dushwari

ذکر کی فضیلت(قسط نمبر ..۱)

(فکروخبر:اداراتی تحقیقی مضمون )

معیت خداوندی حاصل کرنے کا طریقہ

حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ’’ جس وقت بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہے تو اس وقت میں اپنے اس بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں ‘‘۔ رواہ البخاری 
ف : دنیا میں اگر کسی شخص کو کسی بڑے آدمی کی معیت نصیب ہوجائے تو وہ اس کواپنے لئے بڑے فخر کی بات محسوس کرتا ہے لیکن احکم الحاکمین خالق دو جہاں کی معیت اس کا ساتھ اس کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ کی ایک معیت اس کائنات کی ہر اچھی یا بری چیز کو حاصل ہے لیکن ایک دوسری معیت رضا اور اس کی طرف سے قبولیت کی معیت ہے مذکورہ حدیث قدسی میں اسی کا ذکر ہے ۔
حدیث قدسی کا مطلب جس حدیث میں حضورﷺ یہ ارشادفرمائے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
ظاھر سی بات ہے کہ اس حدیث کا مقام بقیہ احادیث سے بڑا ہوا ہے۔


پتھر بھی جس کو سلام کرے ﷺ

حضرت جابر بن سمرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس پتھر کو جانتا ہوں جو مکے میں مجھے بعثت سے پہلے سلام کیا کر تا تھا اب بھی میں اس کو جانتا ہوں۔ رواہ البخاری
حدیث اس بات پر شاہد ہے کہ اس کائنات میں اللہ نے بعض جمادات کوبھی ان کے حساب سے احساس وشعور اور تمیز کی دولت سے نوازا ہے جیسے کہ پتھر کا حضرت موسی ؑ کے کپڑے کو لے کر بھاگ جانا .زہر آلود بازو کے گوشت کا گفتگو کرنا اورحضورﷺ کے بلانے پر ایک درخت کا دوسرے درخت کی طرف چل کر جانا وغیرہ یہ تمام واقعات اس پر شاہد ہے
دوسرے یہ کہ سلام ہو اس نبی رحمت پر کہ جمادات بھی جس کی قدرومنزلت کو پہچانے واقعی اس مالک کا کتنا احسان ہے کہ اس نے ہم کو اس کی امت میں پیدا فرمایا ۔سلام ہو ان پر اور ان کے تمام آل و اولادپر اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا محمد۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES