dushwari

صدر جمہوریہ نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ؛

ہمیں تشدد ، عدم رواداری اور ظلمت پھیلانے والی طاقتوں سے چوکنا رہنا ہوگا 

26جنوری (فکروخبر/ذرائع):وطن عزیز کے 67 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر میں آپ کو اور دنیا بھر میں رہنے والے تمام ہندوستانیوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں خصوصی طور پر اپنی مسلح افواج، نیم فوجی دستوں اور داخلی سلامتی کے اہلکاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں ان بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہندوستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اورقانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے عظیم قربانیاں دیں۔

میرے ہم وطنو
26 جنوری 1950 کو ہمارا ملک ایک جمہوریہ بنا اور اس دن ہم نے اپنے آپ کو ہندستان کا آئین دیا۔ یہ دن اْس غیر معمولی نسل کے ان رہنماؤں کی جرات مند اور جدو جہد کا ثمرہ ہے، جنہوں نے استعماریت کو ملک سے بے دخل کرکے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان رہنماؤں نے ہندوستان کی حیرت انگیز تکثریت کو ایک لڑی میں پرو کر ایک متحدہ قوم بنائی جس کی بدولت آج ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے پائیدار جمہوری ادارے بناکر ہمیں جو تحفہ دیا اسی کے سبب آج تسلسل کے ساتھ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ ہندستان آج ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ سائنس ، ٹکنالوجی ، ایجادات، اختراعات ، اسٹارٹ اپس کے میدان میں آج ملک تیزی سے عالمی رہنما کے طور پر ابھررہا ہے اور اس کی اقتصادی ترقی پوری دنیا کے لئے قابل رشک ہے۔
عزیز ہم وطنو
گزر ا ہوا سال 2015 چیلنجوں اور مسائل سے پْررہا ہے۔ اس عرصہ میں دنیا کی معیشت میں مندی چھائی رہی۔اشیائے صرف کے بازاروں میں بے یقینی کی کیفیت چھائی رہی۔ اس کے باعث متعلقہ ادارے بھی سست روی کا شکار رہے۔ ان مشکل اور بے یقینی حالات میں کوئی بھی ملک ترقی کا نخلستان نہیں بن سکتاتھا۔ ہندستان کی معیشت کوبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا سرمایہ کاروں کے اندیشوں کے پیش نظر ہندستان سمیت تمام ابھرتی معیشتوں سے سرمایہ واپس نکالا جانے لگا جس کا لامحالہ اثر ہندستانی کرنسی پر بھی پڑا۔ ہماری برآمدات کا شعبہ اس سے متاثر ہوا۔ ہمارا صنعتی شعبہ ابھی اس کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا ہے۔ سال 2015 میں ہم قدرت کی نعمتوں سے بھی محروم رہے۔ ایک طرف ہندستان کے بیشتر علاقے سنگین خشک سالی سے متاثر ہوئے تو دوسری طرف کئی علاقے تباہ کن سیلابوں کی زد میں آئے۔ موسمی تغیرات نے ہماری زرعی پیداوار کو نقصان پہنچایا۔ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی پر بْرا اثر پڑا۔
عزیزہم وطنو
ہم ان چیلنجوں سے اس لئے نمٹ سکے کیونکہ ہم ان سے واقف تھے۔ مسائل کا ادراک کرنا اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرنا ایک اچھی خوبی ہے۔ ہندستان ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے اور ان پر عمل کررہا ہے۔ اس سال معاشی شرح نمو کا تخمینہ 7.3 فی صد لگایا گیا ہے۔اس حساب سے ہندستان سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ایک بڑی معیشت ہوگا۔ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے سے بیرونی سیکٹر میں استحکام بنائے رکھنے اور گھریلو قیمتوں کو قابومیں رکھنے میں مدد ملی ہے۔ بیچ بیچ میں رکاوٹیں آنے کے باوجود اس سال صنعتی اکائیوں کی کارکردگی زبردست رہی۔ آدھار تک اب تک 96 کروڑ لوگوں کی رسائی ہوئی ہے۔ اس سے لوگوں تک فلاحی اسکیموں کا راست فائدہ پہنچانے کے عمل کو شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت کھولے گئے 19 کروڑ سے زیادہ بنک کھاتے اقتصادی شمولیت کے معاملے میں دنیا کی واحد سب سے بڑی سعی ہے۔ سانسد آدرش گرام یوجنا کا مقصد مثالی گاوں تعمیر کرنا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیاپروگرام دراصل ملک میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ پردھان منتری فصل بیما یوجنا کا مقصد کاشتکاروں کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ مہاتماگاندھی امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ یا منریگا جیسے فلاحی پروگراموں کے بجٹ میں اضافہ کا مقصد روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا اور دیہی معیشت کو نئی توانائی فراہم کرنا ہے۔ میک ان انڈیاپروگرام سے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کو تقویت ملے گی اس سے گھریلو صنعتوں میں مسابقت کا جذبہ بڑھے گا اور کاروبار میں آسانی ہوگی۔ اسٹارٹ اپ پروگرام کے ذریعہ اختراعی کاموں اور نئی نسل کے کاروباری ذہنوں کو جِلا ملے گی۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ مشن کے تحت سال 2022 تک 30 کروڑ نوجوانوں کو ہنر مندی کے جوہر سے لیس کرنے کا پروگرام ہے۔
ہمارے درمیان اکثر شاکی اور ناقد بھی ہوں گے۔ہمیں شکایت، مطالبہ اور مخالفت کرتے رہنا چاہئے۔ یہ بھی جمہوریت کی ایک خوبی ہے۔ بہرحال ہماری جمہوریت نے جو حاصل کیا ہے ہمیں اس کی بھی تعریف کرنا چاہئے۔ بنیادی ڈھانچے یا انفراسٹرکچر، صنعت ، صحت ، تعلیم، سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعہ ہم اونچی شرح نمو حاصل کرنے کے لئے بہتر موقف میں ہیں جس سے ہمیں آئندہ دس پندرہ سالوں میں غریبی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
عزیز ہم وطنو
ماضی کا احترام کرنا حب الوطنی کا ایک ناگزیر پہلو ہے۔ ہماری شاندار وراثت اور جمہوری ادارے سبھی شہریوں کے لئے انصاف، مساوات ،جنسی اور معاشی مساوات کو یقینی بنانے کا کام کرتے ہیں۔ جب سنگین تشدد کے واقعات ان مسلمہ اصولوں اور قدرو ں پر حملہ کرتے ہیں جو ہماری قومیت کے کلیدی عناصر ہیں، تو ان پر اس وقت ہمیں توجہ دینا ہوگی۔ ہمیں تشدد ، عدم رواداری اور ظلمت پھیلانے والی طاقتوں سے چوکنا رہنا ہوگا۔ ترقی اور نشوونما کی طاقتوں کو مضبوط بنانے کے لئیہمیں اصلاحات لانے اور ترقی پسند قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ اس چیز کو یقینی بنانا ہمارے قانون سازوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ضروری بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کے بعداس طرح کے قانون وضع کریں۔ ایک دوسرے کے جذبہ اور نظریات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ تعاون و اشتراک اور اتفاق رائے کے ذریعہ فیصلہ سازی کا عمل ہی ایک بہتر طریقہ ہے۔ فیصلہ سازی اور نفاذ کے عمل میں تاخیر سے ترقی کی رفتار کو نقصان پہنچے گا۔
عزیز ہم وطن ساتھیو
معقولیت پسندی اور ہماری اخلاقی کائنات کا اصل مقصد امن کو فروغ دینا ہے۔ یہ ہماری تہذیب کی بنیاد ہے اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ بھی۔ مگر ہم اس سادہ سے سوال کا جواب نہیں دے پائے۔ امن اب تک گریزاں کیوں ہے؟۔ محاذ آرائی اور ٹکراوکو ختم کرنے سے زیادہ امن قائم کرنا کیوں اتنا مشکل ثابت ہورہا ہے؟ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں انقلابی کارنامے انجام دے کر 20 ویں صدی ہم سے رخصت ہوگئی۔ ہمارے پاس امید کی کچھ وجہ تھی کہ 21 ویں صدی ایک ایسا دور ثابت ہوگا جس میں عوام اور ملک کی اجتماعی توانائیوں کا استعمال ترقی اور خوشحالی کے لئے ہوگا اور اس کے ذریعہ پہلی مرتبہ ملک کو انتہائی غربت کی لعنت سے نجات ملے گی۔ یہ امید اس صدی کے پہلے پندرہ برسوں میں ماند پڑگئی ہے۔ علاقائی عدم استحکام میں تشویشناک اضافہ کے سبب وسیع و عریض علاقوں میں بدامنی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ جس کے باعث علاقائی پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہوا۔دہشت گردی کی لعنت نے جنگ کو ہولناک شکل میں تبدیل کردیا ہے اس عفریت سے اب دنیا کا کوئی علاقہ خود کو محفوظ تصورنہیں کرسکتا ہے۔ دہشت گردی ، جنون آمیز اور مقاصد سے شہ پاتی ہے۔ نفرت کی اتھا ہ گہراہؤں سے تحریک پاتی ہے۔ یہ کٹھ پتلی کے بازی گروں کے ذریعہ اکسائی جاتی ہے جو معصوم لوگوں کے اجتماعی قتل عام کے ذریعہ تباہی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہ بغیر کسی اصول اور نظریہ کی جنگ ہے۔ یہ ایک کینسر ہے جس کا علاج ایک تیز دھار چھری سے کرنا ہوگا۔ دہشت گردی اچھی یا بری نہیں ہوتی یہ ایک بڑی لعنت ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES