dushwari

مفتی خلیل احمد راضی قاسمی اوسیکوی

ڈائریکٹر حکیم الامت اکیڈمی جامع مسجد مونگانگر دہلی

میرے بزرگوں اور دینی بھائیو! اس وقت پوری دنیا میں ایک خوفناک قسم کا دجالی فتنہ پوری قوت کے ساتھ اُٹھایاجا چکا ہے، دجالِ اکبر کے ہراول دستے پوری دنیا میں اس وقت کام کر رہے ہیں اور دجال کی تمہید کے انتظامات میں طاغوتی طاقتیں لگی ہوئی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات یہ ارشاد فرمائی تھی کہ قیامت تک ۳۰؍بڑے دجال ہوں گے اور ان میں سب سے بڑا دجال قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا اور یہ بات بھی ارشاد فرمائی تھی کہ ہر پیغمبر نے اپنی امت کو اور قوم کو دجال سے آگاہ کیا، اس کی خطرناکیوں سے قوم کو متنبہ فرمایا اور اس کے فتنوں سے ڈرایا اور میں بھی تمہیں اس کے فتنے سے ڈراتاہوں،

محمد آصف اقبال، نئی دہلی

یہ احساس کہ ہندوستان انگریز کی غلامی سے نجات پاکر ایک فلاحی اسٹیٹ کی حیثیت سے تمام اقوام کی ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بنے گا، ایک ایسا نظریہ تھا جس کی بنیاد پر ملک کے تمام ہی لوگوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت جنگ آزادی میں سعی و جہد کی تھی۔لیکن جب آزادی نصیب ہوئی یا اس کے آثار نمایاں ہوئے تو ملک تقسیم کی باتیں کی جانے لگیں۔بلا آخر اپنوں یا غیروں کے تعاون سے ملک تقسیم ہوا۔ٹھیک اسی وقت ایک آواز یہ بھی آئی کہ ملک جن بنیادوں پر تقسیم کیاجا رہا ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔دوسری طرف ملک کو غلامی سے آزادی دلانے میں ملک کی دونوں ہی اقوام ہندو مسلم ایک ساتھ سعی جہد میں مصروف تھے،

عبیداللہ ناصر

جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے لئے تینوں اہم کھلاڑی یعنی پی ڈی پی ، بی جے پی اور نیشنل کانفرنس نے جس طرح تمام اصولوں آدرشوں اور پالیسیوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے ہندوستانی سیاست کا بہت ہی کریہہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آرہا ہے جس میں اقتدار اور صرف اقتدار ہی سب کچھ ہے اور اس کے لئے سارے اصولوں آدرشوں پالیسیوں اور پروگراموں کو گندے کپڑوں کی طرح اتار پھینکا جاسکتاہے بی جے پی سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف کو نظر انداز کرکے جس طرح مفتی سعید کی پی ڈی پی اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے اس سے وادی کا ووٹر خود کو ٹھگا سا محسوس کررہاہے

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES