dushwari

قرآن پاک میں تحریف و ترمیم کی جسارت

شام کے صدر بشارالاسدکے ناپاک عزائم ناکام

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

اللہ رب العزت کے کلام مقدس کو جو پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا اور تا قیامِ قیامت تک رہے گاجس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھی ہے۔ اس کلامِ مقدس کو حضور اکرم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد دشمنانِ اسلام بھی سن کر ایمان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز ہوئے اوربعض جاہل دشمنانِ اسلام جنہوں نے کلام مقدس کا مذاق اڑانا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کلام پاک جیسی ایک سورۃ پیش کرنے کا چیالنج کیا تو بعض کم عقلوں نے کلام پاک جیسی سورۃ پیش کرنے کی کوشش کی جس پر خود انکے ساتھی دشمنانِ اسلام نے تمسخر اڑایا اور پھر اللہ کے اس چیالنج کے خلاف کسی میں بھی ہمت نہ ہوسکی کہ وہ اس جیسا کلام پیش کرسکیں۔

آج جبکہ چودہ سو سال کا ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اس طویل عرصہ میں قرآن پاک کے خلاف کئی سازشیں ہوئیں اور جہادسے متعلق جو آیاتِ مبارکہ قرآن پاک میں ہیں اسے کلام اللہ سے نکالنے کی اپیلیں بھی ہوتی رہی اور ہوتی رہیں گی لیکن کسی دشمن اسلام میں اس کی ہمت نہیں ہوسکی کہ وہ قرآن مجید میں ترمیم یا تحریف کریں۔ آج علوی خاندان کا ایک شخص جسے عالمی سطح پر بشارالاسد کے نام سے جانا جاتا ہے جو ملک شام کا صدر ہے۔ شام کی ایک تاریخ رہی ہے ۔ 2011ء میں شام میں بشارالاسد کے خلاف احتجاج شروع ہوا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرگیاجسے شامی انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔ بشارالاسد کی فوج اور شدت پسند تنظیمیوں او ردیگر افراد نے بشارالاسد کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور 2015تک شام میں بشارالاسد کی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی میں مرنے والوں کی تعداد تین لاکھ سے متجاوز کرگئی۔ بشارالاسد کی فوج نے شام میں معصوم بچوں کو تک نہیں بخشا۔ آج بھی شام میں عوام چین و سکون کی زندگی گزارنے سے محروم ہیں انہیں کب موت آدبوچ لیتی ہے اسکا انہیں وہم و گمان بھی نہیں کیونکہ 2011ء کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہنستے کھیلتے معصوم جانوں نے شامی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جنگ کے زد میں آکر موت کی آغوش میں پہنچ گئے۔ بشارالاسد نے اپنی فوج کے ذریعہ عوام پر جتنا ظلم و بربریت ڈھانا تھا ڈھایااور شدت پسندوں نے بھی عام شہریوں کو مسالک کی بنیاد پر ہلاک کیااور کررہے ہیں۔ خبروں کے مطابق بشارالاسد کی فوج جسے حزب اللہ اور ایران کا تعاون حاصل ہے، اسکے خلاف شدت پسند تنظیمیں دولت اسلامیہ ، النصری فرنٹ وغیرہ کے درمیان ہونے والی لڑائیوں میں تین لاکھ سے زائد افراد بشمول معصوم بچے و خواتین ہلاک ہوچکے ہیں، زخمیوں کا کوئی حساب نہیں۔ 6.5ملین افراد بے گھر ہوگئے جن میں چالیس لاکھ افراد ملک شام سے دوسرے ممالک یعنی لبنان، ترکی، عراق، مصر اور اردن کے پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کیمپوں میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق روزمرہ زندگی کے لئے اشیاء ضروریہ کی شدید قلت ہے یہاں تک کہ ادویات بھی ملنا دشوار ہوگیا ہے۔ صدر بشارالاسد ، اقتدار پر براجمان رہنے کے لئے جس طرح ممکن ہوسکتا ہے اپنی فوجوں کے ذریعہ عام شہریوں کی ہلاکت اور بے گھر ہونے والوں کا ذمہ داربنا۔ اتنی بڑی تعداد میں شامی عوام کی ہلاکت کے بعدبشارالاسد نے ایک نئے گھناؤنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہوئے چند اسکالرس کو ایک ایسے مشن کی جانب حکم دیا جس کے بعد اسے مسلمان کہلائے جانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ بشارالاسد نے اپنی توجہ عوام سے ہٹ کر ایک ایسی جانب مبذول کی ہے جس کا وہم وگمان بھی کرنا ایک عام مسلمان کو اسلام سے خارج کرنے کے قریب کردیتا ہے اور کوئی سچا مسلمان اس کی ہمت بھی نہیں کرپاتا۔ مختلف ذرائع کے مطابق بشارالاسد نے اپنے اقتدار کے نشے میں کلام اللہ میں تحریف وترمیم کرنے یا قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر میں اپنے حصول مقصد کے مطابق ردو بدل کرکے ملک شام میں قرآن مجید کے نئے نسخے طبع کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس تحریف و ترمیم شدہ قرآنی (تفسیری )نسخوں کو شامی حکومت کی جانب سے شائع کیا گیا ، اسی نسخے کی رسم اجرائی کی ایک تصویر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ بھی کی جاچکی ہے ، مختلف اخبارات نے اس خبر کی اشاعت عمل میں لاتے ہوئے بشارالاسد کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے اور بعض نے صدربشارالاسد کو بشارالخنزیر لکھتے ہوئے اپنے شدید غصے کا اظہار بھی کیا ہے۔ 18؍ جولائی 2015کے روزنامہ امت کراچی نے اپنی رپورٹ میں شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے من چاہا ’’قرآنی نسخہ ‘‘ تیارکرلینے کی رپورٹ شائع کی ہے اور ان نسخوں کو ملک شام کے تعلیمی و انتظامی اداروں میں تقسیم کرنے کی خبر شائع کی ہے ، اخبارنے لکھا ہے کہ شام میں تمام مکاتب فکر کے علماء ،کلام الٰہی میں تحریف و ترمیم کو مسترد کردیا ہے اور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد سے سوشل میڈیا کے ذریعہ شائع رپورٹ میں الجزیرہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شامی ڈکٹیٹر بشارالاسد نے ملک میں امن لانے کیلئے پائیدار منصوبہ بندی محکمہ اوقاف کو نیا قرآن(جسے ہم قرآن نہیں مان سکتے) لکھنے کاحکم دیا ہے، الجزیررپورٹ کے مطابق بشار الاسد کا کہنا ہے کہ قرآن میں سے (نعود باللہ) گمراہ کن الفا ظ اور آیات نکا ل دئے جائیں گے تاکہ لوگ اس کو پڑھ کر گمراہ نہ ہوجائیں اور اپنے ملک میں امن ومحبت سے رہیں، محکمہ اوقاف کے سربراہ عبدالستار السعید نے تصدیق کی ہے کہ وقت آن پہنچا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور تمام عرب ممالک میں اس نئی کتاب کو نافذ کیا جائے جس میں قرآن کا صحیح ترجمہ ہو اور لوگوں کو متشدد ذہنیت سے نکال کر امن و آشتی کا سامان فراہم کیا جائے۔ اس خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں یہ نئی کتاب تیار ہوجائے گی ، پھر اس کو حکومتی سطح پر پرنٹ کرکے شام میں تقسیم کردیا جائے گا، اس کے علاوہ ہر دینی کتب ممنوع قرار دے دی جائیں گی اور اس کا آڈیو ویژن بھی جلد منظر عام پر آجائے گا۔ کراچی کے اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق شامی علماء کی شدید برہمی اور ردّعمل کے بعد بشاراالاسد حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ’’نیا قرآنی ورژن‘‘ جلد ہی مصر کی جامعہ ازہر کو بھجوایا جائے گا تاکہ اسے رائج کرانے کی منظوری حاصل کی جاسکے۔ اس نسخہ کے تعلق سے شامی صدر کا دعویٰ ہے کہ نیا ’’قرآنی نسخہ‘‘ اس کے علماء نے پانچ برس کی محنت کے بعد تیار کیا ہے ور اس کی 27مرتبہ تدوین و تصیح (معاذ اللہ) کی گئی ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ جدید نسخے سے بنیاد پرستی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب سنی اور شیعہ علماء سمیت تمام مکاتب فکر کے شامی علمائے کرام نے بشارالاسد کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی ایجنڈہ قرار دیا ہے۔ شامی علماء کے مطابق بشارالاسد اپنی حکومت بچانے کی خاطر کلام الٰہی میں تحریف و ترمیم کی جسارت کی ہے۔شامی صدر کے منصوبہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور کس کے اشارہ پر اتنی بڑی جسارت کی گئی ہے یہ الگ بحث ہے یہاں عالم اسلام اور بین الاقوامی سطح پر بشارالاسد کے خلاف شدید ردّعمل کا اظہار ہونا چاہیے کیونکہ آج ایک بشارالاسد کلام الٰہی میں تحریف و ترمیم کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کررہا ہے تو اسے ابھی سے ہی روکنا چاہیے ورنہ یہ کتاب منظر عام پرآنے کے بعد دشمنانِ اسلام اس کے ذریعہ مزید سازشیں کریں گے۔شامی صدر نے گذشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں اپنی ناکامی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہیکہ ملک میں فوج کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بعض علاقے شدت پسندوں کے حوالے ہوگئے، اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی صدر اپنی ناکامی کو تسلیم کرلیا ہے ۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک چاہتے ہیں کہ شام سے بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے، لیکن امریکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خاتمہ کے لئے اس پر حملے کررہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات گذشتہ چند ماہ سے خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر بشارالاسد کی جانب سے واقعی قرآن مجید میں تحریف و ترمیم کی گئی ہے تو اس کی سزا اسے ضرور ملے گی۔ ویسے ابھی تک یہ قرآنی نسخے جس میں ردو بدل کیا گیا ہے منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ مولانا شمس تبریز قاسمی نے اپنے ایک مضمون میں بتایا ہے کہ: ’’ بشار الاسد کی طرف سے جاری کئے گئے اس قرآنی نسخہ میں کیا ہے کس طرح کا مواد ہے ، قرآن کریم سے بھی کچھ لیا گیا ہے یا یہ مکمل طور پر ان علماء کا کلام ہے جنہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی بسیا تلاش و جستجو کے باوجود بھی مجھے اس سلسلہ میں کوئی تفصیل نہیں مل سکی ہے ۔ البتہ صرف سورہ اخلاص کی تفصیل بعض عربی اخبارات میں ملی ہے جس میں انہوں نے تحریف کی ہے۔ اللہ کی وحدانیت کی دلیل پر سب سے ممتاز اور منفرد سورت میں انہوں نے تحریف کرکے اسے اپنے نام سے منسوب کرکے اس کا نام سورۃ الاسد رکھا ہے اور تحریف کچھ یوں کی گئی ہے۔ پہلے آپ سورۃ احد کی تلاوت کرلیں پھر بشار الاسد کی کتاب میں اس سورت کو دیکھیں۔ ’’قل ہو اللہ احد، اللہ الصمد لم یخلق مثل حافظ الاسد یحکم سورےۃ البلد ، الابشار الاسد‘‘ العیاذ باللہ تحریف ا یہ ایک نمونہ ہے نہ جانے بقیہ کا کیا حال ہے‘‘۔ بشارالاسد کے منصوبے تو کامیاب نہیں ہوپائیں گے البتہ عالم اسلام کو چاہئیے کہ وہ کلام الٰہی میں تحریف و ترمیم یا ترجمہ اور تفاسیر کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ردو بدل کرکے شائع کرتے ہیں اس سے امت مسلمہ کو آگاہ کریں تاکہ امتِ مسلمہ اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں سے بچے رہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES