dushwari

:دو مختصر کلمےزبان پر ہلکے ،میزانِ عمل میں بھاریقسط نمبر (۳)

(فکروخبر تحقیقی مضمون )

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا :دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے پھلکے، میزان اعمال میں بڑے بھاری اور خداوندِمہربان کو بہت پیارے (سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم)۔ بخاری(۶۴۰۶) مسلم (۶۸۸۳)(ف۔۱)قیامت کے دن جس چیز کا وزن ہوگا وہ اللہ کے نام کا وزن ،کلمات ذکر کا وزن ،تلاوت قرآن کا وزن،اور نماز و نیک اعمال کے وزن ہونگے ، اس وقت یہ بات کھل کر عیاں ہوگی کہ ان چھوٹے اور زبان پر ہلکے پھلکے کلمات کی کیا قدروقیمت اور اللہ کے نزدیک اس کا کیا مقام ہے ۔اسی لئے ایک دوسری حدیث میں حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ لا یزن مع اسم اللہ شیے کہ اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھی بھاری اوروزنی نہ ہوگی 


حدیث بالا کے ان دو کلمات میں سے پہلے کلمے کی فضیلت پر مستقل کالم پیش کیا جاچکا ہے اسی طرح مسلم شریف میں موجود ہے کہ حضورﷺ سے سوال کیا گیا کہ کونسا کلام افضل ہے اپﷺنے فرمایا وہ کلام جو اللہ نے اپنے ملائکہ کیلئے منتخب فرمایایعنی’’ سبحان اللہ وبحمدہ ‘‘ایک دوسری حدیث میں حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے صبح اور شام کے وقت سبحان اللہ و بحمدہ کو سو مرتبہ پڑھا تو قیامت کے دن کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس سے افضل چیزلایا ہو سوائے اس کے جس نے اس کے بقدر کہا ہو یا اس سے زائد کہاہو۔مسلم[۶۸۸۱]

فرشتوں سے آمین کی موافقت

رب کریم کا پروانہ مغفرت 

حضرت ابوہریرہؓ حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادشاد فرمایا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو اسلئے کہ ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں بس جس کی آمین کی موافقت ملائکہ کی آمین سے ہوجائیگی اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہوجائینگے۔بخاری[۶۴۰۲]
(ف۔۱) جب امام جھری نمازوں میں سورۃفاتحہ سے فارغ ہوتا ہے اس وقت امام ومقتدی دونوں کو آمین کہنا مستحب ہے حدیث بالا میں اس کی اتنی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے کہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں بس جس کی آمین کی موافقت ملائکہ کے آمین کہنے سے ہوجائے خداوند قدوس اس کے اگلے تمام گناہ معاف فرماتے ہیں .بلکہ احتمال اس کا بھی ہے کہ اس سے مراد صرف امام نہ ہو بلکہ جو بھی سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے اور اس پر آمین کہا جائے وہ اس فضیلت میں شامل ہے ۔
(ف۔۲) أمین کی فضیلت دوسری اور حدیثوں سے میں بھی ملتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکی مرفوع روایت ابن ماجہ میں ہے کہ یہود نے اتنا تم پر کبھی حسد نہیں کیا جتنا کہ سلام اور آمین پر کیا ہے .مزید حضرت ابن عباسؓ کی روایت میںیہ الفاظ مذکور ہے کہ( فاکثرومن قول أمین) کہ تم آمین کازیادہ ورد کیا کرو۔ دوسری روایت حاکم نے حضرت حبیب بن مسلمہ الفھری سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسولﷺکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ چندلوگ جمع ہو کر دعا کرتے ہے جس میں سے بعض لوگ دعا کرے اوربعض اس دعا پر آمین کہے تواللہ تعالی ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے .اسی طرح ابو داؤد میں حضرت ابو زھیر النمیری سے روایت منقول ہے کہ حضورﷺایک آدمی کے پاس کھڑے ہوئے جو بہت آہ وزاری سے دعا کررہاتھا اپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ختم کرلے تو واجب ہوجائیگی لوگوں نے پوچھا کس چیز پر ؟ ارشاد فرمایا کہ آمین پر ۔راوی حضرت ابو زھیر فرمایا کرتے تھے کہ دعا میں آمین کی مثال جیسے کسی صفحے کے آخیر میں مہر کے مانند ہے

( عبدا لنور فکردے ندوی ؔ )

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES