dushwari

ذکر ودعا کی فضیلت اور صحابہ کے مناقب

اداراتی تحقیقی مضمون

چھٹی صدی عیسوی میں حضور ﷺکی آمد سے انسانیت اپنے حقیقی مقام سے آشنا ہوئی.آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا ہر گوشہ اور ہر شعبہ اھل نظر کیلئے اپﷺ کی نبوت ورسالت کی روشن دلیل ہے لیکن جس خاص شعبہ کو امتیاز حاصل ہے وہ اللہ کی معرفت ،اس کی محبت وخشیت ،اخبات وانابت اور اس کی رحمت وجلال کا دائمی استحضار اور ذکر یا دعا کی شکل میں اس کے ساتھ ہمہ وقتی تعلق و وابستگی ہے جس کا اندازہ مختلف احوال واوقات میں اپﷺ کی دعاؤں سے ہوتا ہے .بلاشبہ دعا و ذکر اللہ کی طرف سے وہ خاص عطیہ ہے جس کی اھمیت و حقیقت کو بیان کرنے کیلئے ہمارے امت کے علماء نے ہزاروں صفحات سیاہ کئے بقول حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کہ خاتم النبین کی نبوت کے اعجاز اور کارنامے کو دوشعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے

(۱) عبد ومعبود کے رشتہ کی تصحیح و تنطیم(۲) عبد ومعبود کے رشتہ کا استحکام ودوام ۔اور عبد ومعبود کے رشتہ کے اس استحکام ودوام کیلئے نبوت محمدی اور تعلیمات نبوی نے جو ذرائع اختیار کئے ان کے دو عنوان ہیں (۱)ذکر(۲)دعا( تفصیل کیلئے ملاحظہ کرے معارف الحدیث کا مقدمہ) 
درحقیت ذکر اپنے معنی کے لحاظ سے نماز ،تلاوت قرآن اور دعا و استغفار وغیرہ سب کو شامل ہے لیکن مخصوص عرف و اصطلاح میں اللہ کی تسبیح وتقدیس اور اس کی صفات کمال کے بیان ودھیان کو ذکر اللہ کہا جاتاہے .اس سے ایک طرف بندے کو اپنے مالک حقیقی سے تعلق قائم ہوجاتاہے تو دوسری طرف اس کے نامے اعمال میں بے حساب نیکیوں کے اضافہ کے ساتھ اللہ کی نصرت غیبی شامل حال ہوجاتی ہیں اللہ کے نزدیک اس کا ذکر بڑا محبوب عمل ہے اسلئے قرآن و حدیث میں اس کے بیشمار فوائد وارد ہوئے ہیں کہیں فرمایا گیا کہ ’یاایھاالذین أمنو ا اذکروااللہ ذکراًکثیرًاوّسبحوہ بکرۃًواصیلاً ‘ (الاحزاب ۵)کہ اے ایمان والو !اللہ کو بہت یاد کیا کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرو. بعض آیات میں حق تعالی کی طرف سے اہل ذکر کی تعریف کی گئی بتایا گیا کہ ذکر کے صلہ میں ان کے ساتھ رحمت و مغفرت کا خاص معاملہ کیا جائیگااور ان کو اجر عظیم سے نوازا جائیگا.اور جو لوگ دنیا کی لذتوں میں منھمک ہوکر اللہ کی یاد سے غافل ہو جایئگے وہ ناکام ہونگے بلکہ ایک آیت میں اللہ کے ذکر کو ہر چیز کے مقابلہ میں فوقیت دی گئی ہے . ذکر جو کہ بے حد آسان عمل ہے لیکن اللہ سے رشتہ کو مضبوط کرنے کیلئے اور نیکیوں کے ڈھیر جمع کرنے میں بے حس ممدومعاون ہے .مزید ذکر کے فضائل کے سلسلے میں ائندہ انشاء اللہ سلسلہ وار کالم پیش کیا جائیگا ۔


دوسرے یہ کہ خداوند قدوس کے فضل اور حضور ﷺ کی توجہ و تربیت سے آپﷺ کے ساتھیوں کی ایسی جماعت تیار ہوئی جس کی نظیر زمین اور آسمان کی آنکھوں نے نہیں دیکھا تھابلکہ بقول حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے اللہ نے حضور ﷺکی بعثت کے ساتھ آپﷺ کے صحابہ کو بھی مبعوث فرمایا جو انبیاء کے بعد انسانیت میں سب سے افضل لوگ ہیں .ان پاکیزہ روحوں کے متعلق حضورﷺ سے جو ارشادات منقول ہے اس کا ذکر حدیث کی کتابوں میں کتاب المناقب و الفضائل سے کیا جاتا ہے جس میں آپ نے بعض افراد و اشخاص کے وہ مناقب و فضائل بیان فرمائے ہیں جو اللہ نے آپﷺ پر منکشف فرمائے تھے ان احادیث میں امت کیلئے ھدایت کا بڑا سامان ہے اس سلسلے میں سب سے پہلے سیدنا حضرت محمد ﷺ کے فضائل اور مقامات عالیہ کو بیان کرنا سعادت و برکت ہے جن کو آپﷺ نے تحدیث نعمت کے طور پر یا امت کو صحیح واقفیت کرانے کیلئے بیان فرمایا تھا ۔

ان دو نوں ابواب کی احادیث کی اھمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ کے فضل واحسان سے اور اسی کی مدد کے بھروسے پر آئندہ سے ان دونوں مضمون کے متعلق پہلے صحاح ستہ کی پھر دوسرے احادیث کے اھم کتابوں کے ذخیرے سے بفضل خداوندی ترتیب سے حدیث کا ترجمہ اور اس کی فضیلت بیان کی جائے گی ۔

قارئین سے درخواست ہے کہ اس کا مطالعہ صرف علم کیلئے ہرگز نہ کیا جائے بلکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنے ایمانی تعلق کو تازہ کرنے اور عمل کیلئے ھدایت حاصل کرنے کی نیت سے کیا جائے نیز مطالعہ کے وقت رسولﷺ کی محبت وعظمت کو دل میں ضرور بیدار کیا جائے دعا ہے کہ اللہ تعالی اخلاص و استقامت کی دولت سے سرفراز فرمائے ۔ 

(تحقیق کردہ منجانب فکروخبر اسٹاف :عبدالنور فکردے ندوی) 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES