dushwari

تسبیح فاطمی:دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے کا بہترین نسخہ

فکروخبر تحقیقی مضمون( قسط ۷؂ )

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے چکیّ پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں کے نشانات کی شکایت کی .چنانچہ وہ خادم کی طلب میں حضورﷺکے پاس تشریف لائی وہاں پر انھوں نے حضور ﷺکو نہیں پایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے آنے کا مقصد بیان کیاجب حضورﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے اسکاذکر حضورﷺسے کیاراوی حدیث( حضرت علیؓ )کا بیان ہے کہ آپﷺ اس وقت تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ گئے تھے میں کھڑا ہونے کیلئے اٹھا تو آپﷺ نے فرمایا اپنی جگہوں پر رہو پھر آپﷺہمارے درمیان شریف فرما ہوئے یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کے قدموں کی ٹھندک کو میرے سینے پر محسوس کیا آپﷺنے ارشاد فرمایا کیا میں تم دونوں کو خادم سے بہترچیزنہ بتلاؤں؟جب تم دونوں اپنے بستروں پر آؤں تو ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر ،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳مرتبہ الحمدللہ کہوں یہ تمھارے لئے خادم سے بھی زیادہ بہتر ہے۔بخاری[۶۳۱۸]

[ف۔۱]روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ چونکہ گھر کے تمام کام کاچ خود کیا کرتی تھی اسلئے ان کے بدن پر نشانات پڑگئے تھے تو کسی نے ان سے کہا کہ حضورﷺ کے پاس چند غلام آئے ہوئے ہیں تم جاکر حضورﷺ سے اپنے لئے بھی مطالبہ کرو حضرت فاطمہؓ حضورﷺکے پاس تشریف لائی آپﷺ گھر پر موجود نہیں تھے بعد میں جب پتہ چلا تو آپﷺخود اپنی چہتی بیٹی کے گھر تشریف لائے اور خادم کے بجائے ذکر کی تلقین کی اسی لئے اس کو تسبیح فاطمی کہا جاتا ہے .جو آدمی رات کے وقت اس کو پڑھتا ہے اللہ دن بھر کی تمام تھکاوٹوں سے اس کو نجات دیتے ہیں اور آدمی سکون کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلاجاتا ہے .حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے پھر میں نے کبھی اس کو نہیں چھوڑا کسی نے پوچھا کہ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا ؟ فرمایا کہ اس وقت بھی نہیں چھوڑا. ایک دوسری روایت( جس کے راوی علی بن اعبد ہے) میں ہے کہ جنگ صفین میں رات کے آخیری حصیّ میں یاد آیا پھر میں نے پڑھا .ایک دوسری روایت میں اس ذکر کے ساتھ مزید اس دعا کابھی ذکر ملتا ہے اللّھم رب السماوات السبع ورب العرش العظیم ،ربنا ورب کل شےئٍ،منزل التوراۃوالانجیل والزبور والفرقان ،أعوذبک من شرکل ذی شر،ومن کل شر کل دابّۃ أنت آخذ بناصیتھاأنت الأول فلیس قبلک شےئ ،وأنت الآخر فلیس بعدک شےء،وأنت الظاھر فلیس فوقک شےئ ،وأنت الباطن فلیس دونک شےئ ، اقضِ عنی الدین و اغننی من الفقر۔رواہ مسلم والترمذی
[ف۔۲] حدیث سے اس کا بھی سبق ملتا ہے کہ حضورﷺ نے اپنی چہتی بیٹی کیلئے ذکر کو پسندکیا جسکا ثواب ہمیشہ باقی رہنے والاہے آپﷺ نے ہمیشہ خود کو اور اپنے گھر والوں بھوکا رکھ کر اھل صفہ والوں کو ترجیع دی .علاوہ ازیں حضورﷺ کا اپنی بیٹی اور داماد سے محبت وشفقت اور بے تکلّفی کا معاملہ بھی عیاں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت کس قدر واضح ہے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES