dushwari

اطہرمعین ندوی

جولائی کے مہینے میں بارش کی ایک شام میں اپنے سینئر مگر بے تکلف ساتھی نایاب حسن قاسمی کی رہا ئش گاہ پر بیٹھا ان سے محو گفتگو تھا کہ اچانک میری نظر سلمان عبد الصمد کی تخلیق ’’لفظوں کا لہو‘‘(دوسرا ایڈیشن)پر پڑی۔ تخلیق کارسے ناواقفیت کے باوجود کتاب کو پڑھنے اور تخلیق کار کو جاننے کا شوق ہوا۔پھر کیا تھا ان سے اجازت لے کر اپنی قیام گاہ لوٹا۔ ناول میں ایسی کشش اورجاذبیت تھی کہ بعض اہم مصروفیات کے باوجود صرف دو یا ڈھائی دن میں مکمل ناول پڑھ لیااوراس کے متعلق بے ساختہ چند جملے جو میرے ذہن میں آئے ، انھیں سپرد قلم کر دیا ۔ 

نازش ہما قاسمی

بہار میں ان دنوں نیپال سے آئے ہوئےسیلاب نے تباہی مچارکھی ہے۔۔۔ہر ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ ۔۔۔۳۸اضلاع میں سے 13 اضلاع بالکل غرق ہوچکے ہیں ۔۔۔ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔۔۔ہر طرف پانی ہی پانی طوفان نوح کا منظر پیش کررہا ہے۔۔۔لاشیں تیر رہی ہیں ۔ بچے بلک رہے ہیں ۔۔۔گزشتہ تیس سالوں 1987 کے بعد سے یہ سب سے بڑا سیلاب ہے بلکہ سن ستاسی کا بھی اس نے ریکارڈ توڑ دیا ہے۔۔۔

مولانا بدرالحسن قاسمی

عام طور پر لوگ اسراف اور فضول خرچی کے خوگر یا تو شریعت کی تعلیمات سے جہالت کی وجہ سے ہوتے ہیں یا گھریلو ماحول ، عیش و عشرت کا ہوتاہے یا ایسے لوگوں کی صحبت میں آدمی پڑ جاتا ہے جو اسے غلط راہ پر ڈال دیتے ہیں ، کبھی دنیاکے بارے میں نا تجربہ کاری بھی انسان کو فضول خرچی کی راہ پر ڈال دیتی ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص تنگ دستی اور عسرت کی زندگی میں ہوتا ہے کہ اچانک اسے کہیں سے ناگہانی دولت مل جاتی ہے اور وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا ،

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES