dushwari

مولانا محمد الیاس ندوی

عام طورپر جب علمی دنیامیں اردوکی تشکیل اوراردوادب کی خدمات کاتذکرہ ہوتاہے تو بالعموم اس سلسلہ میں شمالی ہندہی کا ذکر ہوتاہے اوراس سلسلہ میں جنوبی ہند کے مختلف علاقوں اوروہاں کے علماء وادباء کی اس سلسلہ میں خدمات کویکسر نظرانداز کردیا جاتاہے ۔ہندوستان کی موجودہ صدی اوراس کے قبل کی صدیوں کی تاریخ اس پر شاہدہے کہ جنوبی ہندکابعض حصہ اردوزبان وادب کی خدمات کے سلسلہ میں شمالی ہند سے بڑھاہواہے، اس سلسلہ میں ہم صرف جنوبی ہندکی مشہوراسلامی سلطنت ’’سلطنت خداداد‘‘کاتذکرہ کررہے ہیں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوسکتاہے کہ آج سے دوسوسال قبل بھی یہاں کے مسلمانوں اورعام لوگوں میں اردوکے سلسلہ میں کس قدردلچسپی پائی جاتی تھی۔

نقطہ نظر:ڈاکٹر محمد منظور عالم

حکومت کی متعدد اقسام میں جمہوریت اس وقت سبھی پر فائق ہے ،دنیا کے بیشتر ممالک میں جمہوری نظام رائج ہے ،یہ طرز حکومت انسانی دماغ کی پیداوار ہے اور اس میں بظاہر اقتدار اور حکومت کی باگ دوڑ عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ، ان کے پاس کسی کو تخت پر بیٹھانے تو کسی سے چھیننے کا مکمل اختیار ہوتاہے ،متعینہ مدت پر انتخاب کا ہونا عوام کومزید طاقتور بناتاہے اوراس طرح ان کے ہاتھوں میں ہی اسٹیٹ اور ملک کا مستقبل ہوتاہے ،

سید منصورآغا، نئی دہلی

کشمیرمیں مذاکرات کے لئے مرکزی حکومت کے مقررکردہ ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر دنیشور شرماکشمیرپہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ مشن کشمیری عوام کے لئے کچھ راحت و سکون کاباعث ہوگا یاکشمیریوں پرشکنجے مزید سخت کرنے کے تدابیر سجھائے گا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ وزیراعظم نے اپنی 15اگست کی تقریر میں کہا تھا:’’ نا توگالی سے، نہ گولی سے، کشمیر کی سمسیا حل ہوگی گلے لگانے سے۔‘‘ وزیر اعظم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات نہایت قابل قدرہے۔ اگرکسی طرح یہ اطمینان ہوجائے کہ یہ بات محض سیاسی جملہ نہیں بلکہ سنجیدگی سے کہی گئی ہے اورپالیسیاں طے کرتے ہوئے یاد رہے گی اور اپنے پریوار کے نظریہ سے بلند ہوکروہ کشمیریت کو گزند پہنچائے بغیر انسانیت کا پرچم بلند کریں گے تو بڑاکارنامہ ہوگا۔ہم مایوس نہیں، لیکن جو آثار نظرآرہے ہیں وہ کچھ اطمینان بخش نہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES