dushwari

چلے تھے قرآن میں خامیاں نکالنے ! مگر ؟؟

مولانا محمد سمعان خلیفہ ندوی

چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاری ازل سے تا امروز جاری ہے، جب جب باطل کی تگ وتاز سامنے آتی ہے تب تب قوت توحید کا اعجاز رنگ لاتا ہے، اعدائے اسلام کی ریشہ دوانیاں اور دسیسہ کاریاں مسلسل جاری ہیں لیکن مایوسی کے اندھیروں میں امید کے جگنو بھی چمکتے ہیں، یاس وقنوطیت کے دھندلکوں میں آفتاب اسلام آب وتاب کے ساتھ جلوہ دکھاتا ہے،

اعجاز قرآن نکھر تا ہے، طالبانِ ہدایت کی تشنگی دور ہوتی ہے اور انسانوں کی زندگیاں طوفانوں سے نجات پاکر ساحل سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا ایک دشمن اسلام مستشرق کے ساتھ، جس کی زندگی وقف تھی اسلام دشمنی کے لیے، کوئی دقیقہ وہ فروگذاشت نہیں کرتا تھا مسلم دشمنی کے لیے، عیسائیت کا سرگرم مبلغ تھا۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں ریاضیات اور منطق کے استاد ڈاکٹر گیری ملیر بائبل کا گہرا علم رکھتے ہیں، ریاضیات سے خاص دلچسپی ہے، یہی وجہ ہے کہ منطق اور چیزوں کے منطقی نتیجہ سے بھی انھیں لگاؤ ہے؛ ایک روز انھیں خیال ہوا کہ قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے اور اس میں خامیاں تلاش کی جائیں تاکہ مسلمانوں سے جب واسطہ پڑے اور انھیں جب عیسائیت کی طرف راغب کیا جائے تو قرآن کا یہ مطالعہ کام دے سکے اور مسلمانوں سے قرآن کی خامیوں پر گفتگو کی جائے جس سے ان کا اپنے دین پر اعتماد متزلزل ہو جائے اور آسانی سے انھیں شیشہ میں اتار لیا جائے۔
ڈاکٹر ملیر کا خیال تھا کہ قرآن کوئی چودہ سو سال پہلے لکھی جانے والی قدیم سی کتاب ہے جس میں ریگستانوں اور بیابانوں سے متعلق گفتگو ہے اور بس، لیکن جب انھوں نے قرآن کے صفحات کھولے تو دنگ رہ گئے اور انھیں غیر معمولی تعجب ہوا ، بلکہ انھیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس کتاب میں وہ چیزیں پائی جاتی ہیں جو دنیا کی کسی بھی کتاب میں مطلق نہیں پائی جاتیں۔
انھیں یہ امید تھی کہ اس میں رسول اکرم ﷺ پر گزرنے والے بعض سخت حالات اور مصائب خاص طور پر آپ کی بعض ازواج مطہرات اور بنات طاہرات اور اولاد اطہار وغیرہ کی وفات کا ضرورتذکرہ ہوگا، لیکن یہ کیا؟ یہاں تو یہ سب کچھ بھی نہیں!! بلکہ اس کے برعکس قرآن میں سورت ہے تو مریم عذراء کے نام سے! اور وہ بھی مکمل سورت! (نہ حضرت عائشہؓ کے نام سے کوئی سورت ، نہ حضرت فاطمہؓ کے نام سے اور نہ ہی ازواج مطہرات اور اولاد اطہار کے نام سے ، اس کے بجائے حضرت مریم کے نام سے مکمل سورت!! یہ کشادہ دلی اور یہ وسیع النظری!)؛ وہ کہتے ہیں کہ اس چیز نے ان کو حیرت میں ڈال دیا، سورۂ مریم میں جس بہترین پیرایۂ بیان میں حضرت مریم کی عزت افزائی کی گئی ہے وہ بس قرآن ہی کا حصہ ہے، کوئی دوسری کتاب یہاں تک کہ خود عیسائیوں کی بائبل نہ اس کی نظیر پیش کرسکتی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی دوسری کتاب! 
اسی طرح قرآن میں حضرت عیسیٰ ؑ کانام لے کرتذکرہ انھیں ۲۵/ دفعہ نظر آیا جب کہ خود رسول اﷲ ﷺ کا نام گرامی چار سے زائد بار نظر نہیں آیاتو بس ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔
اب وہ قرآن کا اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے لگے کہ شاید انھیں کچھ اور نظر آجائے اور گرفت کا کوئی نہ کوئی موقعہ ہاتھ لگ جائے، مگر جیسے ہی سورۂ نساء کی آیت /۸۲پر نظر پڑی تو بس بھونچکے رہ گئے کہ الٰہی ! یہ کیسی عجیب وغریب آیت ہے جس میں صاف صاف چیلنج کیا گیا ہے کہ قرآن میں کوئی ادنیٰ خامی تلاش کرکے دکھائے، اور اسی بات پر قرآن میں غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے کہ یہی ایک خوبی کافی ہے قرآن کو لاثانی ولافانی بنانے کے لیے؛ فرمایا گیا(أَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَےْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْراً) (کیا پھر وہ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر قرآن اﷲ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو پھر اس میں ضرور انھیں بڑی کمی بیشی نظر آتی)۔
ڈاکٹر ملیر کا کہنا ہے کہ عصر حاضر کا یہ معروف اصول ہے کہ نظریات میں غلطیاں چھانٹنے یا خامی تلاش کرنے کی بات دوسروں سے کہی جائے کہ نظریہ پوری طرح نکھر جائے اور اس میں کوئی جھول نہ رہ جائے، عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم مسلم وغیر مسلم تمام طبقات کو اس تجربۂ تنقیح وتصحیح (Falsification Test) کی دعوت دے رہا ہے کہ وہ قرآن میں اس طرح کا تجربہ چاہیں تو کرکے دیکھیں، طائر خیال اڑ اڑ کر گر جائے گا، وہ تھک ہار جائیں گے مگر کوئی ادنیٰ خامی یا کمی قرآن مجید میں نہیں ملے گی نہیں ملے گی۔
ڈاکٹر ملیر مزید کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مصنف اس بات کی جرأت وہمت نہیں کرسکتا کہ وہ کتاب لکھ کر یہ کہے کہ اس میں کوئی خامی نہیں کوئی جھول نہیں ، وہ غلطیوں سے پاک ہے، مگر قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے ہر کمی بیشی اورخامی سے محفوظ ہے، بلکہ اس کی پیش کش ہے کہ آپ اٹھیں اور تلاش کرکے دیکھیں ہے کوئی غلطی قرآن میں نہ الفاظ میں نہ معانی میں!!ہرگز نہیں ہرگز نہیں!
جن آیتوں پر ڈاکٹر ملیر نے طویل غور وخوض کیا اور جن آیتوں نے انھیں بہت زیادہ متاثر کیاان میں سورۂ انبیاء کی آیت /۳۰ ہے ؛ اﷲ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: (أَوَلَمْ یَرَ الَّذِےْنَ کَفَرُوْا أَنَّ السَّمَاوَاتِ والْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاھُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْیئ حَيٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ) (کیا انکار کرنے والوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین (پہلے) ملے ہوئے تھے تو ہم نے ہی انھیں پھاڑ کر الگ کیااور ہر زندہ چیز ہم نے پانی سے بنائی کیا پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے)۔
یہ آیت ۱۹۷۳ء ؁ میں نوبل انعام کے مستحق قرار دیے جانے والے اس سائنسی مطالعہ کا موضوع ہے،جس میں نظریۂ انفجار (Big Bang Theory) پیش کیا گیا تھاکہ ایک زبردست دھماکے کے نتیجے میں یہ عظیم کائنات (بشمول آسمان وزمین ، کواکب وسیارے) وجود میں آئی؛ ’’رتق‘‘ کی جو بات قرآن میں کہی گئی ہے اس کے معنی ہیں ملنے والی اور قابو میں رہنے والی چیز، اور ’’فتق‘‘ کہتے ہیں بکھیر دینے اور الگ الگ کردینے کو؛ سبحان اﷲ ! کیا بات فرمائی قرآن نے! انسانی علوم وفنون کا کارواں جہاں پر ہزاروں سالوں بعد پہنچا اور دادِ تحقیق دینے لگا، سمندتحقیق جہاں مدتہائے دراز بعد پہنچا قرآن نے بہت پہلے اسی حقیقت سے پردہ اٹھادیا تھا۔
پھر آیت کے دوسرے جزء پر بھی سر دھنتے جائیے ، قرآن نے پانی کو زندگی کے حامل ہر وجود کا سرچشمہ بتایا ہے ؛ ڈاکٹر ملیر اس سلسلہ میں کہتے ہیں کہ یہ بھی عجیب وغریب اور تعجب خیز بات ہے کہ موجودہ علم اور سائنس کو اس حقیقت کا انکشاف ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ انسانی جسم کے زندہ خلیات سیٹو پلازم (Cytoplasm) سے وجود میں آتے ہیں اور یہ خلیات کا ۸۰% بنیادی عنصر ہے ، یہ (سیٹوپلازم)بنیادی طور پر پانی سے وجود میں آتا ہے!
اب آپ ہی بتائیں کہ اگر آسمان سے رابطہ نہ ہو اور وحی کی رہنمائی اور تائید حاصل نہ ہو تو چودہ سو سال قبل کے ایک ’’أُمی‘‘ کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ان حقائق سے پردہ اٹھائے؛ (قُلْ أَنْزَلَہُ الَّذِيْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) (آپ کہہ دیجیے کہ اس قرآن کو اس ذات نے اتارا ہے جس پر آسمان وزمین کے تمام راز آشکار ہیں) (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اﷲِ وَأَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَھَلْ أَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ) (پھر اگر وہ منھ موڑیں تو تم لوگ جان رکھو کہ یہ (قرآن) محض علم الٰہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور یہ کہ اﷲ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، تو کیا اب تم ماننے کے لیے تیار ہو؟)۔
ڈاکٹر ملیر نے اسلام قبول کرلیا ہے اور لیکچرز پیش کرنے کے لیے وہ دنیا کے مختلف ملکوں کا رخ کرنے لگے ہیں، اب ان کا ارادہ ہے کہ ان کی ساری توجہات اور سرگرمیوں کا محور اسلام کی اشاعت اور اعجاز قرآن کی وضاحت ہو۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES