dushwari

اجر عظیم کے کلمات: قسط نمبر ۶؂

فکروخبر تحقیقی مضمون

ام المؤمنین حضرت جویریہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺایک دن نماز فجر پڑھنے کے بعد ان کے پاس سے باہر نکلے وہ اس وقت اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھیں . پھر آپ ﷺ دیر کے بعد جب چاشت کا وقت ہوچکا تھا واپس تشریف لائے .حضرت جویریہؓ اسی طرح بیٹھی اپنے وظیفہ میں مشغول تھیں .آپ نے ان سے فرمایا،میں جب سے تمھارے پاس سے گیا ہوں کیا تم اس وقت سے برابر اسی حال میں اور اسی طرح پڑھ رہی ہو ؟ انھوں نے عرض کیا ،جی ہاں آپ نے فرمایا۔ تمھارے پاس سے جانے کے بعد میں نے چار کلمے تین دفعہ کہے اگر وہ تمھارے اس پورے وظیفے کے ساتھ تولے جائیں جو تم نے آج صبح سے پڑھاہے تو ان کا وزن بڑھ جائے گا وہ کلمے یہ ہیں

[سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ وزنۃ عر شہ ورضیٰ نفسہ ومداد کلماتہ. ترجمہ( اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد اس کی ساری مخلوقات کی تعداد کے برابر اور اس کے عرش عظیم کے وزن کے برابر اور اس کی ذات پاک کی رضا کے مطابق اور اس کے کلموں کی مقدار کے مطابق) ۔مسلم(۲۷۲۶)
[ف۔۱]اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک طریقہ کثرت ذکر ہے اسی طرح ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ایسے الفاظ شامل کردئیے جائیں جو کثرت تعداد پر دلالت کرتے ہو جیسے حدیث بالا میں پہلے مخلوقات کی عدد کا ذکر کیا گیا پھر اس سے بڑھ کر عرش کے وزن کے بقدر اور پھر لا محدود اللہ کے کلمے کے بقدر عدد کا ذکر ہے اسی مضمون کی ایک روایت ترمذی اور ابوداؤد میں بھی موجود ہے . اگر کوئی روزانہ صبح وشام کے اذکار میں اس ذکر کا معمول رکھے تو پتہ نہیں وہ اپنے نامۂ اعمال میں کتنا اضافہ کریگا ۔
[ف۔۲]حضرت شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا مقصد اپنے باطن اور اپنی زندگی ذکر کے رنگ میں رنگنا ہوتو وہ ذکر کی کثرت کرے اور کثرت ذکر نہ کرسکتا ہویا جس کا مقصد صرف ثواب اخروی حاصل کرنا ہو تو اس کو ایسے کلمات ذکر کا انتخاب کرناچائیے جو معنوی لحاظ سے زیادہ فائق ہو جیسا کہ حدیث بالا میں گذرا ۔
[ ف۔۳]حدیث سے اس امر کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں تسبیح کا رواج تو نہیں تھا لیکن بعض حضرات اس مقصد کیلئے گٹھلیاں یا سنگریزے استعمال کرتے تھے اور رسولﷺ نے ان کو اس سے منع نہیں فرمایا ظاہر ہے کہ اس میں اور تسبیح کے دانوں کے ذریعہ شمار میں کوئی فرق نہیں . بلکہ تسبیح دراصل اسی کی ترقی یافتہ اور سہل شکل ہے۔جن حضرات نے تسبیح کو بدعت قراردیاہے بلاشبہ انھوں نے شدّت اور غلوسے کام لیاہے۔[معارف الحدیث ۵؍۵۱۔۵۲] 
فرشتوں کی دعا حاصل کرنے کا بہترین نسخہ
دوسروں کیلئے غائبانہ دعا 
حضرت ابوالدرداءؓ سے روایت ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایاکہ کوئی بھی مسلمان بندہ اپنے بھائی کیلئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتاہے کہ تمھارے لئے بھی وہی ملے ۔
[مسلم۶۹۶۳] 
[ف۔۱] اس کے علاوہ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ مسلمان کی دعا اپنے (مسلمان) بھائی کیلئے اس کے پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے. اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر رہتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کیلئے کسی بھلائی کی دعا کرتاہے تو مقرر فرشتہ کہتاہے کہ آمین اور تمھارے لئے بھی وہی ملے .ان روایتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جو دوسرے مسلمان کیلئے بھلائی کی دعا کریگا تو وہ دعا انشاء اللہ دونوں کے حق میں ضرور قبول کی جائیگی .اگر کوئی کسی مخصوص جماعت کیلئے کرے تب بھی اس کے حق میں ان شاء اللہ ضرور قبول کی جائیگی اسی لئے ہمارے بعض اسلاف کا یہ معمول تھا کہ جب ان کو اپنے حق میں دعا کرنا ہوتا تو وہ وہی دعا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے بھی کرتے تاکہ وہ دعا تمام کے حق میں قبولیت کا باعث بنے ۔ 
( از: عبدالنور فکردے ندویؔ ) 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES