dushwari

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

آپ نے کبھی غور کیا کہ برصغیر ہندو پاک میں اکثرمسلمانوں کے نام اولیاء، صوفیہ اور صالحین کے ناموں پر کیوں ہوتے ہیں؟ آپ نے کبھی سوچا کہ سوموار کو پیر کا دن کیوں کہتے ہیں؟ کبھی آپ کا دھیان اس جانب گیا کہ ربیع الثانی کو بڑے پیر کا مہینہ اور رجب کو خواجہ صاحب کا مہینہ عرف عام میں کیوں کہا جاتا ہے؟کبھی آپ کو خیال آیا کہ اس خطے میں بزرگوں کے نام سے نیاز دلانے کا رواج کیوں ہے اور لوگ دور دور سے صالحین کے مزارات کی زیارت کے لئے کیوں آتے ہیں؟آخر کیا سبب ہے کہ ہر مہینے کئی ٹن پھول صرف صوفیہ کی قبروں پرڈالے جاتے ہیں اور ہزاروں گز کپڑوں کی چادریں ان کے مزارات پر چڑھائی جاتی ہیں؟کیا آپ نے کبھی اس خرچ کا تخمینہ لگانے کی کوشش کی ہر روز کئی لاکھ اگربتیاں اور موم بتیاں مزارات کے آس پاس سلگا دی جاتی ہیں؟

حفیظ نعمانی

2004 ء کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس نے بی جے پی اور ان کی اتحادی پارٹیوں کو شکست دے دی۔ آزادی کے بعد ہندومہا سبھا جن سنگھ پھر بی جے پی اور آر ایس ایس نے اپنی ساری طاقت جھونک دی، کانگریس کی حمایت کی سزا کے طور پر ہزاروں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیا اور دلت کہی جانے والی برادریوں کے ہزاروں غریبوں کا جینا حرام کردیا یہاں تک کہ 1977 ء آیا اور انہیں جنتا پارٹی حکومت میں حصہ دار بننا نصیب ہوا۔ لیکن ان کے سب سے بڑے اٹل جی وزیر خارجہ بن سکے اور اڈوانی جی وزیر اطلاعات و نشریات، اس سے بس اتنا ہوا کہ حکمرانی کا ذائقہ ملا اور ڈھائی سال کے بعد وہ بھی سب خاک میں مل گیا۔ اس وقت ان کی پارٹی جن سنگھ تھی۔

دیما پور میں شریف الدین اور انصاف کے قتل پر چند باتیں 

ریپ کاجھوٹا الزام وقتل اور عورتوں کے جنسی استحصال کے قانون کا ناجائز استعمال

*شکیل رشید 

ناگالینڈ حکومت کا مرکزی وزارت داخلہ کے روبرو یہ اعتراف کہ سید شریف الدین خان عرف فرید خان پرلگایاگیا ریپ کا الزام جھوٹا تھا، آسامی تاجر کے ’بے رحمانہ قتل‘ کی واردات کے ’سچ‘ کو پوری طرح سے عیاں کردیتا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ قبول کرلیا ہے کہ جس عورت نے مقتول پر ’ریپ‘ کا الزام عائد کیاتھا وہ اپنی مرضی سے ساتھ گئی تھی، نہ صرف گئی تھی بلکہ پانچ ہزار روپئے بھی ’قبول‘ کیے تھے لیکن وہ دولاکھ روپئے کا تقاضہ کررہی تھی یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ مقتول کو ’بلیک میل‘ کررہی تھی اور جب اسے روپئے نہیں ملے تو ’ریپ‘ کا جھوٹا الزام عائد کرکے اسے پہلے تو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا پھر ’مشتعل ہجوم‘ کے ہاتھوں اسے قتل کرایا۔ اس معاملے کے دو اہم پہلو ہیں۔ قتل اس لیے کیاگیا کہ یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر مقتول سلاخوں کے پیچھے سے باہر آگیا تو سارا سچ دنیاسامنے آجائے گا ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES