dushwari

جنت کا خزانہ

عرش کے نیچے سے اترا ہوا کلمہ ...قسط ؂۵

فکروخبر اداراتی مضمون

حضرت ابو موسی اشعریؓ روایت ہے کہ رسولﷺنے مجھ سے ایک دن فرمایا کہ میں تمیں وہ کلمہ بتاوں جو جنت کے خزانواں میں سے ہے ؟میں نے عرض کیا کہ :ہاں ضرور بتاہیں آپﷺ نے فرمایا :وہ ہے لاحول ولاقوۃ الاّباللہ.بخاری(۶۴۰۹) مسلم(۶۹۰۴)
[ف۔۱]ترمذی شریف میں حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ :لاحول ولاقوۃالاباللہ زیادہ پڑھا کرو کیونکہ یہ خزائن جنت میں سے ہے.اور علامہ بیہقی ؒ نے الدعوات الکبیر میں حضرت ابوھریرہؓ سے ہی روایت کیاہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو وہ کلمہ بتاؤں جو عرش کے نیچے سے اترا ہے اور خزانۂ جنت میں سے ہے وہ لاحول ولاقوۃالاّبا للہ (جب بندہ دل سے یہ کلمہ پڑھتاہے تو)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:یہ بندہ اپنی (انانیت سے دستبردار ہوکر )میرا تابعددار اور فرمانبردارہوگیا

(ف۔۲) لاحول ولا قوۃ کا مطلب یہ ہے کسی کا م کیلئے سعی وحرکت اور اس کے کرنے کی قوت و طاقت بس اللہ ہی سے مل سکتی ہے دوسرا مطلب جو اس کے قریب ہی ہے یہ بھی بیان کیا گیا ہے : گناہ سے بازآنا اور طاعت کا بجالانا اللہ کی تو فیق ومدد کے بغیر بندے سے ممکن نہیں .حدیث میں اس کے بارے میں جو کنز فرمایا گیا ہے کہ اس سے مراد آخرت میں اس کا خزانہ جمع رھے گا اور یہ اس سے فائدہ اٹھاسکے گااس کے علاوہ بھی علماء نے اس کے بے شمار فائدے تحریر فرمائے ہیں۔ 

نبی معصومﷺ کا استغفار ..ہمارے لئے سبق

حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے ارشاد فر مایا :خداکی قسم میں دن میں ستر؍۷۰ دفعہ سے زیادہ اللہ کے حضور میں توبہ اور استغفار کرتا ہوں ۔بخاری(۶۳۰۷)
[ف۔۱]دعا و ذکر ہی کی ایک خاص قسم استغفا ر ہے یعنی اللہ سے اپنے گناہوں اور قصوروں کی معافی مانگنا اور توبہ گویا اس کے لوازم میں سے ہے بلکہ یہ دونوں ہی آپس میں لازم وملزوم ہیں ۔یقینااستغفاراللہ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے ایک قیمتی تحفہ اور سنہرا موقع ہے .سورہ نوح میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ فقلت استغفرواربّکم انہ کان غفاراًیہ آیت اور بعد والی آیتوں کی روشنی میں اکثر علماء نے استدلال کیا ہے کہ گناہوں سے توبہ واستغفار کرنے سے اللہ بارش حسب موقع برسادیتے ہیں قحط پڑنے نہیں دیتے اور مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے اس کے علاوہ دنیا کی بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں .حضرت حسن بصری ؒ کے متعلق مروی ہے کہ ان سے آکر کسی نے قحط سالی کی شکایت کی تو انہو ں نے اسے استغفارکی تلقین کی.کسی دوسرے شخص نے فقروفاقہ کی شکایت کی اسے بھی انھوں نے یہی نسخہ بتلایا ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا اسے بھی فرمایا کہ،استغفارکر ۔ایک شخص نے کہا ، میرے گھر اولاد نہیں ہوتی اسے بھی کہا اپنے رب سے استغفار کر ۔کسی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے استغفار ہی کی کیوں تلقین کی؟تو آپ نے وہی آیت تلاوت کرکے فرمایا کہ میں نے اپنے طرف سے یہ بات نہیں کی ،یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کیلئے اللہ نے بتلایا ہے۔ اس کے علاوہ استغفار سے اللہ کی جو غیبی مدد شامل حال ہوتی ہے اس کے دسیوں واقعات کتابوں میں درج ہیں جن کو اس مختصر سے کالم میں درج کرنا محال ہے 
(ف۔۲)مقبولین اور مقربین کے مقامات میں سب سے بلند مقام عبدیت اور بندگی کا ہے اور دعا چونکہ عبدیت اور بندگی کا سب سے اعلی مظہرہے جس کی وجہ سے اس کو مخ العبادۃکہاگیا (یعنی بندگی اور عبادت کا مغز اور جوہر ہے)بالکل یہی حال استغفار کاہے اس بناء پر استغفار بھی اعلیٰ درجہ کی عبادت اور قرب الٰہی کے مقامات میں بلند ترین مقام ہے۔
(ف۔۳) حدیث میں حضور ﷺکے استغفارکے سلسلے میں جو بات خود رحمت دوعالم ﷺسے منقول ہے اس سے مراد صرف اسغفراللہ بھی ہوسکتاہے لیکن حضرت ابن عمرؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺیہ کہتے تھے أستغفراللہ الذی لاالہ الاّھوالحی القیوم وأتوب الیہ اسی طرح یہ الفاظ بھی ملتے ہیں ربّ اغفرلی وتب علی اِنّکَ انت التواب الغفور۔
(ف۔۳)حدیث میں حضور ْٓ 

عبدالنور فکردے ندوی

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES