dushwari

ہاشمی رضا مصباحی 

اس امر پر صرف مسلمانان نے عالم ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام مہذب اقوام متفق ہیں اور ساری تاریخ میں متفق رہی ہیں کہ عورتوں کا خاوند ایک ہی ہو نا چاہیے، آج کل کچھ شیطانی فکر رکھنے والے لوگ اس بات پر بھی معترض ہیں کہ مرد کو اگر چار عورتوں کی اجازت ہے تو عورتوں کو چار مردوں کی اجازت کیوں نہیں؟ اس کیوں کا جواب محققین نے چند پہلوؤں سے دیا ہے۔ 

عارف عزیز،بھوپال

ہندوستانی عوام ساتھ ساتھ غیر ذمہ دار اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ بارہا اپنے قومی ہیرو، مجاہدین آزادی اور دیگر رہنماؤں کی توہین کرتے رہے ہیں جیسا کہ بابائے قوم مہاتماگاندھی کے ساتھ ہوا کہ کبھی ان کی سمادھی کی توہین گئی تو کبھی بال ٹھاکرے اور آر ایس ایس کے رہنماؤں نے گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کو سچا دیش بھگت قرار دے دیا۔ ایسا ہی رویہ قومی اتحاد اور سیکولر اقدار کے علمبردار، جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں بھی اکثر وبیشتر اپنایا جاتا رہا ہے۔

مولانا مفتی محمدسلمان منصورپوری

دارالعلوم دیوبند کے انتظام کے متعلق جو بنیادی اصول طے کئے گئے ہیں ،ان میں سے دو اصول یہ ہیں کہ (۱)مدرسہ میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں ہے اس وقت تک مدرسہ انشاء اللہ ، بشرط توجہ الی اللہ چلیگا اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی جیسے جاگیر یا کار خانہ یا کسی امیر کا وعدہ ،تو پھر یوں نظر آتا ہے کہ یہ خوف ورجاء جو سرمایۂ رجوع الی اللہ ہے ، ہاتھ سے جاتا رہیگا اور امدادِ غیبی موقوف ہوجائیگی اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا۔الغرض آمدنی او رتعمیر میں ایک نوع کی بے سروسامانی رہے ۔(۲)سرکار کی شرکت اور امراء کی شرکت بھی زیادہ مضر معلوم ہوتی ہے ۔۔۔آج سے ایک سو چالیس سال پہلے لکھے گئے مذکورہ بالا اصول، تجربات کی کسوٹی پر سو فیصد صحیح اور کھرے ثابت ہوئے ہیں ۔مدرسوں کی تاریخ پر نظر اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں انہیں مدارس کا فیض پھیلا ہے اور پھیل رہا ہے جو بے سروسامانی کے امتیاز سے آراستہ ہیں،

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES