نے ہسٹری شیٹر خاتون سمیت چار ملزمین کو گرفتار کیاہے۔ جب کہ دیگر چار ملزم فرار حالانکہ واردات کے سلسلے میں لاپروائی برتے جانے کی وجہ سے ایس ایس پی کے ذریعہ چکیری انسپکٹر اور سنی گواں چوکی انچارج کو لائن حاضر کیا جاچکاہے ۔ واضح ہوکہ کانپور دیہات کے گجنیر کے رہنے والے راج مستری چکیری کے سنی گواں وارث گنج میں محبوب کے زیر تعمیر مکان میں بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتاہے۔ گزشتہ۳ ۲جنوری کی رات کو تقریباً آدھادرجن سے زیادہ اسلحہ بردار بدمعاشوں نے باپ اور بیٹی کو طمنچہ کے زور پر محصور کرلیا اور پھر بیوی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی ۔ واردات کے بعد بدمعاش ۳۱ہزار روپئے لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ واردات کے سلسلے میں چوکی انچارج اور انسپکٹر کے ذریعہ لاپروائی برتی ہوئی جس کے بعد معاملہ کی اطلاع ہوتے ہی پولیس کپتان شلبھ ماتھر نے ذاتی طور پر تفتیش کی نگرانی کرتے ہوئے جانچ کرائی اور ایس پی مغربی دیو رنجن ورما اور سی او کینٹ سشیل گھلے کی قیادت میں پولیس ٹیم کو واردات کا پردہ فاش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ۔ تفتیش کے دوران پولیس ٹیم نے گدیانہ محلہ سے تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ۔ پوچھ تاچھ کے دوران معلوم ہوا کہ واردات میں کلکٹر گنج کی خاتون ہسٹری شیٹر رخسانہ کا بیٹا رضوان شامل ہے ۔ اسی میں منصوبہ بند طریقے سے لوٹ کی واردات کو انجام دیاجانا تھا ۔ جہاں پر خاتون کو دیکھ کر ملزمین کی نیت بدل گئی اور اجتماعی آبروریزی کرکے فرار ہوگئے ۔ایس ایس پی نے بتایا کہ پولیس کے مطابق پرویز ، وویک عرف لاٹھی ، شہنواز اور رخسانہ کوگرفتارکیاگیاہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پرویز نے اپنا گناہ قبول کرتے ہوئے بتایا کہ واردات کی رات میں سات لوگ راج مستری کے گھر لوٹ مار کیلئے گئے تھے ۔ پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے ۳۱۵ بور کے تین طمنچہ ، ۶ زندہ کارتوس اور تین کھوکے سمیت ایک موبائل برآمد کی ہے ۔ جب کہ واردات میں شامل تین دیگر بدمعاش آنند سنگھ ، عطائر عرف رضوان ، بھیا عرف مکیش ، رام بابو عرف بندر ہیں جو ابھی پولیس کی گرفت سے دور ہیں ۔ گرفتار کئے گئے بدمعاشوں نے بتایا کہ وہ لوٹ کا سامان رخسانہ کے گھر پر ہی رکھتے تھے جو پولیس نے برآمد کرلیاہے ۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES