dushwari

نازش ہما قاسمی

ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ بابا گرمیت سنگھ رام رحیم جوبابا گیری کی آڑ میں کالے کارنامے انجام دیا تھا آج وہ دنیا کے سامنے آشکارہوکر منظر عام پر آچکا ہے۔ فیصلہ کی ہرچہارجانب سے انصاف پسند عوام پذیرائی کررہے ہیں۔ بابا کو کیفر کردار تک پہنچانے والی بے باک اور ظلم کی چکی میں پسی سادھویہ کو خراج تحسین پیش کیاجارہا ہے اور آنجہانی صحافی چندر چھترپتی کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے،جنہوں نے سادھوی کے خط کو شائع کرکے پوری دنیا کو اس بات پر مجبور کیا کہ اس جانب بھی توجہ ضروری ہے،

راحت علی صدیقی قاسمی 

آر بی آئی نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کردی ہے ، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ،دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہوگیا اور سب کو علم ہو گیا ، اس کھیل میں کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ہوا ؟سب کچھ عیاں ہوگیا ۔100لوگوں کی جانوں کا بدلہ، ہزاروں بھوک سے تڑپتے لوگوں کی محنتوں کا صلہ، شادیوں میں دشواریاں جھیلتے افراد کی تکلیف کا بدلہ سب ہندوستانی دیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے یہ جملے بھی کانوں میں گونج رہے ہیں ،نوٹ بندی میں ہندوستان کندن بن کر نکلے گا ،چند دن کی دشواریوں کو انہوں نے بھٹی سے تشبیہ دی تھی ،

مولانا مفتی محمد شفیع 

شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ آج تو سود خواروں کو بڑی سے بڑی راحت حاصل ہے ۔ وہ کوٹھیوں ، بنگلوں کے مالک ہیں، عیش و آرام کے سارے سامان مہیا ہیں، کھانے پینے اور رہنے سہنے کی ضروریات، بلکہ فضولیات بھی ، سب انکو حاصل ہیں، نوکر چاکر اور شان و شوکت کے تمام سامان موجود ہیں، لیکن غور کیا جائے تو ہر شخص سمجھ لیگا کہ سامان راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے ۔ سامان راحت تو فیکٹریوں اور کارخانوں میں بنتا اور بازاروں میں بکتا ہے ۔ وہ سونے چاندی کے عوض حاصل ہوسکتا ہے ، لیکن جسکا نام راحتہے ، وہ نہ کسی فیکٹری میں بنتی ہے نہ کسی منڈی میں بکتی ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES