dushwari

قرآن حکیم خزینۂ علم وحکمت

ڈاکٹر مرضیہ عارف ,بھوپال


* قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا، یہ مقدس کتاب مذہب اسلام کی اساس اور بڑی حکمت والی ہے جو ۱۴ سو سال سے حرف بہ حرف اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تاقیامت اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے،

اس صحیفۂ آسمانی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی یا فن کے ماہرین سے ان ہی کی زبان، اصطلاحات اور امثال کی روشنی میں بات کرتی ہے، اس کا اعجاز یہ بھی ہے کہ اجنبی زبان، کم علم اور ناواقف لوگوں کو بھی اس کے مفہوم ومقصد کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی اور ماہرین فن اس کتابِ حکمت کی باریکیوں کی تحقیق وجستجو کرتے ہیں تو یہ کتابِ مبین انہیں کائنات کے اسرار ورموز سمجھنے اور سائنٹفک انداز میں اس پر غور وتدبر کی دعوت دیتی ہے، اس میں انسانی زندگی سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ ہے اور وہ اخلاقی لحاظ سے ایک بہتر زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
جزیرۃ العرب کے جہالت زدہ اور تہذیب سے ناآشنا ماحول میں قرآن کریم کی جو آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں وہ ’’علم وقلم‘‘ سے متعلق تھیں جن میں بتایا گیا کہ انسان کی تخلیق ہی خدائے تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر نہیں کرتی اس کو قلم کا استعمال سکھانا اور نامعلوم کو معلوم کرنے کا سلیقہ عطا کرنا بھی قدرت خداوندی کا بے مثال کارنامہ ہے جو خدا جمے ہوئے خون یعنی علق میں جان ڈالتا ہے اسی نے انسان کو علم دے کر تمام مخلوقات پر شرف بخشا ہے، ’’سورہ علق‘‘ کی مذکورہ آیات میں حیات بخشنے اور علم عطا کرنے کا ایک ساتھ ذکر ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام وقرآن نے انسانی زندگی سے علم کا کتنا گہرا رشتہ قائم کیا ہے اور اسی لئے قرآن حکیم کو سرچشمۂ ہدایت کے ساتھ خزینۂ حکمت سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ 
دنیا میں جو کچھ نعمتیں مالک حقیقی نے اپنے بندوں کو مرحمت فرمائیں ان میں مال ودولت یا عزت ووجاہت کسی کے بارے میں اضافہ کی تمنا کرنے کو نہیں کہا گیا صرف علم کے تئیں یہ تلقین کی گئی کہ خدا سے مانگو ’’میرے رب مجھے اور زیادہ علم عطا فرما‘‘
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس فکر انگیز کتاب ’’قرآن حکیم‘‘ کو سرچشمہ علم وعرفان سمجھ کر پڑھتے رہے، اس کے معنی ومفہوم پر غور وفکر کرکے اپنے علم و وجدان میں اضافہ کرتے رہے تو دنیا کے حقائق ومعارف کے رازہائے سربستہ ان پر کھلتے چلے گئے، صحابہؓ جو قرآن مجید کے اولین مخاطب تھے اور جن کی تربیت براہِ راست ایوان نبوت سے ہوئی تھی ایک ایک سورۃ پر برسوں غوروفکر کیا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت منقول ہے کہ آپ ’’سورۃ البقر‘‘ پر مسلسل آٹھ برس تدبر فرماتے رہے، اسی لئے قرآن حکیم میں نشانیاں اور آیات کے بیان میں تدبر کرنے والوں کے لئے ، عقل وفہم والوں کے لئے اور نصیحت پکڑنے والوں کے لئے جیسے کلمات ادا کرکے سبھی انسانوں کو غور وخوض کی دعوت دی گئی، اس کتاب مقدس کا یہ اعجاز نہیں تو اور کیا ہے کہ عصر حاضر کے جدید علوم سے متعلق جن بنیادی اور اہم باتوں کا قرآن میں ۱۴ سو برسوں پہلے انکشاف کیا گیا وقت کی کسوٹی پر وہ اب صحیح ثابت ہوئے اور مستقبل میں بھی اس پر غور وفکر کرنے والوں کے لئے بہ منشائے الٰہی یہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔
امام غزالی ، علامہ سیوطی اور حضرت شاہ ولی اللہؒ نے قرآن پاک میں حکمت ، علم کائنات اور نظم کائنات سے متعلق سات سو سے زیادہ آیات کی نشاندہی کی ہے اور امام غزالیؒ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ایسے متعدد علوم بھی ہوسکتے ہیں جن تک نسلِ انسانی کی رسائی نہیں ہوسکی اور کتابِ الٰہی پر تدبر کے بعد ان کا انکشاف ممکن ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؔ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے والد ماجد نے نوعمری میں اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ قرآن حکیم کا مطالعہ یہ سمجھ کر کریں گویا یہ ان پر نازل ہوا ہے اور خدا خود ان سے ہم کلام ہے، اس نصیحت کے بعد اقبالؔ نے کمال توجہ سے قرآن کا مطالعہ کیا تو اس کے اسرار ورموز ان پر منکشف ہونے لگے، برسوں کی غور وخوض کے بعد اقبال آخر کار اس نتیجہ پر پہونچے کہ دنیا کے سارے مسائل ومصائب کا علاج صرف قرآن مجید ہے، اقبالؔ کی اسی فکر کو جسے ایک جہاں نے خراج تحسین پیش کیا بجا طور پر قرآنی فکر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، یہی فکر تھی جو شاعری کے لباس میں ایک آفاقی پیغام بن کر آخر کار دنیا کے سامنے آئی۔ 
سمجھنے اور غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ قرآن شعور وآگہی کے مسلسل سفر میں کسی طرح حائل نہیں ہوتا بلکہ مظاہر کائنات کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے، اوٹاوہ یونیورسٹی کے فرانسیسی پروفیسر اور سرجن ڈاکٹر مورس بوکائلے کا تو دعویٰ ہے کہ ’’تخلیق کائنات کے بارے میں آج جتنے بھی قابل فہم نظریات دنیا میں رائج ہیں وہ سب قرآن حکیم کے بیان کئے ہوئے نظریہ کے عین مطابق ہیں اور یہ کہ قرآن پاک میں تسخیر کائنات، قدرتی تغیرات اور آسمانی مخلوق کے بارے میں جو کچھ کہا گیا جدید سائنسی تحقیق اسے تسلیم کرتی ہے‘‘، بوکائلے نے اپنی کتاب ’’بائبل ، قرآن اور سائنس‘‘ میں یہ بھی کہا ہے کہ قرآن میں ایسی خبریں موجود ہیں جو اس کے نزول کے وقت دستیاب نہیں تھیں اور کچھ ایسے پہلو بھی شامل ہیں جو چھٹی صدی مسیحی یعنی طلوع اسلام کے وقت عوام الناس کے تصورات کے منافی تھے مثال کے طور پر روز قیامت انسانی اعمال کے حساب وکتاب کے بارے میں قرآن کے دلائل عقل کے گھوڑے دوڑانے والوں کے کبھی گلے نہیں اترے لیکن جدیدتحقیق سے یہ واضح ہوگیا کہ انسان جن حرکات کا مرتکب ہوتا ہے وہ سب فضا بسیط میں موجود رہتی ہیں، ان کو ایک کیسٹ میں بھر کر محفوظ رکھا اور ضرورت کے وقت دیکھا یا سنا جاسکتا ہے،سیٹلائٹ نظام کے ذریعہ ہندوستان میں انجام دیئے جانے والے کام ہزاروں میل کے فاصلہ پر امریکہ، یوروپ اور افریقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں تو کیا دنیا کا خالق ومالک اس پرقادر نہیں کہ وہ روز قیامت بندہ کو اس کے اعمال کا کیسٹ سنادیجس کو دنیا میں کراماً کاتبین (دونوں کاندھوں پر جو فرشتے ہیں) نے ٹیپ کررکھا ہے اور بندہ بے ساختہ پکار اٹھے کہ مال ھذا الکتاب لایغادر صغیرۃ ولاکبیرۃ الا احصاھا (یہ کیسی کتاب (کیسٹ) ہے جو تمام چھوٹی بڑی باتوں کو شمار کئے جارہی ہے) (سورہ کہف)
صدیوں پہلے قرآن حکیم نے فلکیات کے بارے میں جو دعوے کئے تھے اور جن میں رات، دن، سورج، چاند اور ستاروں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانوں کے لئے مسخر کرنے کا مژدہ سنایا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اجرامِ فلکی خلاء میں تیر رہے ہیں اور محوگرش ہیں، آج سائنس نے اس کو تسلیم کرلیا ہے اور یہ بھی مانتی ہے کہ کسی دن اجرام فلکی کی قوت وکشش بگڑ جانے سے پوری دنیا برباد اور مخلوقات ہلاک ہوسکتی ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں ’’روزقیامت‘‘ ہوگا جس کی پیشن گوئی اور منظر کشی سورہ ابراہیم ، سورہ انبیاء اور سورہ دخان میں کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں سورج کو ایک روش چراغ اور چاند کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے، سورہ والشمس میں وضاحت کے ساتھ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور قسم ہے سورج کی جو خوب روشن ہے اور چاند کی جو اس کے پیچھے آتا ہے‘‘ یعنی روشن تو سورج ہے اور چاند کی روشنی اس سے مستعار ہے ، یہی جدید سائنس بھی کہتی ہے۔
انسان نے آج خلاء کی تسخیر کرلی اور چاند تک اس کے قدموں کی دھمک محسوس ہورہی ہے جو دوسری اقوام کے لئے باعث حیرت ہوسکتا ہے لیکن حاملین قرآن کے لئے نہیں کیونکہ اس کے امکانات کے بارے میں قرآن پاک میں واضح اشارے موجود ہیں۔ سورہ رحمان میں انسانوں اور جنوں کے گروہوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ’’اگر تم زمین وآسمان کے کناروں سے نکل جانا چاہتے ہو تو نکل جاؤ لیکن کسی زور کے بغیر نہیں نکل سکتے، مفسرین نے اس آیت کے لفظ ’’سلطان‘‘ کی تصریح زور، علم اور ادراک سے کی ہے، خلائی سائنس کے ادراک سے ہی انسان کو آج چاند تک پہونچنے کا موقع میسر آیا ہے۔
قرآن پاک کی ’’سورہ فرقان‘‘ میں دو دریاؤں کے مختلف النوع پانی کے ملنے کے باوجود اس کے ذائقہ وہیئت کے مختلف ہونے اور ان کے درمیان ایک قوی حجاب کا جو انکشاف کیا گیا ہے فرانسیسی سائنس داں کیسٹواپنے بحری سفر کے دوران بحر احمر اور بحر روم کے سنگم میں اس کا مشاہدہ کرکے قرآن کی حقانیت پر ایمان لاچکا ہے۔
آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کے مطابق کسی شئے کی رفتار روشنی سے زیادہ یا اس کے برابر نہیں ہوسکتی اور اگر ایسا ہوجائے تو اس کے لئے وقت ٹھہر جائے گا اور اس کی مادیت اور اس کی توانائی برابر ہوجائے گی، روشنی کے برابر رفتار ۳ لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈحاصل کرلینے کے بعد کسی چیز کو لاکھوں کروڑ وکلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں چند لمحوں کا وقت لگے گا اور کیونکہ اسلام میں روشنی یا نور کو ایک اہم مقام حاصل ہے لہذا حضور ﷺ کا واقعہ معراج اب تعجب خیز نہیں رہ گیا۔
یہ اور اسی طرح کے سینکڑوں واقعات وانکشافات ہیں خواہ ان کا تعلق کائنات کی پیدائش سے ہو یا فرعون کی نعش کی قدامت سے، علم حیات سے ہو یا علم طبعیات سے یہ صحیفہ آسمانی ان کے بارے میں ایک جامع اور مکمل تصور پیش کرتا ہے، جو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ قرآن حکیم کلامِ الٰہی ہے اور یہ کائنات اس کی تخلیق ہے جب کہ سائنس اس کائنات کے اصولوں کو مادی طور پر سمجھنے کا نام ہے اس لئے سائنس کی صحیح اور مسلمہ چیزوں اور قرآن کی تفسیر میں تضاد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مالکِ حقیقی کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ تضاد وغلط فہمی حقیقت میں ہمارے علم ناقص کا نتیجہ ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES