dushwari

تازہ ترین خبر:

از: ڈاکٹر مفتی عرفان عالم قاسمی

جس ملک کو ہمارے آباء و اجداد نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا آج اسی ملک میں ان کے اخلاف شدید ترین نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ اس ملک کے جمہوری نظام کا عالم یہ ہے کہ ہر طرف اکثریتی آمریت پارٹی ڈکٹیٹرشپ اور مذہبی اور تہذیبی عصبیت کا بول بالا ہے۔ اس ملک میں سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو تمام تر آئینی و جمہوری حقوق و اختیار حاصل ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں اکثریتی آمریت اور تنگ نظری کا شکار ہے۔ آج انہیں ہندو تو کے رنگ میں رنگنے اور ہندو مزاج بنا دینے کی ایک زبردست کوشش حکمراں ٹولے اور ان کی سرپرست تنظیموں کی طرف سے کی جارہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں یوگا، وندے ماترم، گیتا، پاٹھ اور سوریہ نمسکار جیسی مشکرانہ اعمال سے نئی نسل کو مانوس کیا جارہا ہے۔

(27جنوری ہالوکاسٹ کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ہالوکاسٹ یہودیوں سے متعلق دوسری جنگ عظیم کے دوران سبق آموزواقعات کاایک مجموعہ ہے۔یہودی وہ قوم ہیں جن کے بارے میں دنیا کے کسی کونے میں کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔شیکسپئر جیسے ڈرامہ نگار نے بھی ’’شائلاک‘‘نامی سود خور اور ننگ انسانیت کردارکو یہودی مذہب کا پیراہن پہنایاہے۔قرآن مجید نے یہودیوں پرجوسب سے بڑا الزام دھرا ہے کہ وہ قاتلین انبیاء علیھم السلام ہیں اور حد تو یہ کہ ان یہودیوں نے محسن انسانیتﷺ کے ارادہ قتل سے بھی دریغ نہ کیا۔دنیاپرمسلمانوں کے ایک ہزارسالہ دور اقتدارمیں یہودی بہت عافیت میں رہے اوریہ دور ختم ہوتے ہی انہوں نے اپنی سازشوں کانشانہ مسلمانوں کو ہی بنایااور فلسطینیوں کی کمرمیں چھرا جاگھونپا۔دنیا کی ہرقوم ان کی پس پردہ ذہنیت سے خائف ہے اور انہیں اپنے سے دور رکھنا چاہتی ہے اسی لیے مغربی اقوام نے انہیں اپنے ہاں جگہ دینے کی بجائے مسلمانوں کے سر پر لا تھونپاہے۔ان کی ذہنیت ،انکی تاریخ،انکے عقائد اور انکا انجام اس قرآنی آیت کا مصداق ہیں کہ ’’ہم نے ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کردی ہے‘‘۔

اے۔کے۔احسانی

یوم جمہوریہ کا قومی تہوارپورے ملک میں جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ملک کی راجدھانی دلی کے راج پتھ پر اور بہار کی راجدھانی پٹنہ کے گاندھی میدان میں شاندار جھانکیاں نکالی گئیں۔ہم نے اپنی فوجی تیاریوں اور ملکی ترقی کا چھوٹا سا نمونہ دہلی کی جھانکی میں قوم کو دکھایا تو پڑوسی ملک پاکستان بوکھلا گیا اور جنوبی ایشیا میں ہتھیارو ں کے توازن کا سوال اٹھانے لگا۔یقیناََ ہمیں دیکھ کر فخر کا احساس ہوا اور یہ اطمنان ہوا کہ ہم کسی بھی بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔اب ہم کہنا چاہیں گے کہ جشن تو ہو چکا اب ہم اپنی۶۹ سالہ جمہوریت کے تحفظ کی بات کریں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES