dushwari

ساری کائنات پر بھاری کلمات (قسط نمبر؂۴ )

فکروخبر اداراتی مضمون

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ اس دنیا کی وہ تمام چیزیں جن پر سورج کی روشنی اور اس کی شعاعیں پڑتی ہیں ‘ان سب چیزوں کے مقابلے میں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ سبحان اللہ والحمدللہ و لاالہ الااللہ واللہ اکبر کہوں۔مسلم(۶۸۸۴)[ف]اوپر جن کلمات کا ذکر ہوا ہے اس کو عام فہم اصطلاح میں کلمہ تمجید سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی فضیلت پر بے شمار احادیث دلالت کرتی ہیں جیسے کہ مسلم شریف ہی میں روایت موجود ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’تمام کلموں میں افضل یہ چار کلمے ہیں :سبحان اللہ اور الحمداللہ اور لاالہ الا اللہ اوراللہ اکبر‘ ۔

اسی طرح حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے اپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کمائے .حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا کہ کیسے آدمی ایک ہزار نیکیاں کماسکتا ہے .اپ ﷺ نے فرمایا ایک سو مرتبہ سبحان اللہ کہے تو اس کیلئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہے اور اس کی ایک ہزار غلطیاں معاف کی جاتی ہے (مسلم ۶۸۸۹) 
[ف۔۲] حدیث بالا میں رسولﷺ نے جو کلمات ذکر تلقین فرمائے ہیں معنوی لحاظ سے اس کی چار قسمیں ہیں (۱) یہ کہ اللہ ہر اس بات سے منزہ اور پاک ہے جس میں عیب و نقص کا شائبہ بھی ہو سبحان اللہ کا یہی مفہوم اور مدعا ہے (۲) الحمداللہ ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ساری خوبیاں ‘حمد وثناء اور تمام کمالی صفات صرف خداو ندقدوس ہی کو سزاوار ہے (۳) لاالہٰ الاّ اللہ۔ اس میں اللہ کی توحیداور اس کی شانِ یکتائی کا بیان ہے (۴)اللہ اکبر۔اس میں اللہ کی اس شان عالی کا اظہار ہے کہ ہم نے اس کے بارے میں منفی اور مثبت طور پر جو کچھ جانا اور سمجھاہے اللہ اس سے بھی بلند و بالااور وراء الوراء ہے۔ان کلمات کے اجمالی مفہوم سے اس کا اندازہ کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ یہ نہایت مختصر اور ہلکے پھلکے چارکلمے اللہ تعالی کی تمام مثبت و منفی صفات کمال پر کس قدر حاوی ہیں .اسی لئے بعض عرفاء کاملین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی کے تمام اسماء حسنی جو اس کی تمام صفات کمال کی ترجمانی کرتے ہیں ان میں سے کسی کا مفہوم بھی ان چار کلموں سے باہر نہیں ہے . اسلئے یہ چار کلمے اپنی قدر وقیمت اور عظمت وبرکت کے لحاظ سے بلاشبہ اس ساری کائنات کے مقابلے میں فائق ہیں جس پر سورج کی روشنی یا اس کی شعا عیں پڑتی ہے (معارف الحدیث ۵؍۴۴) 

کئی سارے خیر کا مجموعہاورافضل عمل

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا ۔جس نے سو دفعہ کہا لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیےٍ قدیر[نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے وہ اکیلا ہے ‘کوئی اس کا شریک سا جھی نہیں ‘فرمانروائی اسی کی ہے اور اسی کیلئے ہر قسم کی ستائش ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے]تو وہ دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب کا مستحق ہوگا اور اس کیلئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو غلط کاریاں محو کردی جائیں گی ‘اور یہ عمل اس کیلئے اس دن شام تک شیطان کے حملہ سے حفاظت کا ذریعہ ہوگا ‘اور کسی آدمی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہوگا سوائے اس آدمی کے جس نے اس سے بھی زیاد ہ عمل کیاہو۔بخاری(۶۴۰۳)مسلم(۶۸۸۰)
(ف۔۱)حدیث بالامیں جو کلمات ذکر ارشاد فرمائے گئے ہیں اس کو کلمۂ توحید سے تعبیر کیا جاتاہے. پہلی بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایک سو دفعہ سے زیادہ پڑھے تو اس کے اجر میں اور اضافہ ہوگا اور شارح علیہ السلام کا مقصد یہاں پر کسی عدد کو محدود کرنا نہیں ہے جیسا کہ نما ز کی رکعت اورطہارت کی عدد کے سلسلے میں شریعت نے محدودکیا ہے بلکہ یہاں تو ذکر میں زیادتی ہی مطلوب ہے دوسرے اس کا بھی احتمال ہے کہ مطلق خیر کے اعمال میں زیادتی مطلوب ہے چاہے ذکر ہو یا دوسری عبادات ہو اور بہتر یہیں ہے کہ دن کے شروع میں اس کو پڑھا جائے تاکہ پورے دن اس کی برکت باقی رہے
(ف۔۲)غور کرنے کی بات ہے کہ لاالہ الااللہ کہنے پر گناہ کے معاف کرنے کا وعدہ متعین سوکی عددکا کیا گیا ہے جبکہ سبحان اللہ کہنے فرمایا گیا کہ[ حطت خطایاہ وان کانت مثل زبد البحر ]اس کے گناہ معاف کئے جائینگے چا ہے سمندر کے جاگوں کے برابر ہو اور جبکہ دوسری طرف لاالہ الا اللہ کے بارے میں شارح علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ کسی آدمی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہوگا .اس سلسلے میں قاضی عیاض ؑ رقمطراز ہے کہ آفضل عمل تو تھلیل(لا الہ الا اللہ) ہی ہے اسلئے کہ تھلیل کی فضیلت اس سے بڑھی ہوئی ہے اولاّ نیکی میں اضافہ‘ گناہوں کی معافی ‘ غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب اور شیطان سے بھی حفاظت کی جاتی ہے اوراگر کوئی شخص ایک غلام کو آزادکرتاہے تو اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے جھنم سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں جب ایک غلام کے آزاد کرنے سے مغفرت کا پروانہ مل ہی جاتا ہے تو پھر بقیہ اس کے اگے درجات کی بلندی ہے . دوسرے یہ کہ دوسری حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا کہ افضل الذکر لاالہ الا اللہ دوسری جگہ فرمایاگیا کہ سب سے افضل بات جس کو میں نے اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا اور وہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے ۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES