dushwari

ریاض عظیم آبادی

ان کا نام ہے قدوس احمد خاں برکاتی۔لوگ انہیں برکاتی چچا کے نام پکارتے ہیں۔چھوٹے سے گاؤں میں انکے ملاقاتی بھرے ہوے تھے۔جب کسی کو چائے کی حاجت ہوتی برکاتی چچا یہاں بن بلائے مہمان کی طرح نازل ہو جاتے۔چائے وائے پیتے کھاتے اور اپنے گھر کی راہ لیتے۔چونکہ انکا گاؤں پٹنہ شہر کے قریب تھا شاعر ادیب اور دانشوروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔چچا نے اپنی لڑکیوں کی شادی کر فراغت پا لی ہے،سبھی داماد سعودی کے کسی شہر میں نوکری کر رہے ہیں۔جائداد کافی ہے اوپر داماد اور بیٹے ہر ماہ روپیہ بھیجتے رہتے ہیں۔

مولانا علاؤ الدین ندوی

کسی پتّے کی ہریالی اور تازگی اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب تک وہ شاخ شجر سے پیوستہ ہو ، جب تک یہ پیوستگی برقرار رہتی ہے وہ درخت کی جڑ سے پانی اور تازگی حاصل کرتارہتا ہے اور ایک عظیم وجود کا ایک حصہ ہوتا ہے، جب وہ اپنے اصل سے کٹ جاتا ہے تو اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔ یہی حال دین میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کا ہے ائے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو ، جب کہ وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہو ۔ ( انفال ۔ ۲۳)ایمان وہ بیج ہے جو قلب مومن کی کشت و یران میں ڈال دیا جائے اور عمل صالح کا اسے پانی دیا جائے تو ایک دن وہ تنا ور درخت بن جاتا ہے ۔

جناب علیم احمد

نظام کائنات سے لیکر ہمارے جسم کی گہرائیوں تک اللہ تعالی کی نشانیاں جا بجا بکھری پڑی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی بھی صاحب عقل و فہم ا س اعلی ٰ ترین وجود کو پہچان سکتا ہے اس کے با وجود بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے وہ اللہ تعالی کے وجود کا انکار کرتے ہوئے ، تمام حدو ں سے گز ر چکے ہیں ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نشانیاں دیکھ کر بھی انہیں محض اتفاقات کا حاصل قرار دینے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES