dushwari

تازہ ترین خبر:

حفیظ نعمانی

کاس گنج کے شرمناک واقعہ کو 10 دن ہورہے ہیں ہمیں یقین ہے کہ ہمارا کالم شوق سے پڑھنے والے ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ ہم اب تک کیوں خاموش ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے تو ایسے ہی حالات سے متاثر ہوکر 1962 ء میں ہفت روزہ ندائے ملت نکالا تھا۔ اور برسوں ہم سے جو ہوسکا وہ ہم نے کیا اور جس قدر ہوسکا وہ ملت کے دردمندوں سے لکھوایا۔ لیکن موجودہ حکومت کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ جب اوپر سے نیچے تک سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں اور سب کچھ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے تو کیا کہیں اور کس سے کہیں؟

حفیظ نعمانی

یہ تو سب کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ راجستھان اور بنگال میں ضمنی الیکشن میں کیا ہوا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیوں ہوا؟ 26 مئی 2014 ء کے بعد سے ملک میں جو حکومت آئی ہے اس میں ایک مخصوص ذہنیت کے عناصر کو اتنی چھوٹ دی گئی ہے کہ ملک کی شناخت ہی تبدیل ہوگئی۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے تھے اور یہ بھی دیکھنے اور جاننے والے ابھی ملک میں کروڑوں ہندو ہوں گے جنہوں نے انگریزوں کی حکومت میں اور اس کے بعد بھی کافی دنوں تک ان صوبوں میں گائے کی قربانی کے لئے گایوں کی ہندوؤں کے ہاتھوں خرید و فروخت دیکھی تھی

نازش ہما قاسمی 

جس وقت ملک کے عوام حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر یوم جمہوریہ کا جشن منارہے تھے، اس وقت کاس گنج فرقہ پرستی کی ا?گ میں جل رہاتھا۔۔۔ جھوٹے وطن پرست سچے محبین وطن کو ستارہے تھے۔وطن پرستوں سے حب الوطنی کا ثبوت مانگ رہے تھے۔۔۔انہیں بھگوا جھنڈا لہرانے پر مجبور کر رہے تھے۔ انہیں وندے ماترم گانے کو کہہ رہے تھے۔ انہیں قبرستان یا پاکستان میں سے ایک کو چننے کی دھمکی دی جارہی تھی۔۔۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES