dushwari

از سمیع احمد قریشی ممبئی

مسلمانوں کی تنظیم سیمی پر پابندی کا معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ گذشتہ دنوں عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ سیمی پر پابندی کے تعلق سے پھر سے غور کرے۔ یاد رہے کہ کتنے مسلم نوجوانون کو جو سیمی سے تعلق رکھتے تھے,انہیں حکومت نے سنگین الزامات میں گرفتار کیا,سالہاسال کے بعد باعزت رہا کردیا۔ لگتا ہے کہ عدالت میں سرکار کا سیمی پر پابندی کا معاملہ عادلانہ نہ ٹھہرے,کسی اور مسلم تنظیم کو پھر قربانی کا بکرا بنا دیا جائے ۔ لگتا ہے اسی لئے پاپولر فرنٹ نشانہ پر نظر آ رہی ہے۔ 
پاپولر فرنٹ آف انڈیا مسلمانوں کی اک نئی نئی سماجی تنظیم ہے,جس کا حلقہ اثر سب سے زیادہ کیرل ریاست اور اس کے بعد کرناٹک میں ہے۔

غوث سیوانی

آزاد بھارت میں بیشتر مجاہدین آزادی کو فراموش کردیا گیامگر مولانا ابولکلام آزاد کو نہیں بھلایا گیا۔ مولانا کے نام پر کانگریس عہد حکومت میں سڑکوں اور اسکیموں کے نام رکھے گئے۔ اسکولوں،کالجوں اور اداروں کے نام منسوب کئے گئے۔مرکز میں جب غیر کانگریسی سرکاریں آئیں انھوں نے بھی مولانا کو نظر انداز کرنے کی جرأت نہیں کی اور موجودہ بھگوا سرکار میں بھی مولانا آزاد کا نام زندہ رکھا گیا ہے حالانکہ مسلمان شخصیات اور مسلم عہد کی تاریخ اس کے نشانے پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ مولانا آزاد کو کیوں فراموش نہیں کیا گیااور کانگریس سے لے کر بی جے پی تک کیوں انھیں یاد رکھنے پر مجبور ہیں؟

مولانا محمد الیاس ندوی

عام طورپر جب علمی دنیامیں اردوکی تشکیل اوراردوادب کی خدمات کاتذکرہ ہوتاہے تو بالعموم اس سلسلہ میں شمالی ہندہی کا ذکر ہوتاہے اوراس سلسلہ میں جنوبی ہند کے مختلف علاقوں اوروہاں کے علماء وادباء کی اس سلسلہ میں خدمات کویکسر نظرانداز کردیا جاتاہے ۔ہندوستان کی موجودہ صدی اوراس کے قبل کی صدیوں کی تاریخ اس پر شاہدہے کہ جنوبی ہندکابعض حصہ اردوزبان وادب کی خدمات کے سلسلہ میں شمالی ہند سے بڑھاہواہے، اس سلسلہ میں ہم صرف جنوبی ہندکی مشہوراسلامی سلطنت ’’سلطنت خداداد‘‘کاتذکرہ کررہے ہیں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوسکتاہے کہ آج سے دوسوسال قبل بھی یہاں کے مسلمانوں اورعام لوگوں میں اردوکے سلسلہ میں کس قدردلچسپی پائی جاتی تھی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES